تعلیم و تعلم، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تعلیم و تعلم، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 1 اگست، 2016

اسلامی یونیورسٹی مکافات عمل کے گرداب میں


تاریخ شاہد ہے کہ جب اہل حق سچی بات کہنے سے اعراض کرنے لگیں یا حق بات کرنے والوں کے خلاف معاشرہ یک جان ہوکر ظالم و طاقت ور کی ہمنوا بن جائے تو ایسے میں اس سماج کی پستی و تنزلی یقینی ہوجاتی ہے۔ایساہی معاملہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک مدت سے جاری ہے مگر اس پر ظالموں کے ظلم پر مجرمانہ خاموشی اور ظالم کی مدد کرنے کا رویہ اپنے اقبال عروج پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ تلک الایام نداولہا بین الناس’’لوگوں پر ایام (دنوں) کوتبدیل کیا جاتاہے‘‘۔اسلامی یونیورسٹی میں فردواحد کرپشن و لاقانوینیت ،رشوت بازاری اور گھٹیا سیاست و فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے خلاف آواز حق بلند کرئے تو اس کو مسل دیا جاتاہے جبکہ اگر طلبہ ہوں یا اساتذہ،آفیسر ہوں یا ملازمین اگر ناجائز مؤقف ومطالبات جو کہ ان کے شخصی و تنظیمی مفادات پر مبنی ہوں پر بھی یک قلب و جان ہوکر ندائے بلند کریں تو سبھی ان کی قدم بوسی کیجاتی ہے۔
حال ہی میں اسلامی یونیورسٹی میں تین اہم واقعات پے درپے رونما ہوئے اول اساتذہ کی ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا کہ ان کو اساسی و بنیادی حقوق جو دیگر یونیورسٹیوں میں استاذوں کو حاصل ہیں ان سے محروم رکھاگیا ہے۔اس سلسلہ میں نمایاں طورپر وہی اساتذہ جو طلبہ کو تختہ مشق بناتے ہیں ،صدر جامعہ اور اس کے اعلی کاروں کی خواہش پر طلبہ کو یونیورسٹی سے بے دخل کرتے ہیں پیش پیش تھے،جس میں ڈاکٹر نوید اقدس ملک ،ڈاکٹر ظفر اقبال،ڈاکٹر ظاہر خلیلی،ڈاکٹر منور اقبال گوندل قیادت کرتینظر آئے۔جناب والا یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ
ظلم پھرظلم ہے بڑھتاہے تو مٹ جاتاہے
آپ نے جب طلبہ کے خلاف ناجائز ایکشن لیا اور ان کو یونیورسٹی سے بے دخل کیا اور ان کے مستقبل کو تباہ و برباد کیا اور ان کے پاک و صاف دامن پر گندگی لگانے کی سعی کی تو رب کریم کا بنایا گیا قانون مکافات عمل تو موجود ہے اس سے پہلوتہی و ناواقفیت کی سزا تو آپ کو ضرور ملے گی۔
دوسرا معاملہ سوشل میڈیا پر ضرور شور سے جاری ہے جس کے نتیجہ میں ایک فی میل طلبہ کے ساتھ نامناسب تعلق قائم کرنے کی کھٹیا کوشش و خواہش ایڈمن و اساتذہ کی طرف سیظاہر ہوئی جس پر اس طلبہ نے احتجاجاً فیس بک کا سہارا لیا اور اپنی مظلومیت کا رونارویا جس پر کافی طویل بحث و تمحیص تاحال جاری ہے اور اس بارے میں بھی چہ مگوئیاں ہیں کہ یہ اکاؤنٹ فیک ہے اور ایسا کوئی معاملہ ہوا ہی نہیں ہے اور اس کی مزید حقیقت مستقبل قریب میں کھل کر واضح ہوجائے گی۔البتہ میں اتنا ضرور لکھنا چاہتاہوں کہ میرے آٹھ سالہ تجربہ و مشاہدہ سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں اساتذہ،انتظامیہاور یہاں تک کے صدر و ریکٹر تک کے لوگوں کے بارے میں کیسز سامنے آئے کہ وہ طالبات سے ناجائز تعلقات قائم کرتے نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ میں کچھ کرداروں کے خلاف ایکشن بھی لیا گیا مگر وہ ایکشن اعزاز و تفاخر سے کم نہ تھا کہ مکمل عزت و احترام کے ساتھ ان کو ریٹائر کردیا گیا ۔ابھی بھی بہت سی گھتیاں سلجھنا باقی ہیں۔طالبات کے ساتھ غلط تعلقات قائم کیے جاتے ہیں مگر اس کا اظہار اغلب اکثریت اس لئے نہیں کرسکتی کہ ان کے مستقبل پر بہت بڑا داغ ثبت ہوجائے گا۔
یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ اگر فیک اکاؤنٹ سے کوئی آواز بلند کی گئی ہے تو اس سے تغافل برتاجائے نہیں عین ثواب ہے کہ مسئلہ سچا و درست ہو مگر وہ طالبہ اپنی عزت و عصمت کا تحفظ کرنا چاہتی ہو تو لہذا اچ ای سی اور وفاقی محتسب کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کی غیرجانبدارانہ طور پر تحقیقات کرائے ۔تاکہ اسلامی یونیورسٹی کے نام پر بدنما داغ و کلنک لگانے والے عبرت کو نشان بنیں۔
تیسرا مسئلہ بھی اول مسئلہ کے مشابہ ہے اور مجھے حیرت ہورہی ہے کہ جس جماعت کے اتحاد و کوششوں سے ڈاکٹر ظفر اقبال اساتذہ کی ایسوسی ایشن کے صدر بنے اسی جماعت کے طلبہ آج سرپائے احتجاج ہیں کہ ان کے خلاف کاررائی کی جائے ۔بہر حال معاملہ جو بھی ہو اسلامی جمعیت طلبہ سمیت تمام طلبہ تنظیموں سے التماس و گذارش ہے کہ جائز مقاصد کے لئے ڈٹ جانا چاہیے ،عمرہ پیکج،فیس کی معافی،ہاسٹل کمروں کی ناجائز الاٹ منٹ،صدر جامعہ اور اس کے حواروں کی کاسہ لیس ترک کرکے طلبہ کے حق کی آواز کو بلا کسی مصلحت غیر بلند کرنے کو اپنا شعار بنائیں خواہ وہ طالب علم فکر و نظر میں آپ کا ہمنوا ہے یا نہیں اگر وہ بات درست کررہاہے اور اس کے ساتھ اس لئے زیادتی و نا انصافی کی جارہی ہے کہ وہ اکیلا ہے تو اس کو کچل دیا جائے تو آپ کو اس کی جائز معاملات میں مدد کرنی چاہیے۔جس کا اجر آپ کو وہ طالب علم دینے سے رہامگر روزمحشر کونواقوامین بالقسط ’’ہوجاؤ انصاف و عدل قائم کرنے والوں میں سے‘‘کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اجرعظیم عطافرمائیں گے۔
دیس کی بات
عتیق الرحمن
atiqurrehman001@gmail.com
0313-5265617

جمعرات، 18 فروری، 2016

طلبہ یونین کی بحالی معاشرتی ترقی و سربلندی کے لئے امر لازم



تحریک خلافت و تحریک آزادی و تحریک کشمیر اور تحریک پاکستان میں سرگرم عمل رہنے والوں میں نوجوان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔مسلم لیگ کا شعبہ طلبہ نہایت سرگرم و عمل رہاہے جس کے نتیجہ میں مسلم لیگ کے جلسوں اور کانفرنسوں کے تمام انتظام نوجوان ہی سنبھالتے تھے۔جس کا اعتراف و ثبوت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ علامہ اقبال و قائد اعظم نے نوجوانوں کے زیراانتظام منعقدہ کانفرنس میں بخوشی شرکت کی ۔معاملہ علامہ اقبال کا تو مزید آگئے بڑھا ہواہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کا محور و مرکز اور خطاب بھی نوجوانوں کو بنایا جنہیں مختلف انداز سے مخاطب کرتے رہے کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ برصغیر کی آزادی اور انگریز کی بے دخلی کے لئے اساسی و اہم کردار نوجوانوں کا ہی ہے۔اس لئے انہوں نے نوجوانوں سے متعلق یہ شعر بھی کہا تھاکہ:
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہوگرم رکھنے کا ہے اک بہانا
یعنی کہ علامہ یہ جانتے تھے کہ ان کا شاہین و جاوید ہی وہ قوت و طاقت اور صلاحیت رکھتاہے کہ اپنی محنت و سعی سے انگریز کو اس خطے سے ناصرف بے دخل کردے گا بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کے لئے بھی یہی شاہین قائدانہ کردار اداکرے گا بدقسمتی سے کہنا پڑتاہے کہ سرمایادار و سردارطبقوں نے طلبہ و نوجوانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو مقید کرنے کی کوشش کی مگر جب ایوب خان کو اس وقت ناکامی ہوئی تو یہ فریضہ مارشل لاء کے ذریعہ جنرل ضیاء الحق نے طلبہ یونین پر پابندی کا اعلان کیا ۔اس کے سببب معاشرے میں مساوات و برابری کا خاتمہ ہوگیا کیوں کہ سیاستدانوں اور سرداروں کے مدمقابل آنے والے طبقے کو ختم کردیا گیا جس کے سبب ملک پاک بے پناہ مسائل سے دوچار ہوا۔مملکت سے احتساب کے عمل کا خاتمہ ہو گیا۔
اس امر میں شک و شبہ نہیں ہے کہ سماج کے دیگر شعبہ جات کی طرح کالی بھیڑیں اور غلط لوگ طلبہ کے طبقہ میں بھی موجود ہیں جن کا مقصد تعلیم و تربیت اور اسلام و ملک کی خدمت ہرگز نہیں ہوتابلکہ وہ اپنی ذات اور مادہ پرستی کے سحر میں گرفتار ہوتے ہیں جس کے باعث وہ اپنی قوت و صلاحیت اور طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں ۔لیکن یہ امر اس جانب لے جانے کا سبب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم طلبہ یونین اور نوجوانوں کے ان کے حق آزادی سے ہی محروم کردیں ۔باوجود اس کے کہ ملک کے تمام طبقات کو سیاسی و مذہبی ،لسانی و قومی ،تجار و لیبر کواور ملک کے تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں میں تمام کام کرنے والوں کو یونین قائم کرنے کی اجازت موجود ہے مگر صرف اور صرف طلبہ کے حقوق کوجبرا ًغصب کیا گیا ہے اور یہ امر ظلم عظیم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار میں کمی واقع ہوئی ہے کہ اساتذہ و منتظمین بلاخوف و تردد من چاہی زندگی بسر کررہے ہیں اور مال و زر کے ذریعہ درجات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی حراساں تک کرنے کے واقعات اس مقدس پیشہ کو مجروح کیے ہوئے ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ملاک پاکستان کے بیشتر اداروں میں ملازمتوں سے فارغ ہونے کے باوجود بزرگ لوگ مناصب پر قابض و براجمان ہیں کیوں کہ نئی نسل کے پاس قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے اوراسی سبب ملک میں تشدد و عدم برداشت کا عنصر فروغ پارہاہے۔ایسے میں لازم ہوجاتاہے کہ اگر ہم واقعتاً مخلص ہیں اپنے وطن اور ملت کے ساتھ تو ان کے نوجوانوں کو آزادی رائے کا موقع دیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔
طلبہ تنظیمیں گاہے بگاہے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک پاکستان کا سپریم ادارہ سینٹ بھی گذشتہ ماہ طلبہ یونین کی بحالی کے مسئلہ پر غور کرنے پر مجبور ہوا اور اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ طلبہ یونین کو فی الفور بحال کیا جانا چاہیے ۔ایوان سینٹ میں طلبہ کے حقوق کے حق میں اپوزیشن و حکومت کے سبھی ارکان متفق تھے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا طلبہ کے دکھوں کا مداوا ہوگا یا پھر ماضی کی حکومت کی طرح اس بار بھی طلبہ کے جذبات کو سرد کرنے کے لئے لیت و لعل سے کام لیا جائے گا۔سینٹ میں طلبہ یونین کا موضوع زیر بحث آنے کے سبب طلبہ تنظیمیں بھی متحرک ہوگی ہیں کہ انہوں نے طلبہ یونین کی بحالی کے لئے پریس کانفرنسوں ،پریس ریلیز اور مظاہروں کا سلسلہ ملک کے طول و عرض میں شروع کردیاہے۔اس سلسلہ میں اسلامی جمعیت کے نومنتخب ناظم اعلیٰ صہیب الدین کاکاخیل نے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد طلبہ یونین کو بحال کرکے ان کے الیکشن کروائے جائیں۔
جمہوری حکومت میں طلبہ یونین کی عدم بحالی جمہوری روایات کا قتل عام ہے۔تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے جمیع مسائل کا حل طلبہ یونین کی بحالی میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ یونین پر پابندی کی وجہ سے ہی تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا،تعلیم کو طبقات میں تقسیم کرکے غریب و نادار طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند کردئے گے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ میں طلبہ یونین کا مسئلہ زیر بحث آنا خوش آئندہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عملی قدم اٹھاتے ہوئے طلبہ یونین کو بحال کرے تاکہ تعلیمی اداروں سے بدمزگی و تشدد اور عدم پرداشت کے عنصر کا خاتمہ ہوسکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت تعلیمی شعبہ کو درست و بہتر کرنے میں مخلص نہیں جس کے سبب وہ حیلے بہانوں سے طلبہ و اساتذہ کو امتیازی سلوک کا نشانہ بناتے ہیں ۔دن بدن شعبہ تعلیم ملک میں کمزور ہوتاجارہاہے اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر اساتذہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کو اختیار کریں گے تو کیوں گر ممکن ہے کہ شعبہ تعلیم اور تعلیم ترقی کرے۔
اسی طرح طلبہ کی ایک تنظیم انجمن طلبہ اسلام نے ”طلبہ یونین ”پر پابندی کے خلاف اسلام آباد میں یوم سیاہ منایا اور انہوں نے سپرمارکیٹ سے نیشنل پریس کلب تک ریلی نکالی جس کی قیادت اے ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سید وقار شاہ ،اسلامی یونیورسٹی کے ناظم فیاض حسین مصطفائی نے کی اور انہوں نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی کالا قانون ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور طلبہ یونین کو بحال کریں تاکہ طلبہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کرسکیں۔اے ٹی آئی نے ساتھ ہی حکومت ،ایچ ای سی اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے یک نکاتی مطالبے کو منظور نہ کیا گیا تو اگلے مرحلے میں وہ تعلیمی کلاسز کا بائیکاٹ کریں گے تاوقتیکہ حکومت طلبہ یونین کے الیکشن پر سے پابندی ختم کردے۔
میں یہ سمجھتاہوں کہ ملک پاک کی سبھی چھوٹی بڑی طلبہ تنظیمیں ”طلبہ یونین”پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتی ہیں تو ایسے میں لازمی ہے کہ حکومت طلبہ کی صلاحیتوں کو جلابخشنے کے لئے طلبہ یونین کے الیکشن کا جلد سے جلد اعلان کرے۔اور جہاں تک بات رہی ہے کہ طلبہ یا طلبہ تنظیموں میں متشدد اور انتہاپسند یا ذاتی مفادات کے حصول کے لئے طلبہ کی قوت کا ناجائز استعمال کرنے والوں کی تو حکومت اور انتظامی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے طلبہ پر کڑی نظر رکھیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔طلبہ تنظیموں پر بھی ضروری وواجب ہے کہ وہ اختلاف جماعت کوافتراق و نفرت کے درجہ تک نہ پہنچائیں بلکہ باہم انسانیت اور اسلامیت کے سبب محبت و موددت کے رشتے کو فروغ دیں اور ان کی صفوں میں موجود غلط لوگوں سے خودہی رضاکارانہ طورپر برأت کا اعلان کریں ۔کیوں کہ ہمارادین ہمیں اسی بات کی تلقین کرتاہے کہ ہم حق و سچ کا ساتھ دیں اگرچہ وہ ہماری ذات یا خاندان و والدین کے خلاف بھی کیوں نہ ہو،یہی امر ہم سب طلبہ کے لئے امید سحر کا سبب بنے گا۔
تحریر : عتیق الرحمن
0313-5265617
atiqurrehman001@gmail.com

جمعرات، 26 نومبر، 2015

تزکیہ و تربیت سے خالی تعلیم کے نقصانات

رب کریم نے نبی مکرم ۖ کی بعثت فرماتے ہوئے پہلی وحی جو نازل کی اس میں تعلیم کی اہمیت، اس کے مقاصد اساسیہ،اس کے حصول کے ذرائع کو شاندار انداز میں بیان کر دیا ”پڑھ اپنے رب کے نام سے جو پیدا کرنے والا ہے، پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے ،پڑھ عزت والے رب کے نام سے، وہ جس نے تعلیم سیکھائی قلم کے ذریعہ سے، انسان کو وہ تعلیم دی جس کو وہ نہیں جانتاتھا”۔سورہ علق کی ان پانچ آیات میں تعلیم اور اس کے مشتقات اور اس کے اغراض و مقاصد کو کھولے انداز میں بیان کر دیا گیا۔ امت محمدیہ کا رشتہ علم کے ساتھ ایسا وابستہ کردیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی چھوٹ نہیں سکتا بالاضافہ اس بات کے کہ اللہ نے انسان کو کائنات کی تمام مخلوقات پر جو فضیلت دی اس کا بنیادی سبب بھی علم سے واقفیت کی وجہ سے ہی ہے۔

فرشتوں کو(جو کہ نورانی اور معاصیات سے پاک مخلوق ہے ) انسان(باوجود اس بات کے رب ذوالجلال کے علم میں تھا کہ انسان دنیا میں انتشار و فسادات کو بپاکرنے کے ساتھ گناہوں کا مرتکب ہوگا) کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا ۔سورہ البقرہ میں اس مکالمہ کا ذکر موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے مابین ہوا ۔اللہ رب العزت نے جب فرشتوں کا امتحان لیا وہ عاجز ہوگئے اور حضرت آدم علیہ السلام کامیاب ٹھہرے بالآخر فرشتوں نے ان کو سجدہ کیا۔یہ فضیلت و منزلت علم ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی کہ انسان مسجود ملائک بنا۔
Islamic Teachings
Islamic Teachings
سورہ علق کی آیا ت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ علم وہی علم ہے جس میں رب کائنات کی رضا کا حصول مضمر ہو ،دنیا کا کوئی علم فی نفسہ مضر یا نقصان دہ نہیں ہے ہاں جب اس کی ٹہنی کو غیر اللہ کی جانب سے حرکت دی جائے گی اور اس کو حاصل کرنے کا مقصد دنیا میں خود کومستعلی کرنے کی کوشش کی جائے گی ،ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرکے کمزور و ناتواں لوگوں پر مصائب ڈھائے جائیں گے ،یا علم کو حاصل کرنے کے بعد انسانیت کے حقوق کو غصب کیا جائے گا،یا علم کے آجانے کے بعد مادر پدر آزادی کی لہر کو فروغ دیاجائے گا،یا پھر اسلامی تعلیمات اور اس کے تہذیب و ثقافت کو کمتر جانتے ہوئے غیراللہ کی اندھی تقلید کی جائے گی تو ایسے میں لازم ہوگا کہ یہ علم فائدہ دینے کی بجائے انسانیت کو ہلاکت کی تہوں میں داخل کرنے کا موجب ہوگا ۔جیساکہ عصر حاضر کا مشاہدہ بتاتاہے کہ انسان نے خود ہی اپنی ہلاکت کا سامان تیار کرلیا ہے۔
پہلی و دوسری جنگیں اس بات کی شہادت ہیں اور اسی طرح ایٹمی مواد کے تیار ہوجانے کے بعد دنیا کا ہر گوشہ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔اسی وجہ سے سورہ علق کی پہلی دوآیات میں علم کے حصول اور اس کے رب عظیم کے ساتھ رشتہ و تعلق کی اہمیت کے ساتھ انسان کو بتادیا گیا ہے کہ انسان کو متکبر و گھمنڈ کارویہ اختیار کرنے کی چنداں حاجت نہیں کیوں کہ انسان کی اصل و اساس پانی کے ایک گندے قطرے کے بعد خون کے لوتھڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں تاوقتیکہ وہ اپنی بعثت و تخلیق کے مقصد پر اپنی زندگی بسر کرنا شروع نہ کردے ۔قرآن میں بیان ہواہے کہ ”ہم نے پیدانہیں کیا انسان کو مگر اپنی عبادت کی خاطر”۔احادیث مبارکہ میں بھی حصول کی اہمیت اور اس کے مقصد و مطلب کو واضح کیا گیا ہے۔”علم حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے”و”میں معلم بناکر بھیجا گیاہوں”و”اے اللہ علم نافع عطافرما” جیسی بے شمار احادیث نبویۖ اور دعائیں موجود ہیں۔
تیسری آیت میں بیان کردیا گیا ہے کہ پڑھنے کے بعد واجب ہے کہ ہم انسانیت کے ساتھ متواضع کے رویہ کواختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ بھلائی و ہمدردی اور نیکی و تکریم کا تعلق استوار کریں۔کیوں کہ جو علم اسے دیا گیا ہے یہ علم کریم و عزت والے رب کی جانب سے ملا ہے ۔اس علم کو انسانیت کی خدمت اور ان کی دست گیری کا ذریعہ بناناچاہیے نہ کہ اس کے بعد انسان مارے غرور کے حیوانیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے صرف اپنے مفادات کے تحفظ کو تو یقینی بنائے چاہے اس کے سبب دوسروں کے گھر ویران و تاریک ہوتے ہوں۔گویا کہ اس آیت میں اللہ رب العزت انسان کاتزکیہ فرمارہے ہیں کہ علم کے حصول کے بعد مادہ پرستی کا دامن نہ تھام لینا اور اس کے ساتھ سرکشی و بڑائی کو اپنا شعار نہ بنالینا کیوں کہ اسی کے سبب شیطان کو تاقیامت مردود اور جن و انس اور کائنات کی تمام مخلوقات کی لعنت کا مستحق بنا دیا گیا۔
Allah
Allah
چوتھی اور پانچویں آیت میں اول تو علم کے حاصل ہونے کے اہم ترین ذریعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ آگے واشگاف الفاظ میں اللہ نے انسانیت کی استعداد و صلاحیت کی بنیاد کو بیان کردیا کہ جوکچھ تم جانتے ہو وہ ہمی نے تم کو بتایا اور سیکھلایا وگرنہ تم تو جانتے ہی نہ تھے ۔اس بات کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو اپنا سینہ اس بات پر چوڑا کرنا چاہیے جو اس کی اپنی تخلیق ہو اور وہ چیز کسی اور کے پاس موجود نہ ہو اور اس نے یہ کسی کی مدد و نصرت کے بغیر حاصل کیا ہو ۔اور یہ امر ایسا ممکن ہی نہیں تو لٰہذا امر واقع ہے کہ انسان کو عاجزی کو اپنا چاہیے۔
مندرجہ بالاگذار شات کودرج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام وہ دین متین ہے جس نے نہ صرف علم کی اہمیت کو ببانگ دہل بیان کیا اور اس کے حصول پر زور دیا بلکہ اس کے حدود اربع کو بھی متعین کردیا کہ یہ حد فاصل ہے علم رحمانی اور علم شیطانی کے مابین جو علم رحمانی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے گا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائے گا وگرنہ ابدی لعنت اور ناکامی کا مستحق ٹھہرے گا۔
اللہ جل جلالہ نے قرآن میں حضورۖ کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ” ہم نے امیین (ان پڑھ)میں رسول بناکر بھیجا انہیں میں سے ہیں وہ تلاوت کرتے ہیں آیات کی ،اور تزکیہ کرتے ہیں،تعلیم دیتے ہیں کتاب و حکمت کی ۔۔۔۔۔الخ”اس آیت میں اور اس جیسی دیگر آیات میں اللہ نے نبی کریم ۖ کی چار صفات کا ذکر کیا ہے جن کی تعلیم دینا آپۖکے فریضہ میں شامل تھا۔اول ۔آیات کی تلاوت۔ثانی۔ تعلیم کتاب۔ثالث۔ تعلیم حکمت و دانشمندی ۔رابع ۔تزکیہ ۔علم کا رشتہ جب تک تزکیہ کے ساتھ استوار و قائم رہے گا اس علم کے ذریعہ انسان عروج کے اقبال تک پہنچے گا اور جب علم سے تزکیہ کے رشتہ کو کاٹ دیا جائے گا تو یہ علم ضلالت و گمراہی اور انسانیت کی کشتی کو ڈبودینے کا سبب بھی بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی اللہ کی ناراضگی ہمیشہ کا مقدر بن جائے گی۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج کل کے تمام تعلیمی ادارے بالخصوص حکومتی و عصری تعلیمی اداروں کا رشتہ تزکیہ سے کٹا ہوا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ طالب علم استاذ پر دست درازی ، والدین ،اساتذہ ،بڑوں ،دوستوں اور رشتہ داروں کی عزت و تکریم سے تہی دامن ہوچکا ہے ۔اور اسی کابدیہی ومشاہداتی نتیجہ ہے کہ معاشرہ عدم اطمینان کی کیفیت سے دوچار ہے اور کرپشن،لوٹ مار ،چوربازاری،دھوکہ دہی و بددیانتی کا رواج عام جاری و ساری ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ علمی چوری ،مالی خیانت کو عزت و منزلت کے حصول کے لئے گنہونے جرم کو بھی کر گذرنے میں کوئی حجاب نہیں کرتے ۔آئے روز اخبارات و ٹی وی پر خبریں چلتی ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں طالب علم یا فلاں طالبہ نے خودکشی کرلی ہے او ر اس کے متعدد اسباب بیان کیے جاتے ہیں کہ محبت میں ناکامی پر یا گھریلوناچاقی پر،شادی بالجبر کے اندیشے پر خودکشی کی گئی ہے مگر ایک اہم نقطہ کو ہمیشہ نظروں سے اوجھل رکھاجاتاہے کہ اس حدتک پہنچنے کا ذریعہ کونسا سبب بناہے شاید کبھی کسی نے اس پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا جبکہ یہ امر مسلتزم ہے کہ جب آپ بانجھ و غیر مئوثر اور ناکارہ تعلیم جو تزکیہ و تربیت سے خالی ہوگئی کو حاصل کرنے والے طالب علم یا طالبہ سے یہ کسیے امید رکھ سکتے ہیں کہ اس میں اخلاقیات سے عاری سرگرمیاں ،یورپ و مغرب کی تقلید میں مشغول ہوتے ہوئے عشق و معاشقہ کی لعنت سے دور رہ سکتے ہیں۔
تعلیم وہ مطلوب ہے جو تزکیہ و تربیت کے ساتھ مربوط ہو اور استاذ صرف کتاب کو رٹوانے یا ازبر کروانے اور امتحانات میں کامیابی کے چور راستے بتانے کا مکلف نہیں بلکہ یہ وہ منصب ہے کہ جس پر فائز ہونے والے کی ابدی کامیابی کا انحصار اور معاشرے کی ترقی و فلاح کا منبع تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات ہوتے ہیں ۔اگر ان کی خط مستقیم پر رہنمائی و نگہبانی نہیں کی گئی تو مسلم معاشرہ ہمیشہ کی ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوجائے گاجس کا آغاز بڑی سرعت کے ساتھ پروان چڑھ رہاہے اس کے سامنے بندھ باندھنے کا واحد ذریعہ تعلیم ہے اوروہ تعلیم جس کا تعلق و رشتہ تزکیہ و تربیت کے ساتھ اٹوٹ ہو۔
Attiq-ur-Rehman
Attiq-ur-Rehman
تحریر: عتیق الرحمن (اسلام آباد)
ایم فل ریسرچ سکالر
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

جمعرات، 21 مئی، 2015

حکومت اور HECاسلامی یونیورسٹی میں جاری علم دشمنی کا نوٹس لے!


بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پاکستان عالم اسلام کا ایک منفرد و مایہ ناز تعلیمی ادارہ ہے ۔اگر ہم یہ کہیں کہ یہ مصر و سعودیہ کے بعد عالم اسلام کا تعلیم کے میدان میں تیسرا قبلہ ہے تو غلط و بے جا نہ ہوگا۔اسلامی یونیورسٹی میں تقریبا تیس سے زائد ممالک کے طلبہ و طالبات اپنی تعلیم کی تشنگی کو مٹانے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ان طلبہ میں سے بہت سے متوسط و کم سرمایہ ممالک سے آئے ہوئے ہیں یہاں تک کہ ان کے تعلیمی اخراجات ان کی بوڑھی ماں برداشت کرتی ہے تاکہ ان کا بیٹا اس عظیم اسلامی درس گاہ میں دینی تعلیم حاصل کر کے اپنی والدہ محترمہ کی نیک تمناؤں پر پورا اتر سکے اور اس امر کا خالص مقصد رضا للہ ہی ہوسکتاہے اور ہے بھی۔ اسلامی یونیورسٹی میں دینی و دنیاوی تعلیم میں کوئی انفرادی و امتیازی حیثیت حاصل کرنے یا اس کے حصول کی جدوجہد کرنے کی بجائے یہ تعلیمی ادارہ مروجہ دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح مال بٹورنے کا مرکز بن چکا ہے۔
اسلامی یونیورسٹی گذشتہ چندسالوں سے ایک تعلیمی ادارے کی بجائے سیاسی اکھاڑے کا منظربن چکا ہے،جس میں ہر کوئی سیکولر و لادین طبقے اور تنگ نظر اور خودپسند دین کی تفہیم رکھنے والے افراد اس کو اپنے ناپاک عزائم کے لیے استعمال کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ یہاں پر کبھی ایران کی بالادستی رائج کرنے کی جدوجہد ہوتی ہے تو کبھی سعودیہ عرب اپنا حکم مسلط کرنے کی کوشش کرتاہے۔اسلامی یونیورسٹی میں سیاسی عنصر اس حد تک قوی و مضبوط ہوچکا ہے کہ طلبہ تنظیمیں،اساتذہ تنظیم،ملازمین کی تنظیم ایک دوسرے پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے ۔آئے روز کے احتجاجی مظاہرے،تنظیموں کے سیاسی و مذہبی ،نسلی و قومی عصبیت پر مبنی پروگرامات سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔
حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ جاری ہوئی ہے جس کو مکمل طور پر درست تسلیم و حق نہیں سمجھاجاسکتاالبتہ اس امر تک مجھے اتفاق ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ اپنی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کو اداکرنے میں بے پناہ حدتک ناکام ہوچکاہے اور اس کے اصلاح احوال کی ضرورت ہے ۔مندرجہ ذیل تحریر میں اس ادارے میں موجود لاتعداد خرابیوں میں سے چند کا اجمالاً ذکر کیا جاتاہے ۔اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ دیانت داری و نیک نیتی کے ساتھ ان امور کا جائزہ لے گی اور جن اصلاحات کی حاجت ہوئی تو ضرور اس کو عمل میں لائے گی قطع نظر اس کے کہ یہ کلام یا تحریر کس کی ہے۔
اسلامی یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمیوں کی عملی چند مثالوں سے اندازہ ہوسکتاہے کہ یہ ادارہ تعلیمی مرکز ہے یا ایک سیاسی اکھاڑہ کہ جس پر ہر ایک اپنے جوہر دیکھانے میں پیش قدمی کرتاہے اور حریف مخالف کو چت کرنے کے نئے نئے ہنر ایجاد کرتاہے۔حال ہی میں ایران ،سعودیہ اوریمن کی صورتحال پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا کہ جس کا عنوان ’’سعودیہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں علماء کا کردار‘‘،اس سیمینار سے قبل یونیورسٹی میں متعدد کانفرنسیں منعقد کی گئیں اور ان میں علمی و تعلیمی اور فکری تربیت پر غور کرنے کی بجائے صرف اور صرف فوٹوسیشن ہوئے ،اور چند متعین لوگوں کو مدعو کیا جاتارہاہے تاحال ان کانفرنسوں میں منظور شدہ متفقہ نکات پر عمل درامد کا آغاز نہیں ہوا۔گذشتہ ماہ میں بھی ’’اسلامی تعلیمات جہاد کے بارے میں اور عصر حاضر کے مسائل و اشکالات ‘‘پر بھی دوروزہ سیمینار ہوا اور اپریل کے آخر میں ایک عالمی سیرت کانفرنس منعقد ہوئی ۔اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں اور اس کے ذیلی شعبوں کے زیر انتظام متعدد پروگرامات و کورسز کرائے جاتے ہیں جن میں اربوں روپے سالانہ صرف ہوتے ہیں مگر ان کے نتائج سے کوئی ذی شعور آگاہ نہیں۔ہمیں یقین ہے کہ یہ سرگرمیاں شعبدہ بازی اور ڈرامہ بازی سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان کانفرنسوں اور سیمینارز پر کروڑوں روپیہ کا فنڈ خرچ کیا گیا ہے کیا یہ یونیورسٹی میں موجود طلبہ کی تعلیم و تحقیق کے معیار کو درست کرنے کے لیے صرف نہیں ہوسکتے تھے؟یا پھر درجن سے زائد کانفرنسز کی عملی رپورٹ کوئی دیکھا سکتاہے کہ اتنی خطیر رقم اسراف کے زمرے میں خرچ نہیں کی گئی بلکہ اس کے ظاہری نتائج بھی موجود ہیں؟یونیورسٹی میں سیاسی عنصریت اس قدر غالب ہے کہ طلبہ ،اساتذہ،اور ملازمین اپنے جائز و ناجائز مطالبات کی منظوری کے لیے گاہے بگاہے احتجاج کرتے رہتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسرے پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کے لیے اپنے سیاسی پلیٹ فارم کا غلط استعمال بھی کرتے نظر آتے ہیں اور حال ہی میں یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے مابین مسجد کے قضیہ پر فرقہ وارانہ کشمکش اخباروں کی زینت بنی رہی اور یہ معاملہ عدالت تک بھی جاپہنچا۔اس امر میں شک نہیں کہ اسلامی یونیورسٹی میں ایک مخصوص فکر کو غالب کرنے کی ماضی کی طرح اب دوبارہ منظم کوششیں کی جارہی ہیں ۔
اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم و تربیت اور اخلاق و فکرکی پختگی کی بجائے عہدے و مناصب من پسند افراد اور ایک مخصوص مسلک کے وابستگان میں خیرات کی طرح بانٹے جارہے ہیں۔درجن سے زائد اہم عہدوں پر یا تو صدر جامعہ کا قبضہ ہے یا پھر ان پرمخصوص مسلک کے احباب یا کٹھ پتلی اور غیر قانونی طور پر من پسند افراد کو تعینات کیا گیا ہے۔ان عہدوں میں ریکٹر کے عہدے سے لے کر کلیات ڈین ،شعبہ جات کے سربراہان،اور انتظامی و ذیلی اداروں کے عہدے شامل ہیں۔ جن شخصیات کو نوازا جارہا ہے اور وہ یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے ہیں ان کے نامدرج کرنے کی بجائے صرف ان کے ماتحت شعبوں اورنقصانات کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔ حسب ذیل ہیں ۔ادارہ شؤن طلاب الوافدین کی زیر نگرانی طلبہ کے مابین تفریق کی اساس رکھنے کا فریضہ انجام دیاجاتاہے،عمرہ پیکج ،طلبہ کو سکالرشپس ،اور دیگر یونیورسٹی میں ایک خاص فکر کو رائج کرانے کے لیے صدر جامعہ کے دائیں بازو کا فریضہ نبھارہے ہیں۔سٹوڈنٹ ایڈوائزر،طلبہ تنظیموں کی مجرمانہ سرگرمیوں میں سرپرستی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، اصول الدین فیکلٹی مجموعی طور پر زوال پذیر ہوچکی ہے، من پسند اساتذہ کی تقرری اور ان کی ظالمانہ جابریت نے طلبہ کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کردیا ہے،عرب اساتذہ سے محرومی اس کلیہ کے طلبا کا تاریک مستقبل کا پیش خیمہ ہے،واضح رہے کہ یہ فیکلٹی اسلامی یونیورسٹی کے اساسی و امتیازی فیکلٹی ہے جس کو دن بدن مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تاریکیوں میں دھکیلا جارہاہے ،علمی چوری میں اساتذۃ و طلبہ کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ،میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ اسلامی یونیورسٹی کی تنزلی میں اس کلیہ کابنیادی کردار ہے کیوں کہ یہاں دین پڑھااور پڑھایا جاتاہے مگر سب پیسوں کی خاطر اخلاق و کرداراور عمل میں اسلامی روح ناپید نظر آتی ہے۔صدر جامعہ کے ساتھ سعودی عرب سے مبعوث بعض شخصیات اساتذہ و طلبہ کی توہین و تحقیر کو اپنا فریضہ جانتے ہیں اور یونیورسٹی کے فنڈز و بیرون ممالک سے آنے والی امداد کوطلبہ و اساتذہ میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے، بے رحمی کے ساتھ بغیر کسی ترتیب کے تقسیم خیرات کی طرح بانٹتے نظر آتے ہیں جبکہ کہا یہ جاتاہے کہ اسلامی یونیورسٹی مالی طور پر کمزور ہے اسی سبب ہم شعبہ جات کے متخصصین اساتذہ میسر کرنے سے عاجز ہیں۔ ایک صاحب پر اپنے تھیسز میں چوری کا الزام HECکی طرف سے عائد ہے اور متعدد بار اخباروں میں بھی ذکر آچکا ہے مگر اس پر کوئی ایکشن نہیں لیاگیا بلکہ ان کو بڑے عہدوں اور منصبوں سے نوازاجارہاہے۔،شعبہ مالیات کے ذمہ داران کی بداخلاقی و سینہ زوری سے طلبہ عاجز آچکے ہیں ،من پسند یا طاقتور طلبہ کی یکمشت فیسیں معاف کرنا ان کا خاص پیشہ ہے ۔یہ تمام محترم حضرات یونیورسٹی میں تعلیم و تعلم کی خدمت کرنے کی بجائے صدر جامعہ کی خوشنودی کے حصول اور ان کی مدح سرائی و کاسہ لیسی میں شب و روز مصروف عمل رہتے ہیں۔یہ خبر بھی سننے میں آرہی ہے کہ صدر جامعہ نے یونیورسٹی کے بعض کلیدی عہدوں پر فائز ذمہ داران کی تنخواہ میں اضافہ کے نام پر سعودیہ سے بھاری بھر کم رشوت بھی عطاکرتے ہیں معلوم یہی ہوتاہے ان حضرات نے بدلے میں اسلامی یونیورسٹی کی اساس و و بنیادوں کو کمزور وناکارہ بنانے کی قسم لے رکھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ طلبہ کو ہی پڑہارہے ہیں بلکہ ظلم تو یہ ہے کہ متعدد طلبہ تنظیموں کے سرکردہ ذمہ داران استاد کا لباس اوڑھ کرنے اپنے مسلک و مکتب کی فکر کو فرو غ دے رہے ہیں جس کا لازمی نتیجہ تعلیم کی افادیت و علم و فن کی مہارت معدوم بن چکی ہے۔خبر نگاری و تقریرکے انداز میں لیکچر دیئے جاتے ہیں ۔اس اندوہناک امر سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ طلبہ کے ساتھ کس درجہ ظلم و زیادتی کا سلسلہ روا رکھا جارہاہے۔اسی کے ساتھ ہی اسلامی یونیورسٹی میں متعدد شعبہ جات میں متخصصین و ماہرین علم و فن اساتذہ معدوم ہیں۔اس دانش گاہ کا امتیاز عرب اساتذہ تھے جن کا سیشن مکمل ہوجانے کے بعد ان کے سیشن میں اعادہ یا متبادل اساتذہ کی بروقت طلبی کی بجائے ان سے پیدا ہونے والے خلاء کو مکمل کرنے کے لیے سعودیہ کے فنڈ پر پاکستانی اساتذہ ایک خاص مسلک کے لائے گئے جن کے سبب صرف اصول الدین فیکلٹی کے تین ڈیپارٹمنٹ روبہ زوال ہیں(شعبہ سیرت و تاریخ،شعبہ حدیث اور شعبہ عقیدہ و فلسفہ)۔یونیورسٹی میں موجودہ عرب اساتذہ کو ویزہ کے حصول،تنخواہ کے حصول ،کنٹریکٹ کی بار بار تجدید جیسے غیر ضروری امور میں الجھایاجاتاہے جو ان کا اصل مقصد و ہدف یونیورسٹی میں تعلیم اورطلبہ کی خدمت کرنا ہے اس سے ہٹاکر ان کو زچ کیا جاتاہے اور ان کو انتظامی مشاکل میں پھنسا کر ان کی صلاحیتوں کو روگ لگادیا جاتاہے۔ یہاں ایک امر کی جانب اشارہ ضروری سمجھتاہوں کہ اگر یہ جامعہ مختلف عرب ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرے تو سیکنڑوں متخصصین اور ماہرین و علم فن اساتذہ انہیں ان ممالک کے تعاون سے آسکتے ہیں۔مگر پاکستانی اساتذہ و منتظمین کو علم دوستی کم اپنی جاہ و حشمت زیادہ عزیز ہے۔ 
اسلامی یونیورسٹی میں جمع ہونے والی فیسوں اور عرب ممالک سے ملنے والی امدادکا من پسند افراد پر پانی کی طرح بلاکسی قاعدے و ضابطے کے استعمال کیا جارہاہے اور یونیورسٹی میں غیر ضروری مقامات اور لہو ولعب کی تقریبات پر خرچ کیا جاتاہے ۔صدر جامعہ کا شیش محل تعمیر کیا گیا،صدر جامعہ کے سیکیورٹی کے نام پر لاکھوں روپے صرف ہوئے ،صدر جامعہ نے بی ایم ڈبلیو حاصل کی،صدر جامعہ کی درجن سے زائد کتب شائع کی گئیں،درجن سے زیادہ کانفرنسز و سیمینارز منعقد کیے گئے ،شریعہ اکیڈمی،دعوۃ اکیڈمی مختلف کورسز میں کروڑوں روپے مال بے رحم کی طرح صرف کرتی ہیں،حال ہی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یونیورسٹی کے ہر اہم مقام پر جہاں سے طلبہ کو دن میں متعدد بار گذرنا ہوتاہے وہاں پر ان کو موذی امراض میں مبتلا کرنے کے لیے لاکھوں روپے کی سکینر مشینیں نصب کردی گئی ہیں جس کے سبب مستقبل قریب میں متعدد طلبہ جان لیوامراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں جب کہ یونیورسٹی میں سیکیورٹی کا ناقص انتظام ہے اور پرائیویٹ کمپنی کے افراد کو سبزی منڈی و روڈوں پر گشت کرنے والے افراد کو بشکل محافظ متعارف کروایا گیا ہے ۔اور ان میں متعدد سیکیورٹی گارڈ طلبہ و اساتذہ کی تذلیل و تحقیر کرنا اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہیں۔جب کہ اسلامی یونیورسٹی کا ایک منفرد امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں جامعہ مسجد گذشتہ پندرہ سالوں میں تعمیر نہ ہوسکی اور مسجد کے نام پر اربوں روپے کا فنڈ بادل نخواستہ انتظامیہ کے نہ پر ہونے والے کنویں میں دفن ہوچکا ہے۔
جب کہ دوسری طرف دیکھا جائے تو طلبہ و اساتذہ اور ملازمین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ان کی تعلیم و تعلم کے لیے تعلیمی بلاکس کی کمی ہے ،کلاسز اپنے اساتذہ کے کمروں یا مسجدوں میں لی جاتی ہیں،سب لائبریریزکا فقد ان ہے مرکزی و فیکلٹی کی لائبریری میں کوئی کتاب گھنٹوں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی،شعبہ جات کے تخصصات کی کتب تو نایاب و ناپید ہیں۔جب کہ طلبہ کو رہائش کے لیے مسجدوں میں ڈیرے ڈالنے پڑتے ہیں یا پھر ہاسٹلوں میں بوجہ مجبوری حاجت سے زیادہ لڑکے رہنے پر مجبور ہیں۔ایم ایس و پی ایچ ڈی کے کمروں میں ڈبل ڈبل لڑکوں کو سیٹ الاٹ کی جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ طلبہ اپنے مطالعہ و مراجعہ اور ریسرچ و تحقیق سے محروم ہوجاتے ہیں۔اسی طرح متعددچھوٹے درجہ ملازمین بھی رہائش کے سلسلہ میں پریشانی سے دوچار نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں متعدد افراد سرائے خانہ کے طور پر بھی رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں تعلیم کہیں اور حاصل کرتے ہیں یا نوکری و ملازمت کرتے ہیں مگر رہتے اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں ہیں ،ہاں ان کے پاس یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ و ہاسٹل کارڈزبھی موجود ہوتے ہیں۔
امتحان سیکشن و فنانس سیکشن میں موجود بڑے و چھوٹے سبھی طلبہ سے بداخلاقی و بدتہذیبی،استہزاء کا رویہ اختیار کرنا اور طلبہ کو نظر حقارت سے دیکھنااپنا فرض منصبی گردانتے ہیں جبکہ خود اپنی یہ حالت ہوتی ہے کہ دفتری اوقات میں فیس بک کا استعمال ،اخبارات کا مطالعہ ،اور میٹنگ و کھانے کے نام پر طلبہ کو گھنٹوں انتظار میں ذلیل کرتے ہیں اور جب اپنی کرسی پر پہنچ جائیں تو سب و شتم اور طلبہ پر الزامات کی بھرمار کردیتے ہیں۔جب کہ متعدد ملازمین دفتری اوقات میں اپنا ذاتی کام کرتے ہیں۔ مہمان اساتذہ من پسند طلبہ یا سفارشی طلبہ کو نوازنا اپنا فرض منصبی جانتے ہیں جبکہ تعلیم و تربیت فراہم کرنے کی بجائے طلبہ کے ساتھ لہو لعب قسم کا مذاق کرکے ان کا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں یا پھر ان کو خبریں پڑھاتے ہیں یا طلبہ کو رٹا سسٹم سے متعارف کرواتے ہیں کہ جو ہم نے آپ کو نوٹس و لیکچر دیا من و عن اسی میں سے اور اسی طرح امتحان آئے گا اپنے دماغ کو استعمال کرنے کی چنداں حاجت نہیں اور غیر تخلیقی اسائمنٹس دیکر طلبہ کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرتے ہیں۔ مستقل اساتذہ پرکوئی دست سوال کرنے کی ہمت نہیں کرسکتاوہ چاہیں تو لڑکوں کو پاس کریں ،وہ چاہیں تو لڑکوں کو فیل کریں ،وہ چاہیں تو کلاسز لیں وہ چاہیں تو کلاسز نہ لیں ،وہ چاہیں تو امتحانات کے پیپر طلبہ سے چیک کروائیں ،وہ چاہیں تویکمشت باصلاحیت طلبہ کو زیر کردیں اور چاہیں تو نکمے و نکٹھو اور وقت پاس کرنے والے کو اقبال پر پہنچائیں۔اور میٹنگ و معمولی مصروفیات کا بہانہ تو معمول ہے ہی۔یہاں ایک اہم بات کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ ہمارے یہاں اساتذہ ایسے بھی ہیں جو چند ہزار کی خاطر خیانت علمی کا ارتکاب سے گریز نہیں کرتے۔
ہم حکومت پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی یونیورسٹی میں جاری و ساری مندرجہ بالا علم دشمن سرگرمیوں کا ناصرف دیانت داری کے ساتھ جائزہ لے بلکہ ان عوامل و وقائع کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائے۔تمام انتظامی و تعلیمی عہدے باصلاحیت و ماہرین فن میں تقسیم کیے جائیں ۔اسلامی یونیورسٹی کو ہر قسم کی سیاسی و مذہبی ،لسانی و قومی عصبیتوں کو پاک کیا جائے،یونیورسٹی کے فنڈز کا جائزہ لیا جائے ،فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسے سازشی و ملک دشمن اور تعلیم دشمن عناصر کو یونیورسٹی سے بے دخل کیا جائے یا پھر ان کے اصلاح احوال کو یقینی بنایاجائے۔طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران و وابستگان کے منصب استاذ پر فائز ہونے پر پابندی عائد کی جائے۔ماہرین علم و فن ترکی اورعرب ممالک سے فی الفور طلب کیے جائیں ۔اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ و اساتذہ کی تذلیل و تحقیر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔سکالرشپس کی تقسیم کو من پسند افراد میں تقسیم کا نوٹس لیا جائے ۔تعلیمی بلاکس کی تعمیر،ہاسٹل کی تعمیر اور جامع مسجد کی تعمیر فورا اور ترجیحی بنیادوں پر عمل میں لائی جائے۔
آخر میں نہایت بنوائی کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ کو مطلع کرتاہوں کہ میرا آپ سے اختلاف کرنا یا اس کو لکھنا قانونی طور پر نہیں بلکہ یہ صرف اخلاقی و ایمانی حمیت و غیرت کو جلادینے کی سعی ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہتاہوں کہ مجھے آپ سے کوئی ذاتی منفعت یا فائدہ حاصل کرنا مطلوب و مقصود نہیں اور نہ ہی کسی فرد سے ذاتی بغض و عناد ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ کے بارے میں قلم کوجنبش دوں بلکہ میں آپ سے صرف اس قدر مطالبہ کرتاہوں کہ اس یونیورسٹی کو ایک مسلم تعلیمی ادارہ رہنے دیں اس کو سیاسی مفادات و مصالح کے لیے ہر گز استعمال نہ کریں اور اس میں موجود خامیوں پر قابوپایاجائے یہاں انفرادی و جماعتی مفادات و مصالح سے بالاتر ہوکر صرف اسلامی سوچ و فکر اپنے اندر اجاگر کی جائے چونکہ تاابد مسلمانوں پر انبیاؑ والا فریضہ اداکرنا مقرر فرمادیاگیا ہے۔ اگر آپ حضرات بدستور اپنی اس روش کو جاری رکھتے ہیں تو ہم آپ کے خلاف آواز حق بلند کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں یہ پاکستان اسلامی و جمہوری ملک ہے اس میں آمریت و بادشاہت کا تصور ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی سیکولر نظریات کو فروغ دینے کے خواہش مند حضرات کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور اسلامی یونیورسٹی اسلام کے نام پر قائم کی گئی اس کے اساسی و بنیادی اہداف کو ہدف تنقید بنانے ناصرف اسلام دشمنی کا ثبوت ہوگا بلکہ ہم یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ آپ خود اپنے اسلامی نظریہ پر وجود میں آنے والے یکتاملک کے بھی دشمن اور رقیب ہیں ایسے میں ہم لادینی تحریکوں کے خلاف بھی آواز حق اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔آئندہ کسی تحریر میں یونیورسٹی کے ترجمان سید مزمل حسین شاہ کی جانب سے موصول شدہ تحریر و خط پر چند معروضات ضرور تحریر کروں گا۔

دیس کی بات
عتیق الرحمن
atiqurrehman001@gmail.com
0313525617

منگل، 14 اپریل، 2015

اسلامی یونیورسٹی میں فرقہ واریت کا فروغ

چھٹی و ساتویں صدی عیسوی میں معاشرہ ظلمت و تاریکیوں میں ڈوب چکاتھا ،اس میں ہر طرح و ہر قسم کی بد سے بدتر خرابیاں اور بیماریاں سرطان جیسے موذی و طاقتور مرض سے بھی زیادہ خطرناک حد تک سرایت کرچکی تھیں۔اس معاشرے میں باہمی محبت و مودت نام کو نہ تھی،طاقتورکمزور پر ظلم و جبر کو روا رکھنا اپنا حق سمجھتاتھا،ماتحتوں کے حقوق کو غصب کرنے کو باعث فخر و اعزاز سمجھا جاتاتھا،مادیت و ہوس پرستی کا ایسا دور دورہ تھا کہ انسان کی عزت و عظمت خاک میں مل چکی تھی ،معاشرے کا ہر فرد اپنے حق کو حاصل کرنے کا طالب اور دوسرے کے حقوق سلب کرنا اپنا طرہ امتیاز بنا چکا تھا۔اگر یوں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس وقت کا معاشرہ حیوانیت و سربریت کی تمام حدود سے آگے بڑھ کر وحشی و درندہ بن چکا تھا ۔ اس معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دینا کسی عام انسان یا مصلح کا کام نہ تھا بلکہ صرف اور صرف تائید الٰہی کے ذریعہ سے ہی ان گہری و راسخ امراض کو معاشرے کے جسم و جان سے نکالا جاسکتاتھا ۔اور یہ ہوکر رہاکہ دین اسلام کی دعوت کے ساتھ نبی مکرمﷺ کا ظہور ہوا اور اپنے نے اس سماج کے تمام امراض و جراثیم کو حکمت و دانائی اور حکم خداوندی کے مطابق بتدریج اساس سے مٹانے میں اہم کردار اداکیا۔آپ ﷺ کی بذریعہ وحی ایسی نصرت کی گئی کہ اس وقت معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کو جڑسے مٹادیا گیا اس سے علمی و عملی واقفیت کے لیے کتب سیرت و تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرکے تشنگی کو مکمل کیا جاسکتاہے اور اسلام کی روز روشن کی طرح عیاں کامیابی و کامرانی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے ۔
اس مختصر سی تمہید کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دین اسلام تاقیامت تک انسانیت کی راہنمائی فراہم کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتاہے اور معاشرہ میں جس قدر مضبوط و طاقتور خرابیاں ہی کیوں نہ پیدا ہوجائیں ان کا مقابلہ اسلام کے درست و صحیح مطالعہ اور اس کی درست تفہیم کے ساتھ حل کیا جاسکتاہے۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ۱۱/۹کے بعد سے درجہ بدرجہ تنزلی و پستی کی جانب دن بدن گہرتی چلی جارہی ہے اور اس زوال میں کبھی تو سیکولرزم سبب بنااور کبھی فرقہ واریت ۔دس سال کے ظالمانہ و جابرانہ دور جس میں یونیورسٹی میں براہ راست سیاسی مداخلت کی گئی نے یونیورسٹی کے اساسی اہداف کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی کہ یہ محسوس ہوتاتھا کہ یہ یونیورسٹی اسلامی تعلیمات کے ماہرین تیار کرنے کی بجائے اسلام کو زیر یا کمزور کرنے والے افراد پیدا کرنے کے لیے قائم ہوئی ۔ایسے میں سعودی عرب کی مداخلت سے یہ محسوس ہوچلاتھا کہ وہ یونیورسٹی کو ایسی قیادت فراہم کرے گا کہ جو نا صرف ملک پاکستان اور اسلامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم و وابستہ افراد کی مختلف کرنوں سے واقف ہوگااور وہ اعتدال پسندی کو اپنا طرز عمل بناتے ہوئے تمام طبقوں اور نسلوں اور مکاتب فکر کو ایک ساتھ لے کر چلے گا بلکہ اس کی ترجیح صرف اور صرف دین اسلام کی نشر و اشاعت اور علوم کے میدان کے ذریعہ نوع انسانیت کو بذریعہ اسلام ایک و مخلص قیادت فراہم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیرکرنا ہوگا۔
اس امر میں کوئی دورائے نہیں کہ ہم سعودی عرب کی مداخلت سے خوش ہوئے کیوں کہ ہم یہ محسوس کرتے تھے کہ سعودی عرب کے حکام نے اس گلشن کو نیک تمناؤں اور بڑی جدوجہد اور محنتوں کے ذریعہ سجانے میں پاکستان و مصر و کویت سے کم کردار ادا نہیں کیا اس لیے وہ اس گلشن کو اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتا و ٹوٹتا و ناکام ہوتانہیں دیکھ سکتے ۔مگر جیساکہ کہاوت ہے کہ( انسان جو سوچتاہے ویسا نہیں ہوتا) کچھ اسی طرح کا معاملہ ہمارے قلب و جگر کے ساتھ بھی ہوا وہ تمام نیک امنگیں سرعت کے ساتھ خاک میں ملتی نظر آئیں ۔ ہوا یوں کہ سعودی عرب نے اسلامی یونیورسٹی میں انتظامی مداخلت کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ یہاں پر ایران کے وفود کی آمد ہورہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے لوگ ایران کے دورے کررہے ہیں اس سے ان کو یہ محسوس ہواکہ یہ یونیورسٹی جس پر ہم نے اپنے مخصوص مقاصدکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مال صرف کیاتھا وہ حاصل ہونے کی بجائے اس میں ایران کی مداخلت پھیلتی نظر آتی ہے۔تو سعودیہ عرب نے مداخلت اپنی کے ذریعہ اسلامی یونیورسٹی میں ردعمل کے طور پر انتشار سلفیت و منجمد و پست سوچ کے حامل اور تنگ نظر و تنگ دل اور اسلام کو صرف داڑھی و کپڑوں اور عبادت تک محدود کرنے والے فرقہ کو نوازنے کا فیصلہ کیا ۔کھلی بات ہے کہ سعودیہ کو اسلامی تعلیم یا یونیورسٹی کے اسلامی تشخص سے چنداں کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ صرف ملک پاکستان اور اسلامی یونیورسٹی میں فرقہ واریت کی آگ کو جلانے کے لیے اس عظیم ادارہ کی صدارت شپ حاصل کی ۔جب کہ دوسری جانب ملک پاکستان کی بے حس قیادت چند ٹکوں کے عوض ملک کو ظلمتوں میں دیکھلنے کا سبب بننے والایہ سودا کربیٹھی۔
اسلامی یونیورسٹی میں عقل و فکر سے عاری گروہ اور اسلامی غیرت و حمیت سے بے بہرہ طبقے کو فروغ دینے کے لیے صدر جامعہ نے جہاں یونیورسٹی کے اختیارات کاناجائز استعمال کرتے ہوئے ادارہ تحقیقات اسلامی اور یونیورسٹی کے نشریاتی ادارہ سے اپنی درجن بھر کتب ترجمہ کرواکرشائع کروائیں۔جس کی پاکستانی معاشرہ کو ادنی سے ادنی درجہ میں بھی حاجت نہ تھی اور نہ ہے کیوں کہ پاکستان جو اسلامی ریاست ہے اور اس میں عالم اسلام کے جید علماء موجود ہیں جو معاشرہ کی ہمہ جہت رہنمائی کا فریضہ اداکرنے میں شب و روز مصروف عمل ہیں۔راقم یہ سمجھتاہے کہ صدر جامعہ نے یونیورسٹی کے وسائل کا غلط و ناجائز اور بے مقصد استعمال کیا ہے ۔ان کتب کی اشاعت کا صرف مقصد وحید یہی ہے کہ سعودیہ کا جمود فکری و عملی پاکستان کے لوگوں میں منتقل ہوجائے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس گلشن کو سجانے والوں نے اپنے خون کا پانی دیا ہے ،ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی طریقہ سے اپنی تقرری سے اب تک درجن بھر کانفرنس و سمینارز منعقد کرواچکے ہیں جن کے ذریعہ اسلام یا علم کی خدمت کی بجائے وسائل کا بے دردی کے ساتھ استعمال اور فوٹو سیشن کے ذریعہ ہوس پرستی کی تکمیل اور اپنی مخصوص فکر کی تبلیغ کا کام لیا گیا اس پر بھی آئندہ تفصیلاً کبھی بات ہوگی۔اسلامی یونیورسٹی کو علمی و فکری انحطاط میں مبتلا کرنے کے لیے ایک مخصوص فرقہ کے درجن سے زائد اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے جس کے سبب اصول الدین فیکلٹی علمی و فکری انحطاط سے برسرپیکارہے۔جب کہ یہ وہ کلیہ ہے جو نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اسلامی تعلیمات کی درست و مبنی بر اعتدال فکر کے حامل قیادت فراہم کرنے کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے۔اس کلیہ کا طرہ امتیاز اور معتدل افکار کو فروغ دینے اور باہمی اسلامی روداری و ہمدوردی اور اخوت کا جذبہ پیدا کرنے میں اسی فیصد صلاحیتیں صرف کرنے والے عرب اساتذہ تھے جن کے راستے میں ایک سال سے صدر جامعہ کی نااہلی و غفلت یا پھر بغض عداوت ان کے تقرر میں روکاوٹ کا سبب بنے ہوئے ہے۔صدر جامعہ نے اس گلشن کو پارہ پارہ کرنے کے لیے یونیورسٹی کے اہم عہدوں کو اپنی شہرت و جاہ طلبی کی حرص و ہوس کے لیے درجن سے زائد عہدوں میں سے بعض پر آمرانہ و جابرانہ قبضہ کررکھا ہے اور بعض پر عارضی تقرریاں کررکھی ہیں ان ہر دوصورتوں کا مقصد وحید یہی ہے کہ اس ادارہ کو مستقل اور خودمختار اور مصلح قیادت فراہم نہ کی جائے بلکہ اللے تللوں کو نواز کر اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کو یقینی بنایاجائے۔اس سلسلہ میں آیندہ تفصیل کے ساتھ بات کروں گا۔صدر جامعہ نے اپنے ساتھ فوج ظفر موج جو متعین کی ہوئی ہے اس میں غالب اکثریت صرف ایک مخصوص فرقہ کو حاصل ہے اور صدر جامعہ انہی کے حکم کے پابند اور عامل ہیں ۔اس میں اگرچہ کچھ دیگر افراد کو شامل کیا گیا ہے مگر وہ بھی ضمیر فروش اور عملاً اسلام و علم دشمن ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف عہدے و منصب ہیں۔
اس پھیلتی پھولتی فرقہ وارانہ آگ کوگذشتہ چند عرصہ سے مزید دہکایا جارہاہے جس کے ذریعہ بریلوی مکتب فکر کے حامل طلبہ کی نمازجمعہ علیحدہ ادا کرنے کو روکنے کے لیے مسجد علی المرتضیٰؓ کو سیل کردیا گیا اور اس کے نتیجہ میں عدالت و میڈیا تک بات پہنچنے اور طلبہ کے احتجاج کے نتیجہ میں بعض طلبہ کو یونیورسٹی سے بے دخل کیا گیا جس کے ری ایکشن میں طلبہ نے سیل شدہ مسجد کے گیٹ کو توڑ کراس میں گذشتہ جمعہ نماز اداکی تو اس پر پولیس طلب کی گئی اور اس دوران بعض طلبہ کو پولیس سے چھوڑانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ معمولی چھڑپ بھی ہوئی ۔اس کے نتیجہ میں طلبہ نے سخت احتجاج کیا اور انتظامیہ نے آئندہ جمعہ سے پہلے مسئلہ کو حل کرنے کا وعدہ کیا ۔یہ قضیہ اگرچہ قابل بحث و فحص ہے مگر یہاں فی الوقت اختصار کے ساتھ اتنا کہا جاتاہے کہ صدر جامعہ اگر واقعتاً اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کوتحفظ کو یقنی بنانا چاہتے ہیں تو چاردیواری سے باہر نکل کر طلبہ و اساتذہ کے مابین حاضر ہوکر ان کے مسائل جاننے کی کوشش کریں اور من پسند اور جاہ ومنصب افراد سے گلو خلاصی حاصل کریں ۔اپنی تعریف سننے کی بجائے اپنے طرز عمل پر ہونے والی تنقید کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کریں اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا بذات خود جائزہ لیں قبل اس کے کہ طلبہ و پاکستانی معاشرہ ان کا خود محاسبہ کرے ۔
دیس کی بات
عتیق الرحمن
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

پیر، 6 اپریل، 2015

اسلامی یونیورسٹی میں طلباکی تذلیل و تحقیر

معاشرے کی ترقی کے پیچھے نسل نو کا اہم کردار پنہاں ہوتاہے ۔نوجوان نسل کی درست نہج پر تعلیم و تربیت ضروری ہوتی ہے ۔اس فریضہ میں معمولی سی کوتاہی و کاہلی صدیوں تک تاریک و بد نتائج کا اثر چھوڑجاتی ہے۔طلبہ ایک ایسی نازک کلی کی مانند ہوتے ہیں جسے ذرا سی بے احتیاطی ہونے سے ضائع ہوجاناامر واقع ہے۔اس لیے ان کو سنبھال سنبھال کر اور احتیاط کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کرنا ازحد ضروری ہوجاتاہے اس میں نہ تو شدت و سختی کے اختیار کرنے کی حاجت ہوتی ہے کہ اگر اس کو آزادی میسر آجائے تو اس میں جرائم کو قبول کرنے کی رغبت تیزی کے ساتھ پیدا ہوجائے یا پھر وہ ڈر و خوف کے سبب اپنے اندر موجود عطیہ الٰہی کی پوشیدہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے احتراز کرے۔اسی طرح طلبہ کو شطر بے مہار کی طرح، مادر پدر کی آزادی مہیا کرنا بھی کسی صورت مناسب و درست نہیں بلکہ مضر و نقصان دہ ہے۔یہ افراط و تفریط کے معاملے کا برتاؤ ہم اپنے معاشرہ میں ملاحظہ کرتے رہتے ہیں ۔لازمی بات ہے کہ والدین ،اساتذہ اور تعلیمی ادارے نوجوان نسل کی تعلیم وتربیت میں اعتدال کے اصول پر گامزن ہوں۔
میں اپنی گذشتہ تحریر میں اسلامی یونیورسٹی میں پنپنے اور دن بدن پھیلتی خرابیوں اور بے اعتدالیوں کی نشاندہی کی تھی اور ساتھ میں یہ بھی درج کیا تھا کہ میں آئندہ ان امراض میں سے ایک ایک پر مستقل الگ مضمون میں بات کروں گا ۔اس سلسلہ میں پہلے اور سب سے اہم مسئلہ پر آج کی نشست میں بات کرنی ہے۔تعلیمی ادارہ چونکہ نوجوان نسل کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار اداکرتے ہیں اور یہ نوجوان اپنی باقیہ زندگی میں اس مرحلہ میں گذرے ہوئے لمحات و تجربات سے استفادہ کرتارہتاہے۔اگراس مرحلہ تعلیمی میں اس کو اچھے اساتذہ ،اچھے دوست ،بااخلاق و حسن معاملہ سے پیش آنے والے احباب میسر آجائیں تو اس کی بقیہ زندگی روشن و تابناک ہوتی ہے ۔اگر اس مرحلہ میں بداخلاق اساتذہ،کرپٹ و بددیانت افراد اوربرے دوست مل جائیں تو یقیناًناصرف اس نوجوان کی زندگی تاریک ہوجاتی ہے بلکہ وہ معاشرے میں خرابیوں،بیماریوں اور فساد فی الرض کوفروغ دینے کا موجب بن جاتاہے ۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ایک ایسامنفرد و مایہ ناز تعلیمی ادارہ ہے کہ جس کے نام سے ہی اس کی اہمیت و افادیت اور اس کے منہج و مقصد کی وضاحت ہو جاتی ہے۔اس امر میں کوئی دورائے نہیں کہ جب انسانی معاشرہ اپنی فطرتی اساس و پاکیزگی سے روگردانی اختیار کرلیاور اس میں اللہ کا ڈر و خوف جاتا رہے تو اس کی بری حرکات و جرائم کشش و اثر سے کوئی بھی معاشرے کا فرد اور ادارہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔البتہ اس بات سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتاہے کہ ان خرابیوں و بیماریوں کو دور کرنے کا فریضہ معاشرہ کے اہل علم و عمل اور اہل حل و عقد پر لازم ہوجاتاہے ۔ایسے میں وہ ادارہ جو خالص اسلامی نظریہ پر قائم ہواہو تو اس پ رپہلے مرحلہ میں ضروری ہوجاتاہے کہ وہ انسانی معاشرے میں نیکی کے فروغ اور اس کو رواج دینے میں اپنا قائدانہ کردار اداکرے۔مگر ماتم کیا جائے اس امر پر یا کیا کہا جائے کہ اگر وہی ادارہ بجائے اس کے کہ اس برے معاشرے کو درست کرنے کی بجائے بذات خود اس میں اضافہ کرنے کے جرم میں شریک ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اختصار شدید کے ساتھ یہاں وہ امراض ذکر کرتاہوں جن کا سامنا اسلامی یونیورسٹی کے طلبہ کو مسلسل کرنا پڑرہاہے اور جس کے سبب اس معاشرہ سے قائد و رہبر تیار ہونے کی بجائے مادہ پرست اور ہوس پرست افراد تیار ہورہے ہیں اور وہی نوجوان معاشرہ کو مزید گندگی کا ڈھیر بنانے میں اپنا برابر حصہ لے رہے ہیں۔
اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ کو جو مسائل درپیش ہیں اور جس طریقہ سے ان کی تذلیل و تحقیر کی جاتی ہے اس کو تفصیل کے ساتھ الگ الگ ذکر کرنا مشکل ہے مختصر اتنا کہا جاسکتاہے کہ صدر جامعہ سے لے کر نائب قاصد تک کے تمام انتظامی و تعلیمی مناصب پر فائز احباب طلبہ کی تذلیل و تحقیر کرنا اپنا فریضہ یا اپنے منصب کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔صدر جامعہ نے طلبہ اور اپنے مابین شیش محل تعمیر کرکے دوریاں ہی پیدا نہیں کی ہوئی بلکہ جس راستہ میں یا جس مقام پر صدر جامعہ نے بیٹھنا ہو یا گذرنا ہووہاں سے طلبا کو گذرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی ۔صدر جامعہ اور طلبا کے راستے جدادجدا ہیں جیسے یہ ایک دوسرے کے حریف ہوں۔صدر جامعہ سے ملاقات کرنا اور اپنے مسائل و ضروریات سے آگاہ کرنے کا وقت لینا تو محال ہے ہی۔عجب بات ہے کہ ایک ادارے میں بسنے والے افراد ایک خاندان کی مثل ہیں ان کے مابین کسی طرح کا بھی حجاب ناممکن ہوتاہے مگر یہ معاملہ اسلامی یونیورسٹی میں آپس کی محبت کی بجائے مومن کے مابین نفرت کا مظہر پیش کرتاہے۔ امتحان سیکشن و فنانس سیکشن میں موجود بڑے و چھوٹے سبھی طلبہ سے بداخلاقی و بدتہذیبی،استہزاء کا رویہ اختیار کرنا اور طلبہ کو نظر حقارت سے دیکھنااپنا فرض منصبی گردانتے ہیں جبکہ خود اپنی یہ حالت ہوتی ہے کہ دفتری اوقات میں فیس بک کا استعمال ،اخبارات کا مطالعہ ،اور میٹنگ و کھانے کے نام پر طلبہ کو گھنٹوں انتظار میں ذلیل کرتے ہیں اور جب اپنی کرسی پر پہنچ جائیں تو سب و شتم اور طلبہ پر الزامات کی بھرمار کردیتے ہیں۔جب کہ ان بندگانِ خدا کو اتنا بھی لحاظ و خیال نہیں ہوتاکہ اگر طلبہ اس ادارے میں موجود ہیں توہی ان کویہ رزق بھی مل رہاہے۔اساتذہ کی صورت حال کا تو حال ہی نہ پوچھا جائے کہ یا تو وہ مضبوط سفارش پر وزیٹنگ مقرر ہوتے ہیں اور ایسے میں من پسند طلبہ یا سفارشی طلبہ کو نوازناوہ اپنا فرض منصبی جانتے ہیں جبکہ تعلیم و تربیت فراہم کرنے کی بجائے طلبہ کے ساتھ لہو لعب قسم کا مذاق کرکے ان کا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں یا پھر ان کو خبریں پڑھاتے ہیں یا طلبہ کو رٹا سسٹم سے متعارف کرواتے ہیں کہ جو ہم نے آپ کو نوٹس و لیکچر دیا من و عن اسی میں سے اور اسی طرح امتحان آئے گا اپنے دماغ کو استعمال کرنے کی چنداں حاجت نہیں اور غیر تخلیقی اسائمنٹس دیکر طلبہ کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرتے ہیں۔
دوسری جانب مستقل اساتذہ کی تو چاندنی ہے کیوں کہ ان پر تو کوئی دست سوال کرنے کی ہمت نہیں کرسکتاوہ چاہیں تو لڑکوں کو پاس کریں ،وہ چاہیں تو لڑکوں کو فیل کریں ،وہ چاہیں تو کلاسز لیں وہ چاہیں تو کلاسز نہ لیں ،وہ چاہیں تو امتحانات کے پیپر طلبہ سے چیک کروائیں ،وہ چاہیں تو یکمشت باصلاحیت طلبہ کو زیر کردیں اور چاہیں تو نکمے و نکٹھو اور وقت پاس کرنے والے کو اقبال پر پہنچائیں۔اور میٹنگ و معمولی مصروفیات کا بہانہ تو معمول ہے ہی۔واضح رہے جو خرابیاں وزیٹر اساتذہ کی درج کی گئی ہیں ان میں سے متعدد من و عن بلکہ اس سے زیادہ مستقل اساتذہ میں بھی موجود ہوتی ہیں۔یہاں ایک اہم بات کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ ہمارے یہاں اساتذہ ایسے بھی ہیں جو چند ہزار کی خاطر خیانت علمی کا ارتکاب سے گریز نہیں کرتے۔لیکن ان معزز و مکرم حضرات کو نہ تو اخلاقیات کا پاس ہے اور نہ ہی روز محشر خوف کہ وہ لوگ جو مال یونیورسٹی سے طلبہ کو تعلیم دینے کے نام پر حاصل کررہے ہیں وہ اس صورت میں سوفیصد حرام ہے اگر وہ اپنے فرض میں ذرابھر بھی کوتاہی کررہے ہیں۔ مزید کچھ خامیوں کا ذکر’’ اسلامی یونیورسٹی میں تربیتی شعبہ کی کمزوری ‘‘سے متعلق مضمون میں درج کی جائیں گی۔
مرکزی و فیکلٹی کی لائبریریز کی صورتحال بھی مخدوش ہے اس میں مامور افراد چائے پینے ،ٹیلی فون پر طویل گپ شپ سے فارغ ہی نہیں ہوتے کہ وہ لائبریری میں موجود کتب اور مقالوں کو بالترتیب رکھ سکیں۔ایک کتاب بھی تلاش کرنے کے لیے طلبہ گھنٹوں ذلیل ہوتے ہیں۔یہاں ایک اور امر کی طرف اشارہ دینا بھی ضروری سمجھتاہوں کہ یونیورسٹی میں جو کام ایک یا دوفرد باآسانی سرانجام دے سکتے ہیں اس کی جگہ ڈبل ڈبل افراد تعینات ہیں اور کام کے وقت کوئی ایک بھی یا تیار نہیں ہوتایا میرے دائرے کا کام نہیں کا بہانہ بناکرکام چوری کرتے ہیں اور ظلم پر ظلم تو یہ ہے کہ یونیورسٹی کے متعدد ملازمین دفتری اوقات میں اپنا پرائیویٹ کام کرتے نظر آتے ہیں یا پھر کرکٹ میچ،فیس بک ،یا گیمز کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
تعلیمی بلاکس ،ہاسٹل کی کمی اور جامع مسجد کی عدم تعمیر کے پارے میں متعدد بار راقم بھی لکھ چکا ہے اور یونیورسٹی میں طلبہ بھی احتجاج و مظاہرے کے ذریعہ مطالبہ کرچکے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ جب کسی انسان کو اللہ رب العزت کی قادر و قہار ذات کا خوف نہ ہو تو ایک اخبار میں چھپنے والے کالم یا طلبہ کے احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتاکیوں کہ ان کے دلوں اور ضمیروں پر تالے پڑچکے ہیں وہ نہیں کھل سکتے تاوقتیکہ کوئی غیبی معجزہ ظاہر نہ ہویا رب کریم کی جانب سے عقاب الیم نازل ہوجائے تو ہی بہتری آسکتی ہے۔تعلیمی بلاکس کی مستقل ضرورت ہے کیوں کہ کلاس روم کی عدم دستیابی کے باعث اساتذہ کلاسز اپنے دفتروں یا پھر مسجدمیں لینے پر مجبور ہیں اور یونیورسٹی میں موجود ۹ فیکلٹیوں کے ۴۰ کے قریب شعبہ جات کی مستقل لائبریاں عدم دستیاب یا ناکافی ہیں جن کی اشد حاجت ہے کہ ہرشعبہ کی اپنی لائبریری ہونی چاہیے اور اس میں اس شعبہ سے متعلق بہتر تنظیم کے ساتھ کتب موجود ہوں۔ ہاسٹل کا مسئلہ تو ایک مستقل مسئلہ ہے ہی کہ داخلے دینے میں تو کوئی دیر نہیں کی جاتی چونکہ اس کے ذریعہ سے بھاری بھر کم فیسوں کی مد میں مال و دولت جمع ہوتی ہے جس سے انتظامیہ کو جائز و ناجائز تصرف کا کھولا موقع میسر آجاتاہے۔جبکہ طلبا کو ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے میں ہمیشہ مترددرہتے ہیں اور دوسری جانب ظلم یہ ہے کہ سیاسی و غیرسیاسی ذرائع سے سفارش،طلبہ تنظیمو ں کے اثر و رسوخ سے سیٹوں کی دستیابی و منتقلی آسان ہوجاتی ہے۔بڑے افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز سیٹوں کی فروخت ذریعہ معاش و تجارت بن چکا ہے اور اگر یہ اس حد تک محدود رہے کہ اس سے یونیورسٹی کے طلبہ مستفید ہوسکیں تو عجب نہیں مگر یہاں تو خارجی عناصر زیادہ مستفید ہوتے نظر آتے رہتے ہیں۔کھلی بات ہے کہ جو طالب علم اپنی سیٹ فروخت کررہاہے اس کو اس کی حاجت ہی نہیں ہے اور وہ مستحق طلبہ کے حقوق کو غصب کیے ہوئے ہے ایسے عناصر سے گلو خلاصی کے لیے عملی اقدام کی ضرورت ہے۔بس اس سلسلہ میں بعض طلبہ گروپس اور طاقتور انتظامیہ کے لوگ روکاوٹ بنے نظر آتے ہیں ۔ہاسٹل پروسٹ کا عہدہ اعزازی طور پر دیاجاتاہے ،بلکہ صرف یہ عہدہ نہیں بلکہ متعدد مناصب پر فائز اصحاب اقتدار عناصر اعزازی ہیں اس میں دو امر ہیں اول یا تو یہ کٹھ پتلی و کمزور اور کرسی کے خواہشمند ہیں اور صدر جامعہ اور دیگر کے مظالم پر ناصرف خاموش رہتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ برابر کے شریک بھی ہیںیا پھر واقعتاً مخلص مگر کام تو کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ بہتر کرنے سے عاجز ہیں تو ایسے افراد کے نام یہی پیغام ہے کہ اقبال کے پیغام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیں :
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
معزز و مکرم حضرات ایسے عہدے و منصب سے ہزار بار توبہ کریں اور پناہ طلب کریں جو ان کو حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل کہنے کی ہمت و جرأت چھین لے۔یہ اعزازی احباب کلاسز بھی لیتے ہیں اور دوسرے عہدوں پر بھی فرائض انجام دیتے ہیں ایسے میں نہ تو وہ طلبہ کو دیانت داری کے ساتھ صحیح تعلیم دے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ان انتظامی عہدوں پر کماحقہ اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں ۔جبکہ طلبہ کا زیادہ تر وقت ان انتظامی عہدے دائروں کے گرد گھومنے اور ان کے دفتروں کے طواف کرنے میں گذرجاتاہے۔اسی سبب سے کوئی اچھا اور باصلاحیت قائد و رہبر یہ ادارہ پیدا نہیں کرسکا۔
مسائل تو اور بھی بہت ہیں اور قابل گرفت و ذکر بھی ہیں مگرآج کی تحریر کو اس وضاحت کے ساتھ اختتام تک پہنچاتاہوں کہ مندرجہ بالا جن خرابیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس میں کلام کو عام بیان کیا گیا ہے (جس سے یقیناً بعض شخصیات مخاطب ہیں،یہ حکم عام نہیں ہے)اس کی وجہ سوا اس کے نہیں ہے کہ راقم کسی شخصیت یا اشخاص کو محدد کرنے کو درست نہیں سمجھتا۔البتہ عام پیغام فکردیتاہے کہ ہمارے محترم تمام احباب جس قدر جس بھی خرابی میں مبتلا ہیں وہ اس کو ترک کردیں ،طلبہ کو اپنے بچوں کے مقام پر رکھیں ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اچھی تربیت کا نیک نیتی کے ساتھ اہتمام کریں اور اس کا اجر ان کو طلبہ نہیں دے سکتے بلکہ رب ذوالجلال یوم حساب کو عنایت فرمائیں گے ۔اور اگر انہوں نے اپنے فرائض میں پہلو تہی کا سلسلہ روا رکھا تو ان کو مختلف شکلوں میں دنیا میں بھی ذلت آمیز مناظر کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور یوم آخرت تو اللہ کریم جو عادل ذات ہے اور انسانیت کے حقوق کو غصب کرنے والوں کی ضرور گرفت کرے گا۔
دیس کی بات
عتیق الرحمن
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

جمعہ، 3 اپریل، 2015

اسلامی یونیورسٹی کے صدر کے نام کھلا خط

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد اسی کی دہائی میں رکھی گئی اور اس کے قیام کی ضرورت و اہمیت اس وقت کے عالم اسلام کے دردمند اور دین اسلام کو تاقیامت تک رہنمائی و قیادت کا اصلی حقدار سمجھتے تھے اسی لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں عالمی معیار کے حامل علوم شرعیہ و علوم کونیہ کا مشترکہ حسین گلدستے کی شکل میں تعلیمی اداروں کا وجود عمل میں لایا جائے ۔اس سبب میں صرف ایک ہی پہلومدنظر تھا کہ مسلمانوں پر انگریزکے استعمار کے سبب پیداہوجانے والے جمود کو توڑ دیا جائے کیوں کہ مسلمانوں نے ایک طرف جدید علوم سے اپنے چہرے پھیر لیے اور دوسری طرف یہ فکرتھی مسلمان صرف اس قدر تعلیم حاصل کرے کہ وہ مغرب کلرک یا ان کے استعمال و منفعت کا ایک آلہ بن جائے ۔مسلم رہنماء اس امر کو ہرجہت سے اسلام و مسلمانوں کے لیے مضر و نقصان دہ سمجھتے تھے۔ان قائدین کا مطالعہ قوی تھا اور رب العزت نے ان کو ایمانی حمیت کی دولت سے نوازا تھا۔
ان دینی تعلیمی اداروں کا مقصد اصلی یہی تھا کہ عالم اسلام کی نوجون ملت میں مستقبل کی سرد جنگ کے مقابلے کی طاقت و صلاحیت پیداکی جاسکے ۔اس امر میں شک نہیں کہ اس وقت دینی تعلیمی ادارے مدارس کی شکل میں موجود تھے اور علوم کونیہ کی تعلیم دینے والے ادارے بھی موجود تھے ایسے میں ایک نئے ادارے کے قیام کی چنداں ضرورت نہ تھی مگر چونکہ وہ مسلم رہبر یہ احساس رکھتے تھے کہ مروجہ دونوں طرح کے تعلیمی ادارے افراط و تفریط کے عمل سے دوچار ہوچکے ہیں اور وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کی کسی طور پر بھی عہد جدید کی مشکلات میں کوئی قابل فخر خدمت کرسکیں۔اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد میں سے اساسی مقصد یہ تھا کہ یہاں ایسے نوجوان تیار کیے جائیں جو تعلیم کے ساتھ تربیت کے مرحلے سے بھی گذریں،طلبہ جہاں علوم کونیہ و فنون میں مہارت رکھتے ہوں وہیں پر شریعت اسلامیہ سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہوں،نئی نسل ذاتی مفاد پرستی کی دنیا سے نکل کر اجتماعی و ملی مفادات کا تحفظ کریں،جوانان ملت مادیت پرستی کی دنیا سے نکل کر اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں سربلند کرنے کے لیے جرأت و جواں مردگی کا اظہار کریں۔ان امور سے خلوص نیت کا انداز اس امر سے کیا جاسکتاہے کہ اس ادارے میں آنے والے طلبہ سے فیسیں بٹورنے یا ان کو انتظامی ذلتوں میں الجھانے کی بجائے ان کی ہر ممکن طور پرمالی اعانت کی جاتی تھی تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم و تربیت کے اس مرحلہ کو مکمل کریں۔
مرورزمانہ کے ساتھ جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں میں مسلمان زوال پذیری کا شکار ہوئے وہیں پر اسلامی یونیورسٹی بھی اس آگ کا ایندھن بن گئی ۔اس یونیورسٹی میں مادیت پرست اور ہوس پرست افراد کی اکثریت قابض ہوگئے اور اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوئے اور جلتی پر تیل کا کام ستمبر ۲۰۱۱ کے واقعہ کے بعد حکومت کی مداخلت اور یونیورسٹی میں سیاسی و مذہبی تنظیموں کی سرکش سرگرمیوں نے اس عظیم ادارے کو اپنے اساسی مقاصد سے دور کردیا ۔اب یہ ادارہ علم ومعرفت کی شمع روشن کرنے کی بجائے مختلف حیلے و بہانوں سے طلبہ سے مختلف مدّات میں مال جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس تعلیمی دانش گاہ کو مادیت کی دلدل اور اس کوحقیقی اسلامی تعلیم وتربیت فراہم کرنے والے ادارے کی بجائے ایک مروجہ دینی مدرسے یا ایک عام سیکولر یونیورسٹی کی حیثیت دلوانے میں کوششیں نمایاں نظر آتی ہیں۔اس یونیورسٹی کے نام نہاد اسلام پسند افراد بھی شریک جرم ہیں کیوں کہ وہ لوگ عہدوں اور منصبوں کی لالچ میں اس یونیورسٹی میں پیداہونے والی آئے روزکی خرابیوں سے مسلسل چشم پوشی ہی نہیں کرتے بلکہ ان مجرموں کا دفاع بھی کرتے نظر آتے بھی رہے اور ابھی تک ان ظالموں اور غاصبوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔یہ امر باعث تشویشناک ہے کہ وہ لوگ جو دین اسلام اور قرآن و سنت کا شب و روز چلتے پھرتے ورد کرتے ہیں وہی ہی اسلام کی تعلیمات کی صریح مخالفت یا ان کے مرتکبین کے ہمنوالہ و ہم پیالہ بن جائے تو دل خون کے آنسو روتاہے۔
کچھ امید ہوچلی تھی کی سحر کی نوید لیے سعودیہ عرب سے اس عظیم دانش گاہ میں بحیثیت صدر آپ جناب (ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش )کی صورت میں اسلامی علوم سے گہری واقفیت رکھنے والی مخلص قیادت ضرور بالضرور ماضی کے مظالم کی تلافی کریں گے۔جن احباب نے جانے یا انجانے میں اس یونیورسٹی کے اسلامی تشخص کو مجروح کیا ان سے گلو خلاصی حاصل کرکے اس یونیورسٹی کو ایک مثالی جامعہ بنانے کی کوشش کریں گے اور ماضی کی تمام خامیوں کو بتدریج دور کرنے کی سعی کریں گے ۔اصول الدین ،شریعہ اینڈلاء اور عربی فیکلٹیز کے مناھج تعلیم و نظام تربیت کو درست شکل میں تبدیل کرواکر اس یونیورسٹی میں دیگر فیکلٹیوں جن میں علوم کونیہ کی تعلیم دی جاتی ہے کو اسلامی تعلیمات سے مطابقت قول و عمل کے ذریعہ سے دلوانے کی کوشش کریں گے اور تعلیم کی بہتری کے ساتھ ہی اخلاق و تربیت کا بھی خاطر خواہ انتظام کریں گے چونکہ اسلام نے صرف تعلیم کی بات کہیں نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ ہی تربیت و تزکیہ کی جانب بھی متوجہ کیا ۔اسلام صرف خالی خولی فلسفوں یا باتوں کے ہیرپھیر کی تعلیم نہیں دیتابلکہ اسلام عمل کی دعوت و ترغیب دیتاہے۔
مگر افسوس ک ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آپ نے ماضی کی تمام ترخامیوں کو ناصرف برداشت کیا بلکہ آپ کے دور اقتدار میں نئے جرائم کو پنپنے کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔جن میں بنا کسی تفصیل کے صرف اجمالاً عرض کردینا کافی سمجھتاہوں۔ماضی کے کرپٹ اور بدنامِ زمانہ افراد کو اعلیٰ عہدوں پر بدستور برقرارکھا ہواہے،اساتذہ و طلبہ کی تذلیل کا سلسلہ بدستور ناصرف جاری ہے بلکہ آپ نے اس میں اضافہ کیا ہے خود کو شاہی محل میں مقید کیا اور خطیر رقم کی مالیت کی گاڑی اور سیکیورٹی رسک کے نام پر محافظین کی جماعت بھی بنا رکھی ہے اگر کوئی استاذ یا طالب علم آپ سے ملنا چاہے تو اسے مختلف مراحل سے گذارنے کے علاوہ، ہفتوں چکرلگانے پڑتے ہیں ۔ملک پاکستان بالعموم اور اسلامی یونیورسٹی بالخصوص کسی بھی عصبیت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جبکہ آپ کے دوسال سے زائد عرصہ کے طرز عمل سے یہ ثابت ہورہاہے کہ آپ کسی خاص مسلک کو طاقتور بنانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔یونیورسٹی کے اہم ترین عہدوں پر کمزور و کٹھ پتلی افراد کواپنے نائبین یا عارضی طور پر اعزازی تعیناتیاں کی ہوئی ہیں جن میں اصول الدین ،شریعہ ،منیجمنٹ سائینسز،انجینرنگ،دعوۃ اکیڈمی ،شریعہ اکیڈمی و ادارہ تحقیقات اسلامی وغیرہ کے اہم عہدے شامل ہیں ۔ ان عہدوں پر مستقل باصلاحیت افراد کی تعیناتی سے آپ کیوں خوفزدہ ہیں اس کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔!۔یونیورسٹی کی تربیتی و ثقافتی کمیٹی کی سربراہی سمیت اور اہم امور کی ذمہ داریاں ایک فرد واحد کو سپرد کررکھی ہیں اگر یوں کہا جائے کہ وہ شخصیت یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کی مالک بن چکی ہے تو چنداں غلط نہ ہوگا۔آپ نے عمرہ جیسی عبادت پر من پسند افراد کو ناصرف بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا بلکہ طلبہ و اساتذہ اور انتظامیہ کے لوگوں کی زبانیں خریدنے کے لیے استعمال کیا جو کہ باعث ندامت امر ہے۔یونیورسٹی کے آغاز زمانے میں طلبہ کو تعلیمی معاونت رضاکارانہ طور پر دیجاتی تھی مگر اس مسئلہ کو آپ نے گداگری اور طلبہ کی تحقیر کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔عرب اساتذہ کے راستوں میں روکاوٹ ڈال کرمن پسند ایک خاص فکر کے حامل اساتذہ کو یونیورسٹی میں لایاگیا۔باصلاحیت و مخلص اور وہ اساتذہ جو کسی بھی لمحہ رب کریم کے علاوہ کسی انسان کی غلامی برداشت کرنے کو تیار نہیں ان کو یونیورسٹی سے نکالنے کے لیے مختلف حیلے بہانے کا سلسلہ جاری رکھاہواہے جو آپ کی علم دشمنی اور سرکشی کا منہ بولتاثبوت ہے۔کیا ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کا شاہی محل،آپ کا پروٹوکول موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں، آپ کی گاڑی کی قیمت،آپ کے من پسند افراد پر شاہ خرچیوں کے لیے تو پیسہ میسر ہیں مگر اساتذہ و طلبہ صرف اور صرف علم دین سیکھنے اور سکھلانے کو فریضہ جانتے ہیں ان پر پیسہ خرچ کرنے میں بخل یا قسوت قلبی کے شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت میسر نہیں پھر بھی داخلے برابر جاری ہیں جبکہ طلبہ ہاسٹل کی سیٹ کے حصول میں دربدر پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔تعلیمی بلاک ناکافی ہونے کی وجہ سے اساتذہ وطلبہ کلاسز مسجد اور اپنے دفتروں میں لینے پر مجبور ہیں۔بڑے تعجب کی بات ہے کہ اسلام پر قائم یونیورسٹی میں مسجد کی تعمیر تاحال نہ ہوسکی جو مسلمانوں کی اجتماعیت و وحدت کا مظہر حقیقی ہے۔متعدد کانفرنسوں پر خطیر رقم صرف کرنے کے نتائج سے آگاہ کیا جاسکتاہے یا وہ صرف فوٹوسیشن اور خانہ پری کے لیے منعقد کی گئیں ان کانفرنسوں کے ذریعہ حق کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش سرے سے کی ہی نہیں گئی۔اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی اداروں کے پروگرامات و سرگرمیوں پر دیانت دارانہ نظر ڈالی گئی ؟کیا یونیورسٹی میں اساتذہ کے طور طریقے اور طلبہ کی اخلاقی و معاملاتی و دینی تربیت کا کوئی انتظام کیا ؟کیا اساتذہ و انتظامیہ کے اخلاقی معیارکو اس قدر بلند کرنے کی تھوڑی سی بھی سعی کی کہ وہ چند ہزاروں کی خاطر کرپشن و علمی چوری اور اپنے فرائض میں کوتاہی سے احتراز کریں ؟؟ایسے واقعات کی فہرست تو بہت طویل ہے مگر میں اسی پر اکتفاکرتاہوں۔
واضح رہے کہ آپ کے زمانے میں یونیورسٹی میں بہتر امور بھی سرانجام دئے گئے ہیں ،جن میں طلبہ و اساتذہ میں علمی پیش رفت کے باب کو کھولنے کے لیے درجن بھر کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا ،یونیورسٹی کی چاردیواری کی تعمیر کی تکمیل عمل میں لائی گئی اور اسی طرح انجینرنگ بلاک تعمیر کروایاگیا ۔آپ کی علم دوستی کا کچھ اثر مجھ ناچیز پر بھی پڑا ہے کہ میں نے آپ ہی کے اسرار پر عربی زبان لڑکھڑاتے ہوئے بول چال کا آغاز کیا ۔مگر محترم میں دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ خدارا اپنی ذات کی تعریف وتوصیف سننے کی بجائے آپ ایسے افراد کو تیار کریں جو آپ کے ساتھ نیک و مخلص ہوں اور آپ کی خامیوں پر جرأت و بے باکی کے ساتھ اظہار خیال کرسکیں ۔آ پ ان افراد کی جماعت تیارکرنے کی کوشش سہوا بھی نہ کریں جو دنیا میں تو آپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے مابین خلاء کو مکمل کردیں پر روز محشر میں آپ کے معاون و مددگار بننے سے معذور ہوجائیں۔
میں اپنی اس مختصر اور بکھری ہوئی تحریر کو جرأ ت و ہمت کے ساتھ پیش کرتاہوں اس میں کوئی غلط بات یاغلط مؤقف میں نے پیش کیا ہے تو میری گرفت کرنے میں آپ حق بجانب ہیں اور اگر میری باتیں درست ہیں اور الفاظ کا چناؤطرز تحریر سخت ہیاس بہانے سے مجھے ڈرانے دھمکانے یا زیرعتاب لانے کاسہارالے کر ان غلطیوں اور مظالم کو جاری و ساری رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتاکیوں کہ کبھی بھی حق کے راستے میں ظلم و جور کے راستے پر چل کر دبایانہیں جاسکتا۔ ایک امر کی نشاندہی ضرور کروں گا کہ بعض عناصرکی جانب سے یہ کہا جاتاہے کہ راقم ذاتی منفعت کے حصول یا کسی دوسرے فرد یا گروہ کی ترجمانی کرتاہے تو میں اتناہی کہنا چاہتاہوں کہ یہ معاملہ دنیا میں واضح نہیں ہوسکتامگر وقت ساعت کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھتاہوں کہ یہ آواز و صدا میری اپنی ہے البتہ اس میں قوت و طاقت میرے مطالعہ کے سبب ہے ۔باقی زیادہ اپنے منہ میاں مٹھوبننے کی حاجت نہیں معاملہ اللہ کے حضور میں چھوڑتاہوں وہ احکم الحاکمین ہے۔
میں یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ آپ ان امور میں کوتاہی و غفلت کا اعتراف کریں گے اور روز محشر رب ذوالجلال کے حضور فخر کے ساتھ حاضر ہونے کے لیے مندرجہ بالاتمام خامیوں کا ازالہ کریں گے بلکہ ہماری محدود فکر سے بڑھ کر آپ بہتر نتائج پیش کریں گے۔میں نے یہ تحریر مختصرا پیش کی ہے ہر نکتہ پر تفصیلات کے ساتھ بات اور اٹھائے گئے مسائل سے کس طرح نجات حاصل کی جاسکتی ہے بہت جلد کسی تحریر میں درج کروں گا ان شا اللہ۔ بکھری باتیں تحریر کی ہیں مگر یہ درددل ہے اس کو قبول کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہم تو تادم زیست یہ صدائے حق بلند کرتے رہیں گے ۔اس شعر پر بات ختم کرتاہوں:۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی ہم نے تو دل جلاکے سرے عام رکھ دیاہے
دیس کی بات
عتیق الرحمن
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

پیر، 26 جنوری، 2015

کتابیں اپنے آباکی۔۔۔۔۔۔!


امام شافعی ؒ پروالی یمن کی جانب سے علویوں کی حمایت اور عباسی حکومت کے خلاف بغاوت کو ابھارنے کا الزام عائد کیا تو عباسی خلیفہ نے گرفتار کرواکر بغداد پہنچانے کا حکم صادر کیا ۔امام شافعی ؒ بغداد پہنچے تو ہارون الرشیدنے سوال و جواب کے بعد امام کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا قبل اس کے کہ جلاد تلوار چلاتا اسی اثنا میں امام محمدؒ جو کہ امام شافعی کے استاد تھے دربار میں داخل ہوئے ۔امام شافعی نے خلیفہ سے کہپا کہ میرے متعلق امام صاحب سے دریافت کرلیں اگر انہوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا تو مجھے جو سزا دیں قبول ہے ۔ہارون الرشید نے امام محمد ؒ سے پوچھا کہ آپ محمد بن ادریس الشافعی کو جانتے ہو انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں جانتاہوں یہ تعلیم وتعلم اور درس وتدریس کا شغف رکھتے ہیں ۔خلیفہ نے کہا کہ ان پر الزام ہے عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کی تحریک چلانے کا اس بارے میں کیا کہتے ہیں تو امام محمدؒ نے فرمایا کہ جو امام شافعی ؒ اپنے بارے میں کہتے ہیں میں اس کی تصدیق کرتاہوں ۔اس گفتگو کے پس منظر عباسی خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ امام محمد ؒ امام شافعی ؒ اپنے ہاں ٹھہرائیں تاوقتیکہ ان سے متعلق کوئی فیصلہ صادر کیا جائے ۔اسی دوران امام شافعی ؒ نے اپنے مسئلہ سے متعلق امام محمدؒ کو مطلع کرنا چاہتے تھے تاکہ مسئلہ کی حقیقت سمجھ سکیں اور خلیفہ سے میرے متعلق بات کریں ۔اسی اثنا میں امام شافعی ؒ امام محمدؒ کی مجلس میں حاضر ہوئے تو وہاں فقہ مالکی کے بعض مسائل پر امام محمدؒ نقد کررہے تھے تو ایسے میں امام شافعی ؒ چونکہ امام مالک کے شرف تلمذ طے کیا تھا اور ان کو امام محمدؒ کی نقد سے اتفاق نہ تھا تو انہوں نے قطع نظر اپنے ذاتی مسئلہ کی مصلحت کو سامنے رکھے امام محمدؒ کے ساتھ اختلاف کیا اور ان کے تمام اعتراضات کے جواب دیئے ۔
مندرجہ بالا واقعہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اکابر و اسلاف کا یہ منہج رہاہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور مصلحتوں سے قطع نظر ہوکر ہمہ تن علم دین اور دین اسلام کی حفاظت کے لیے میدان عمل میں ڈٹ جاتے تھے ۔یہ تمام اکابرواسلاف کا وطیرہ حیاتے رہاہے کہ جہاں بھی کوئی اسلام پر نقد یا ضرب لگانے کی کوشش ہونے لگی تو اس کے خلاف میدان عمل میں آموجود ہوئے۔اس جرم کی پاداش میں امام ابوحنیفہؒ کا جنازہ جیل سے نکلا،اسی حق گوئی کے نتیجہ میں امام احمدؒ حنبل کی پشت پر کوڑوں کی برسات کی گئی۔اگر ہم آج کے سماج میں دیکھتے ہیں تو ہمیں حق گو علماء اور دین متین کی حفاظت اور ہرقسم کی تحریف سے پاک کرنے کے لیے خال ہی کوئی علماء کی جماعت چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی غنیمت ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔۔۔۔۔!کیوں کہ ہمارے ہاں علم اصلاح ذات،رضا الیٰ اللہ ،اسلام کی تعلیمات خود سیکھ کر عمل کرنے اور دوسروں تک منتقل کرنے کے لیے نہیں حاصؒ کیا جاتابلکہ یہاں علم معاشرے میں عالم کی سرٹیفیکیٹ حاصل کرکے دوسروں پر برتری ثابت کرنے کے لیے حاصل کیا جاتاہے یا پھر اس علم کے ذریعہ معاشرہ کے کم تعلیم یافتہ طبقے کے حقوق کو غصب کرنے کا ذریعہ بنایا جاتاہے یا پھر اس علم کے ذریعہ سے دنیاوی عیش و عشرت کے مذے لینے کا سامان تیار کیا جتاہے تبھی تو آج عالم اسلام میں علماء کی کثرت ہے مگر اس کے باوجود ڈیڑھ ارب سے زائد مسلم یورپ کے درپر کاسہ گدائی پھیلاکر زندگی کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ماعدا بعض اہل حق ہر دور کی طرح آج بھی موجود ہیں مگر ان کی موجودگی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور ظلم یہ ہے کہ رہبران ملت اسلامیہ کی اکثریت ان حق پرستوں کوستے نظرآتے ہیں کیوں کہ ان حق پرستوں کی موجودگی اور حق گوئی کہ نتیجہ میں ان حکمرانوں کے زرخرید علماء اور جاہ و منصب کے طالب کے ذاتی مفادت کو زچ پہنچتے نظر آتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آج مسلمان اس کثرت تعدد کے باوجود کیوں یورپ کے رحم وکرم پر اپنی حیات بسر کرتے ہیں ؟علماء کی اس قدر کثرت ہے دنیاوالوں کی نظر میں اہل علم لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں پھر بھی مسلمان ذلت و پستی میں مبتلا آخر کیوں؟اس کے اسباب تو بہت سارے بیان کیے جاسکتے ہیں ۔اس تحریر میں صرف ایک نقطہ پر بات کرتاہوں ۔ہماری اس پستی و تنزلی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ ہے کہ علما ء اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی اختیار کرچکے ہیں اور ایسا کیوں ہورہاہے کیوں کہ آج کے معاشرہ میں علم فروخت ہورہاہے اور جس کے پاس مال و دولت ہے وہ پیسہ صرف کرکے علم حاصل کرتاہے اور ڈگری حاصل کرکے منصب حاصل کرتاہے اس کے بعد اپنی زندگی کو مال وثروت جمع کرنے میں کھپا دیتاہے۔آج استاد تعلیم دیتاہے تو صرف پیسہ کی خاطر ،آج طالب علم ڈگری لیتا ہے تو پیسہ کے بل پر ،آج تعلیمی ادارے ڈگریاں جاری کرتے ہیں تو پیسہ وصول کرکے ۔کسی لمحہ بھی مسلم معاشرے کے ذمہ دار طبقے یہ نہیں سوچتے کہ علم جس فرد کو دیاجارہاہے کیا وہ اس کا اہل بھی ہے یا نہیں ؟کیا اس کے اخلاق و کردار بھی اس علم کے حصول کے ساتھ بہتر ہوئے ہیں یا نہیں؟یہ تعلیم کس غرض سے حاصل کرنا چاہ رہاہے؟کیا یہ فرد تعلیم حاصل کرکے ملت کے مفاد کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتاہے؟کیا یہ شخص حصول علم کے ذریعہ معرفت الٰہی کا طالب ہے یا دنیاوی جاہ و حشمت اس کا اصل ہدف ہے؟علم کے حصول کے سبب اس کے ذہن بند دریچے کھولے ہیں کہ نہیں ؟کیا اس میں کائنات کی اشیاء کو دیکھ کر سبب تخلیق کی طرف غوروخوض کرنے کا احساس بیدار ہواہے یا نہیں؟راقم مشاہدات کی روشنی میں یہ کہہ سکتاہے کہ آج کی دانش گاہیں اور علم منتقل کرنے والے ادارے اور افراد کے پاس مندرجہ بالا سوالات پر غور وفکر کرنے کا وقت نہیں یا وہ عمداً ان پر سوچنے سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی زندگی کی گاڑی کو ہانکتے چلے جارہے ہیں۔
ویسے تو علمی خیانت اور جعلی ڈگریوں کا راج ہمارے ملک میں موجود ہے مگر مجھے دلی تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اسلام کے نام پر بننے والے تعلیمی اداروں میں ان مندرجہ بالا سوالات سے اعراض کیا جارہاہو۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بھی ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا مگر افسوس صد افسو س کہ اسی دانش گاہ میں علمی چوری بام عروج پر ہے ۔اساتذہ کی تقرری سے لیکر ناجائز طلباء و طالبات کی ہمدردی تک پی ایچ ڈی کے مقالے میں چوری کے مرتکب ڈین سے لے کر امتحانات میں نقل تک،اساتذہ کی اپنے فرائض سے پہلو تہی سے لے کر طلبہ کے رٹا سسٹم تک کا نظام علمی خیانت سے لبریز ہے ۔دل خون کے آنسو روتاہے کہ یہ دکھڑا سنائیں تو کسے کوئی درد کا مداوا کرنے والا ہی نہیں بس یہاں عہدے و مناصب کی ریل پیل ہے غلط کو غلط جانتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے بھی اس کے سامنے سد سکندری قائم کرنے کی ہمت ہی نہیں۔میں گذشتہ متعدد تحریروں میں یہ واضح کرچکا ہوں کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح سیکولر یا نیوٹرل کرنے کی کوشش کرنے کا کام تیزی سے کیا جارہاہے اس کا آغا ز اصول الدین فیکلٹی جہاں پر شرعی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے ۔اس کے امتیازی تشخص کو مٹایا جارہاہے اور اس میں ایک مخصوص سوچ کے حامل طبقہ کی تقرریاں اور کرپٹ عناصر کے لیے چور دروازوں کا مفتوح ہونا ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ کوئی طالب علم کسی استاد اور طالب علم سے اپنا مقالہ لکھو الے اور وہ اس کے ایک حرف سے بھی وہ واقف نہ ہو تو اس فرد کو ڈگری جاری کرنا علمی خیانت نہیں تو اور کیا ہے ؟رٹا سسٹم کی حمایت کرنے والے اساتذہ کی بھر مار اور طلبہ کے پرتشدد اثر کے نتیجہ میں اساتذہ کی تذلیل اور اسی طرح کہ متعدد مسائل سے یہ فیکلٹی دوچار ہے ۔اس کا ازالہ کون سا مسیحا کرے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا میں پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کے لیے اقبال کا یہ پیغام چھوڑتاہوں شاید کوئی دردل کو سمجھ سکے اور اپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہ کرسکے۔اگرچہ علامہ اقبال کی نظم خطاب بہ نوجوانان اسلام پوری نظم ہی اس قابل ہے کہ اس کو درج کیا جائے ممکن ہے کہ ظلمتوں میں ڈوبے ہوئے سینوں میں کچھ روشنی کا دیہ چمک آئے اور یا دماضی کو ایک بار پھر زندہ کردے ۔تاہم اس مختصر مضمون میں ان چند اشعارکو درج کرنے پر اکتفا کرتاہوں ۔
ؔ تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہونہی سکتی              کہ تو گفتار وہ کردار ،تو ثابت وہ سیارا
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی            ثریاسے زمیں پرآسماں نے ہم کو دے مارا
حکومت کا تو کیا رونا وہ اک عارضی شے تھی           نہیں دُنیا کے آئین مسلّم سے کوئی چارا
مگروہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباکی جو               دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارا
دیس کی بات
تحریر:عتیق الرحمن
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com

جمعہ، 26 دسمبر، 2014

قوم کا روشن مستقبل ۔۔۔حاجی عبدالحکیمؒ ٹرسٹ




تاریخ شاہد ہے کہ جس بھی معاشرے نے ترقی کی ہے اور دنیا پر قیادت کی ہے اس کے پس پردہ اس کی نوجوان نسل کا ہاتھ نظر آئے گا ۔مسلمانوں نے اپنے زمانے حکومت میں اپنے نوجوانوں کی تربیت کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے جن میں سب اول یہ تھا کہ تعلیم کو ہر مرد وعورت پر لازم قرار دے دیا اور اس مشروعیت کی عملی تصویر بدر کے قیدیوں کو مسلمانوں کے بچوں تعلیم دینے کا فدیہ مقرر کیا گیا اور زمانہ عروج میں مسلم خلفا نے تعلیم گاہیں قائم کیں اور اس میں حصول تعلیم کے لیے آنے والے طلبہ اور اساتذہ جواپنا علم قوم کے مستقبل تک پہنچاتے تھے ان کے گذر بسر کا خرچ اسلامی حکومت نے اپنے ذمہ لیا ۔اسلام میں تعلیم کی اہمیت و ضرورت مسلم ہے قرآن میں جابجا عالم اور جاہل کے فرق کو بیان کیا گیا ہے ،حصول علم کی ترغیب دی گئی ہے انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری بھی اسی علم کے سبب عطاہوئی۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اسلام صرف کتابوں کو رٹنے یا بھاری بھر ڈگریاں جمع کرنے کی چنداں حمایت نہیں کرتا بلکہ اس علم پر عمل کرنے اور اس پر غور و فکر کرنے اور اس کے انتقال کی اہمیت کو لازمی قرار دیتاہے۔
مرور زمانہ کے ساتھ مسلمان علم کی دنیا میں پیچھے رہ گئے اسی سبب سے مسلم امہ زوال پذیر ہوئی اور دشمن ہم پر غالب آگئے کیوں کہ انہوں نے علم کی دنیا میں بتدریج ترقی کی۔مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتی مگر افسوس ایسا نہیں ہوا اگر بیت المال یا کسی دیگر معاونتی فنڈ کے ذریعہ سے مدد کا پروگرام شروع بھی کیا جاتاہے تو وہ سفارش و تعلقات کی نظر ہوکر غیر مستحقین افراد کو نوازا جاتاہے۔اس سبب سے بہت سے مستحق و نادار اور باصلاحیت طلبہ علم کے حصول سے محروم کیے جاچکے ہیں۔ایسے میں بعض رفاہی ادارے انفرادی طور پر نادار طلبہ کی مددکرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔ایسے ہی ایک ادارے سے میرا تعارف بذریعہ استاد محترم وقار فانی مغل (سب ایڈیٹرروزنامہ نوائے وقت) حاجی عبدالحکیمؒ ٹرسٹ سے ہوا ۔چونکہ میرے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں بے پناہ روکاوٹیں حائل ہوچکی تھیں بلآخر حاجی عبدالحکیمؒ ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرنل(ر) محمد یونس اعوان صاحب نے میری مدد کی۔اس سبب سے میرایہ فرض بنتاہے کہ میں ان کے اس للہ فی اللہ احسان عظیم کے اعتراف میں ان کے کارخیر کے تذکرہ کروں۔مندرجہ ذیل میں حاجی عبدالحکیمؒ ٹرسٹ کا تعارف اور اس کی ۲۰۱۴ ؁ء کی سرگرمیوں کا تعارف و جائزہ پیش کرتاہوں۔
حاجی عبدالحکیمؒ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) راولپنڈی ایک غیر سیاسی، غیر گروہی ، غیر لسانی ویلفئیر (رجسٹرڈ) ٹرسٹ ہے جو صرف \" اللہ کی رضااور انسانیت کی خدمت \" کے لئے معرض وجود میں آیا۔ اسکی سرگرمیوں کا آغاز 8 اکتوبر 2005 تحصیل بالاکوٹ ، اس کے مشہور گاؤں بھنگیاں ، جوسچہ ، اربن اور گردونواح میں زلزلہ سے متاثر مفلس و نادار افراد کو \" مفت صحت اور تعلیمی ریلیف\" پہنچانے سے ہوا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ کی سرگرمیاں جڑ پکڑتی گئیں اور آج ادارہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات بہم پہنچارہاہے ۔ راولپنڈی ، چارسدہ ، مینگورہ، سوات، بالاکوٹ اور مانسہرہ کے غریب مستحق لوگوں میں خیرات ،صدقات ، رمضان پیکج اور قربانی کا گوشت ہرسال غریب اور نادار خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ملک میں آسمانی آفات کے موقع پر باوجود محددوذرائع کے ،ریلیف کے کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔ تعلیم کے شعبہ میں دسمبر 2014 تک کی کاوشیں اور فلاحی کاموں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں۔
27 اپریل 2014 تحصیل بالاکوٹ کی یو نین کو نسل گھنول کے ( آٹھ) گورنمنٹ پر ائمری سکولوں کے طلباء و طالبات ،اُنکے والدین ، اسکولوں کے اساتذہ اور اہل علاقہ میں تعلیم اور صحت کی آگاہی کے لیے ایک تقریری مقابلہ کا اہتمام حاجی عبد الحکیم ؒ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) راولپنڈی نے کیا۔ جس کا موضوع \" ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کا م آنا\"تھا۔ ٹرسٹ ھذا کے پیڑن ڈاکٹر انورنسیم اور علاقے کے معززین نے شرکت کی۔ کامیاب طلباء و طالبات میں انعامات اور تحائف تقسیم کئے گے۔ ڈاکٹر انور نسیم اورمعززین علاقہ نے ٹرسٹ کی کوششوں کو سراہا۔ معززین میں صوبیدار (ر) محمد تاج، پروفسیرابرار حسین ، ماسٹر صفی اللہ ، پروفسیر سمندرخان سمندر ، قاری محمد حسین ،سردار اسلم اور گورنمنٹ کالج مانسہرہ کے پروفسیر سعید احمد اور ٹرسٹ کے طلباء نے ٹرسٹ کی کاوشوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔ ٹرسٹ نے اس موقع پر ہزارہ یونیورسٹی کے دس طلباء کو سمسٹر کی فیسوں کے لئے 1,11,000/= روپے کے چیک تقسیم کئے ۔ چیئرمین ڈاکٹرعبدالقیوم اعوان نے مختلف بیماریوں سے بچنے کے لیے سامعین کو آگاہ کیااور ڈاکٹر انور نسیم نے تقریب کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔راولپنڈی کے دو تعلیم یافتہ نوجوانوں (مسٹرحمزہ ڈار اورشہریار) نے بھی شرکت کی اور ٹرسٹ کی کوششوں کو سراہا۔



31مئی 2014 کو ٹرسٹ نے یونیورسٹی لیول کی 15 طالبات کو مبلغ 2,54,000/= روپے کے سمسٹر زکے وظائف تقسیم کئے۔ان میں ایم فل ، ماسٹراور بی ایس کی طالبات تھیں۔مہمان خصوصی محترمہ میڈم روبینہ کے علاوہ پہلی دفعہ ٹرسٹ کی تقریب میں شرکت کرنے والی معززخواتین نے شاندار الفاظ میں ٹرسٹ کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ دوردرازعلاقوں سے آنے والی طالبات ہمارے تعاون کی مستحق ہیں اور ذہین و محنتی لڑکیوں نے محدد وسائل کے باوجود کتنی اعلیٰ کلاسوں میں بہتریں صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیاہے۔ کاش اشرافیہ کے خاندانوں کی بچیاں بھی اس تقریب میں شامل ہوتیں اور اس سے سبق حاصل کرتیں ۔ تقریب کے اختتام سے پہلے محترمہ سعیدہ فیض نے نہایت پُر اثر دعا کرائی۔حاضر خواتین نم ناک آنکھوں سے طالبات کی ترقی اور کامیابی کی دعا میں امین کہتی رہیں اور تعاون کرنے والوں کی صحت ،ایمان اور قبولیت کی دعا پر امین کہا۔بریگیڈئیر(ر) زاہد مجید نے طالبات کیلئے عید گفٹ کے طور پر پارچہ جات دئیے۔جزا ک اللہ 
8جون 2014 کو جامع مسجد عسکری تھری راولپنڈی میں ٹرسٹ کی طرف سے یونیورسٹی لیول کے 13 طلباء کو مبلغ 2,08,000/= روپے کے چیک تقسیم کئے۔ ان میں ایم بی بی ایس، ایم فل ، اور ماسٹر ڈگریوں کے طلباء شامل تھے۔ گومل یونیورسٹی کے مستقیم شاہ نے چوتھے سال میں فسٹ پوزیشن لی ۔ کرنل عبدالرؤف نے انہیں خصوصی نقد انعام بھی دیا۔ اس طرح جون 2014 سے پہلے کل فیس بصورت چیک 5,73,000/= روپے تقسیم ہوئے۔ مہمانوں میں بریگیڈیر شفقت خان، کرنل مقصود ، کرنل عبدالرؤف، ڈاکٹر عبدالقیوم اعوان، یاسرنجیب،میجر سہیل شیخ،عبدالحمید اور بہت سے حضرات تھے جنہوں نے تعلیم کی ترقی میں ٹرسٹ کی کاوشوں کو سراہا۔اختتامی دعا مفتی خوشنود صاحب نے کرائی۔
رمضان پیکج 2014 اس سال بھی حسب معمول تحصیل راولپنڈی ، تحصیل بالاکوٹ ،تحصیل مانسہرہ کے مختلف محلوں ، تحصیل مینگورہ (سوات)کے محلہ بنڑ، چارسدہ کے محلہ رجڑ ، تونسہ شریف، لکی مروت، مردان،وغیرہ میں رمضان پیکج تقیسم کیاگیا۔اس دفعہ اللہ کے فضل وکرم سے تحصیل بالاکوٹ کی 104 ، مینگورہ کی 80 ،چارسدہ کی 0 4،راولپنڈی کی 27 اور متفرق25 (کل 276 )فیملیز میں ایک ماہ (رمضان المبارک ) کا راشن تقسیم کیا گیا۔ جس پر مجموعی اخراجات 9,99,940/= روپے ہوئے۔
ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی عید الاضحی2014 میں ٹرسٹ کی طرف سے اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کیاگیا ۔ سیلاب زدہ علاقوں میں 19 قربانیاں کیں گئیں۔اور 75 قربانیاں راولپنڈی ،تحصیل بالاکوٹ کے گاؤں ،بھنگیاں، جوسچہ ، اربن ،جرید ، مٹی کوٹ ، پہڑ،تحصیل چارسدہ کے گاؤں رجڑ اور مینگورہ کے محلہ بنڑ میں کیں گئیں اور گوشت غرباو مساکین میں تقسیم کیاگیا۔ مستحق افرادنے ٹرسٹ اور اس کے معاونین کے لئے انفراد ی اور عید کے موقع پر اجتماعی دعائیں مانگیں۔
زلزلہ 2005 میں زمین بوس ہونے والی مساجد کی تعمیر نوجاری ہے۔پہاڑی علاقے کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں اس لئے مساجد کی تعمیر کی رفتار سست ہے۔ٹرسٹ کے کچھ معاونین نے ٹرسٹ کومسجد فنڈزمختلف اوقا ت میں دیئے چنانچہ7 Xمساجدکی تعمیرنو میں 530,080/-ْ روپے معاو نت سے کی۔سیلاب 2010 / 2011 کے دوران عام ریلیف کے علاوہ 15 xگھر چارسدہ کے محلہ رجڑکے نہائیت غریب اور مستحق فیملیز کو بنا کر دیے ۔ کل اخراجات 3,109,719روپے ہوئے 
ہر سا ل کی طرح اس سال بھی ۷دسمبر کو طلباء و طالبات میں تقسیم وظائف کی تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی ہے ۔ اس تقریب میں ڈونر ز اور مہمانا ن گرامی اپنی آنکھوں سے اپنی دی ہوئی رقوم کو خرچ ہوتے ہوئے دیکھا اور باقی خواتین وحضرات کو ترغیب ملی ۔ تقسیم وظائف کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر سلطانہ فاونڈیشن اسلام آباد کے چیئرمین اورملک کے مشہور معالج ڈاکٹر نعیم غنی شرکت کی۔ اس سال (2014) 87طلباء و طالبات نے اپنا نام رجسٹر ڈ کرایا جسمیں 38طلباء اور 23 طالبات کے وظائف منظور ہوئے۔ جن میں 700,000روپے کے وظائف تقسیم ہوئے۔ اللہ تعاون کر نے والوں کے درجا ت بلند فرمائے (امین)اس طرح پورے سال (2014 )میں تقریباً13,00,000 روپے صرف تعلیم کے شعبہ میں خرچ ہوئے۔
مذکورہ بالاتحریر کا مقصد نیکی کے کام کو فروغ دینے والے احباب کی حوصلہ افزائی اور دوسروں کو اس خیر کے کام کو اختیار کرنے کی ترغیب و دعوت دینا ہے ،یہ ایک مسلّمہ امر ہے کہ اسلام گوشہ نشینی کی زندگی یا اپنی من مستی اور نفسا نفسی کی حیات کو محبوب نہیں سمجھتابلکہ اسلام وہ دین ہے جس نے انسانوں کو انسانیت کا حقیقی درس دیا اور ان کو یہ تعلیم دی کہ اپنے قرب و جوار،اعزہ و اقارب ،ضعفا ء و مساکین ،یتیم و فقیر کے دست بازو بننے سے ہی اسلام کامل ہوتاہے ۔دین اسلام صرف دین عبادت و عقیدہ نہیں بلکہ دین معاشرت و معاملات بھی اہم اور اٹوٹ انگ ہے۔اللہ رب العزت سے دعاہے کہ رب لم یزل انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی زندگیوں میں برکت عطافرمائے اور ملت اسلامیہ اور ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے(آمین)
دیس کی بات
عتیق الرحمن
03135265617
atiqurrehman001@gmail.com