عالمی سیاست، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عالمی سیاست، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 29 مارچ، 2016

را ایجنٹ کی گرفتاری اور ایرانی سرزمین کا استعمال



گزشتہ دو عشروں سے پاکستان کو بدترین دہشت گردی و بدامنی کا سامنا ہے۔افغانستان و روس جنگ اور پھر امریکہ و افغان جنگ کی وجہ سے ارض پاک میں جنگی جنون رکھنے والے افراد کی کھیپ تیار ہوئی اور وہ بلآخر اس قدر طاقتور بنی کہ اس نے ملک پاکستان کے گلی کوچوں، مسجدوں اور بازاروں میں بے گناہ لوگوں کے خون بہانے کو جائز تسلیم کرتے ہوئے پانی کی طرح بہایا جس کے نتیجہ میں ہمیشہ ملک پاکستان کے ذمہ دار ادارے اصلی مجرموں پر گرفتار کرنے یا ان کے گرد دائرہ تنگ کرنے کی بجائے ہمیشہ اسلام پسندوں کو ہی مجرم و ملزم ٹھہرا تیر ہی اور اس امر میں بھی شک نہیں ہے کہ مسلم نوجوانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر کے ان سے کسی بھی بڑے سے بڑے جرم کا اسلام کے نام پر اور جنت کی جعلی تکٹ کے وعدوں پر ان کو انتہاپسندی کی طرف مائل کیا جاتا رہا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور و فکر ہے کہ سیاستدان اور بعض مذہبی و سیکولر جماعتیں ایک دوسرے کی حرص و ضد میں آکر حقیقت حال سے عوام الناس کی توجہ کو موڑکر ان کے سامنے من گھڑت اور پر فریب قصے اور کہانیوں کے سہارے غلط رہنمائی کرتے رہے جس کے نتیجہ میں ملک پاکستان کا حقیقی و اصلی دشمن ہماری آنکھوں کے سامنے رہ کر شب و روز وطن پاک کی مقدس سرزمین کو خاک و خون سے لت پت کرتا رہا۔
یہاں یہ بات بتاتے ہوئے کوئی تعجب و حیرت نہیں ہو رہی کہ جس بات کو آج کا میڈیا اور سیاستدان طبقہ بڑے شدو مد کے ساتھ بھارت کے خلاف بیان بازیاں کر رہے ہیں کہ پاکستان کو بدامنی سے دوچار کرنے اور دہشت گردی کی لپیٹ میں دھکیلنے والے انڈیا کی ایجنسی کے اہلکار ملوث ہیں اور جس کا عملی ثبوت راکے حاضر سروس افسر کی بلوچستان سے گرفتاری کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف نے ایران کے صدر کو بھی مطلع کردیا ہے کہ انڈیاکے ایجنڈ پاکستان کی سرزمین کو تہہ تیغ کرنے کی خاطر بذریعہ ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور یہ امر ہمارے لئے باعث تشویش ہے اور اس کا ظاہری نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
ایسے میں لازمی ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور سیکولر طبقوں جو ابھی بے حث و بے غیرت ہوگئے ہیں کہ اگر پاکستان اور اسلام کے خلاف کوئی سازش ترتیب دینی ہوتو پیش پیش نظرآتے ہیں مگر پاکستان اور اسلام کی سربلندی کا پہلو ہو یا پھر ان کے آقا مغرب ،امریکہ ،اسرائیل ،بھارت اور ایران کے خلاف کوئی بات جاتی ہو تو اس پر ان کے لبوں کو تالے لگ جاتے ہیں کو چاہیے کہ ان دونوں ملکوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ جس کا عملی اظہار محب وطن پاکستانی ہندورہنمانے اپنے ایک اخباری بیان میں جاری کیا ۔پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی “را”کے اہلکار کی گرفتاری کی خبروں پر سخت اظہارِ تشویش کرتے ہوئے پاک بھارت امن عمل کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح پٹھانکوٹ حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی وزیر اعظم مودی کو بذات خود ٹیلیفون کرکے تعاون کی پیشکش کی، اسی طرح مودی کو بھی فون کرکے بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنٹ کی گرفتاری پر اپنا موقف دیکر تحقیقات میں تعاون کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ خطے کا مستقبل پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے وابستہ ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی کا مبینہ طور پر راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے میں پاکستانی سرزمین پر عملی کردار اداکرنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، پاکستان ہندوکونسل بارہا انتباہ کرچکی ہے کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے مابین امن قائم ہونے کی توقع ہونے لگتی ہے، نادیدہ ہاتھ سرگرم ہوجاتے ہیں۔
 ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے پاک بھارت کو قریب لانے کیلئے اپنے عملی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت ایسے ناپسندیدہ عناصر کا سدباب مشترکہ طور پر کریں، ایسے حالات میں چین سے بھی مدد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اول پاکستان کی شیعہ برادری ایران سے احتجاج کریں کہ مسلکی و مذہبی وابستگی و احترام اپنی جگہ پر مسلم ہے مگر وطن عزیز کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین کے ذمہ داران کو معاف نہیں کیا جائے گا۔اور ضرورت پڑنے پر پاکستان کے دفاع و سلامتی کی خاطر ایران و انڈیا دونوں سے نبردآزما ہوجائے گا۔
اس کے ساتھ ہی انتظامیہ اور ایجنسیوں سے دردمندانہ التجا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پاکستان کے معزز اور پر امن شہری اور اسلام پسندوں کو ہراساں کرنے اور ان کو گھروں سے غائب کرنے کی بجائے ملک پاک کے حقیقی دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہوجائیں اور ان شااللہ پاکستان کا ہر بچہ وطن کی مٹی پر قربان ہو جائے گا۔

پیر، 3 نومبر، 2014

سعودیہ عرب اورعالم عرب کی بے حمیتی


نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان کا مفہوم ہے کہ ’’ایک زمانہ آئے گا کہ عالم کفر غالب اور عالم اسلام مغلوب ہوجائے گا۔اس پرصحابہ کرامؓ نے آ پ ﷺ سے استفسار کیا ! کیا مسلمان اس وقت اقلیت میں ہو گے تو جواب میں آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ کے مسلمان اکثریت میں ہوں گے مگر دین پر عمل کرنے کو ترک کر چکے ہوں گے ایسے میں لازم ہے کہ تم کتاب اللہ اور میری سنت کو لازم پکڑے رہنا فلاح پا جاؤگے‘‘۔آپﷺ کا فرمان آج کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ دور اور زمانہ یہی آج کا زمانہ ہی ہے۔کرہ عرض پرباون سے زائد اسلامی ممالک موجود ہیں جبکہ مسلم اقوام کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے۔ان تمام اسلامی ممالک کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ بے پناہ نعمتوں کی فراوانی ہے۔ اللہ نے اسلامی ممالک میں تیل، گیس،سونا،زرخیز زمین،بہترین موسم،قیمتی معدنی وسائل کے ساتھ ان مسلم ممالک میں بہترین اورباصلاحیت و بہادر نوجوانوں کی کثرت عطا کی ہے۔ان اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے پاس مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہے کہ ان کے بینک بیلنس اکاؤنٹ امریکہ،سوئس،اور دیگر یورپی ممالک میں موجود ہیں ۔اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے شہنشاہی محلات ان کی عیاشیوں،محوومستیوں ،لہو لعب کی محفلیں جمانے کے لیے یورپ کے مہنگے ترین علاقوں میں اپنے نام کر رکھے ہیں۔مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان تمام نعمتوں کی فراوانی کے باوجود ان کے دلوں میں سے رب تعالیٰ کا اس کی عطاکردہ نعمتوں پر شکر گزار بندہ بننے کی بجائے یہ نافرمانی اور سرکشی میں اسی قدر زیادہ ہوچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی اس قدر مضبوط ہے کہ ان اسلامی ممالک کے پاس تمام نعمتیں اور وسائل کی موجودگی کے باوجود ان سے براہ راست فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت سلب کرلی گئی ہے اسی وجہ سے آج عالم عرب امریکہ ،اسرائیل،،ایران اوریہود و نصاریٰ کی غلامی میں شرم ناک حد تک گہر چکے ہیں۔ مصر،شام،تیونس،یمن،بحرین،برما،عراق،افغانستان،کشمیر،اور فلسطین کی حالت زار پرسعودیہ عرب ،متحدہ عرب امارات،کویت اورعالم عرب کے تمام ممالک کی مجرمانہ خاموشی ان کی اسلام سے عملاًبے رخی ،بے حمیتی،بے غیرتی بلکہ اسلامی نظام سے کھلی دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودیہ عرب ،متحدہ عرب امارات،کویت اور عالم عرب اور تمام اسلامی ممالک یک جان ہوکر مصر،شام،فلسطین،تیونس،بحرین،یمن،عراق،افغانستان،برما اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ان کی بھر پور مدد بھی کریں اور اس کے ساتھ ہی اللہ کے حضور اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر معافی طلب کریں بصورت دیگر موجودہ ذلت و پستی جو کہ تمام اسلامی ممالک پرآج دنیا میں مسلط ہے اور آخرت میں بھی درد ناک عذاب تیار ہے اس سے بچاؤ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے مصر میں اسلام پسندوں کے حق میں بیان کا سامنے آنانیک و خو ش آئند امر ہے لیکن اسی بیان پر قناعت نہ کی جائے بلکہ جرات و بہادری کے ساتھ مصر،شام سمیت تمام اسلامی ممالک جن پراغیار کی جانب سے جنگ مسلط کی گئی ہے۔اس امر واقعہ پر امریکہ ،اسرائیل،ایران اورعالم کفر کے سامنے مظلوموں مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والوں کی دستگیری پر احتجاج بھی کیا جانا چاہیے۔ آخر میں اللہ رب العزت سے التجا ہے کہ ہم مسلمانوں کی نافرمانیوں ،کوتاہیوں اور غفلتوں کو معاف فرمائے اور تمام عالم میں مسلمانوں کی غیب سے مدد و نصرت فرمائے۔(آمین) دنیا کہ فرعون و نمرود ظلم و جور کی تمام داستانیں رقم کرنے کے باوجودیہ یاد رکھیں کہ دین اسلام اور دین القیم بہر حال غالب آکر رہے گا ۔
دیس کی بات 
عتیق الرحمن(اسلام آباد)
03135265617


جمعہ، 31 اکتوبر، 2014

عالم عربی کی صورتحال کے بارے میں اعلان حق

معروف تجزیہ کار اورسینئیر کالم نگار اوریا مقبول جان نے چند دن قبل ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں عصر حاضر کے حالات پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ تاریخ اسلام میں اب تک جتنا بھی عالم اسلام کونقصان پہنچا ہے اس کے پس و پیش میں دوممالک کا اہم کردار رہاہے وہ دو ممالک ایران اور سعودی عرب ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک اپنے سیاسی و مذہبی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر درجہ کا قدم اٹھا سکتے ہیں۔موجودہ حالات میں شام کی ظالم حکومت کی معاونت اور پشت پناہی ایران کر رہاہے جبکہ مصر میں آمر وقت ،یہود و ہنود کے اعلیٰ کار جنرل ابو الفتاح السیسی کے تمام مظالم کی تایید و حمایت سعودی عرب نے کی۔انہوں نے نبی مکرم ﷺ کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالم عرب پر زوال کا آغاز 
مصر سے ہوگا ۔اگر عالم اسلام اپنی بقا چاہتے ہیں تومصر کے مظلومین کی مدد و اعانت کے لیے میدان عمل میں اتر کر اسلام پسندوں کی حمایت کریں۔
موجودہ عالمی حالات پر ہر ذی شعور کا دل خون کے آنسو رورہاہے۔ملت اسلامیہ پر مظالم کے جاروں اطراف سے حملے کیے جارہے ہیں ان حملوں میں امریکہ،اسرائیل،ایران،بھارت ،عالم کفر بلاواسطہ اور یہود و ہنود کے نمک خور عالم اسلام کے عیاش حکمران سعودی عرب،متحدہ عرب امارات کا بشرمناک کردارشامل ہیں ابھی چند دن قبل مصر میں فوج کے مظالم کے بعد عالم کفر نے برائے نام مذمتی بیان جاری کیا ہے مگر سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالم مغرب نے مصری فوج پر پابندیاں عائد کیں تو ہم براہ راست مصری حکومت کی ہر ممکن مدد کریں گے۔۔انہی ناگفتہ بہہ حالات پر ہندوستان کے علما ء نے برصغیر کے علماء اور عامۃ الناس کے نام اپنا تفصیلی پیغام جاری کیا ہے۔وہ پیغام مسلم حکمرانوں ،علماء اور عوام کے استفادے کے لیے نقل کر رہاہوں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی من بعد بیناہ للناس فی الکتاب اولٰئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللاعنون (سورۃ البقرۃ آیت ۱۵۹)
اس کا ارشاد ہے : ( واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتواالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ ، فنبذوہ وراء ظھورھم واشتروا بہ ثمنا قلیلا فبئس ما یشترون سورۃ (آل عمران آیت ۱۸۴)
جولوگ ہماری نازل کردہ واضح ہدایات و تعلیمات اور رہنمائی اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جبکہ ہم نے انہیں لوگوں کے لئے وضاحت کے ساتھ اپنی کتاب میں بیا ن کردیا ہے ان پر اللہ کی لعنت اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ 
(سورہ البقرہ آیت ۱۵۹)
سورۃ آل عمرا ن میں فرمایا : اور یاد کرو ا س وقت کو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا تھا جن کو کتاب دی گئی کہ تم اسکو کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کروگے۔ اور ا ن کے مضامین کو نہیں چھپاوٗگے لیکن انہوں نے حکم الہی کو پس پشت ڈال دیا او راس کے معاملہ میں دنیا کی حقیر پونجی لے لی۔ بڑ ا بدترین سود اکرتے ہیں ۔ (آل عمران آیت ۱۸۷)
عالم عربی اور عالم اسلامی کے حالات آج جس دور سے گذر رہے ہیں وہ سخت کش مکش، ٹکراؤ اور ہیجان کا دور ہے، تقریباً چالیس پچاس سال سے عراق وشام سے لے کر الجزائر ومراکش تک پورا عالم عربی ،عالمی صہیونی اور صلیبی طاقتوں کے زیراثر اوران کی نگرانی میں اور ان کی ہدایت اور مدد کے ساتھ۔ فوجوں، پولیس اور عدلیہ کی۔ صہیونی مقاصد کی تکمیل۔ کے لئے تیاری میں لگارہا ، اورمسلمانوں کے سینوں پر شہ زوری کرتارہا۔
ان تمام ملکوں میں سب سے بڑا ’’جرم‘‘ یہ قرار دیا گیا کہ شریعت اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے ۔ جن جماعتوں اور تنظیموں نے اسلامی بنیادوں پر عوام اور نوجوانوں کی تربیت کا کام کیا اورمعاشرہ کو اسلامی بنیادوں پر منظم کرنے اور نظام حکومت کو اسلامی بنانے کی کوشش کی وہ سب سے بڑے مجرم ، دہشت گرد اور باغی قرار دئیے گئے ۔ ان کے بڑوں کو شہید کردیاگیا۔ اور دیگر افراد کو جیل کی کوٹھریوں میں ڈال کر بد ترین مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ سارے ممالک فلسطین کی اسلامی تحریکات کے مخالف رہے اور ہر کمیونسٹ ، بددین، ملحد تحریک کے ساتھی اور معاون بنے رہے، لاکھوں فلسطینیوں کے ساتھ جوکچھ ہوتارہا ،یہ اس کے تماشائی بنے رہے ۔ اندورون خانہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ اور روس کے توسط سے سازشوں میں شریک رہے ۔ کوئی امریکہ کی گود میں بیٹھا تھا، کوئی روس کی گود میں ۔جب روس کی عالمی طاقت افغانستان کے میدانوں میں طویل جنگ کے بعد بکھر گئی تو یہ دوہری ذمہ داری یک قطبی دنیا کے مالک امریکا کے سرآگئی ۔۴۷۔ ۱۹۴۸ سے مسلسل مظالم کاجودور ان ملکوں میں چلتا رہا، وہ ہمیشہ ان کے کالے کرتوتوں میں لکھا جائے گا ۔ اور بے شمار کتابیں اس کی گواہ ہیں۔
۸۰۔ ۱۹۸۲ء میں شام کی ملحد وحشی اور ظالمانہ حکومت نے جس طرح شہر’’ حماۃ‘‘ کو بلڈوزروں سے اڑایا اور ۸۰ہزار اخوانیوں کو شہید کیا، وہ انسانیت کے ساتھ چنگیز وہلاکو سے بڑھ کر ظلم کی وہ سیاہ تاریخ ہے جسے مسلمانوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ 
زوال روس کے بعد سے امریکہ نے اسلام اور مسلمانوں کی طاقتوں کو تہس نہس کرنے کا جو عالمی صہیونی ٹھیکہ لے رکھا ہے، اسی کی خاطرافغانستان کو کھنڈر بنایا گیا۔ اور تقریبا دس لاکھ انسان شہید کئے گئے ۔پھر عراق پر الزام تراشیاں کر کے اس کے ۹۔۱۰؍ لاکھ فوجی اور عوام پر بموں کی آزمائش کی گئی۔ اور عراق کو ننگا بُچّا کرکے چھوڑا ۔ 
یہ یاد رہے کہ ان تمام مظالم میں آل سعود نے ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جزیرۃ العرب کو۔ جس کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے صاف طور پر حکم فرمادیا تھا کہ’’ اخرجوا الیہود والنصاری من جزیرۃ العرب‘‘ ۔ ’’ یہود یوں اور عیسائیوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دو‘‘ ۔ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جس کا مکمل نفاذ کیا تھا،اورجس کو ایک سازش کے تحت جزیرۃ العرب کے تشخص کو اغوا کرنے، اور ا سکے تقدس کے تصور کو ذہنوں سے نکالنے ،اور حدیثوں کے پس منظر سے اسے دور کرنے کے لئے۔ اپنے نامعلوم النسب خاندان کے بزور طاقت غالب آنے والے ایک حاکم ’’سعود‘‘ کے نام پر ’’سعودی عرب‘‘ کا نام دے دیا۔ اورناسمجھ مسلمانوں نے اسے اپنی ابلہی میں قبول کر لیا ، اور اس گہری سازش کو سمجھ نہ سکے۔
جی ہاں! آل سعود کے مجرموں نے جزیرۃ العرب کو خفیہ معاہدات کی بنیاد پر امریکا کی فوجوں اورصہیونی سازشوں کے حوالہ کردیا۔ اور جن طالبان کی ابتدا میں ریا کارانہ مدد کی تھی ان کو دہشت گرد قرار دے کر پورے افغانستان کو نیست ونابود کرنے میں امریکا کا خادمانہ و غلامانہ ساتھ دیا۔ یہی کردار ان کا عراق کے بارے میں رہا۔ جب ایران میں خمینی کا انقلاب آیا تو صدام ان کا سب سے بڑا حامی تھا۔ اور اس کو خمینی سے لڑانے کے لئے اربہا ارب ریال دیئے گیے۔ پھر جب وہ اس جنگ سے فار غ ہوا تو اس کے خلاف امریکا کی مدد کرکے عراق میں شیعہ حکومت قائم کروائی گئی، دوغلی پالیسی کے ماہروں نے ایک طرف احمدی نجاد کا ریاض میں پرجوش استقبال کیا اور جب شیعوں کے ایک وفد نے مسجدنبوی اور روضہ اطہر پر آخری درجہ کی بدمعاشیوں اور بے ہودگیوں کا مظاہرہ کیا جس پر امام مسجد نبوی شیخ حذیفی نے اعتراض کیا ، تو انہیں امامت و خطابت سے ہٹا دیا۔ مسجد نبوی کے سامنے شیعوں کو تبرا کی اجازت دی۔ دوسری طرف ذرائع ابلاغ میں شیعیت اور سنیت کی مصنوعی جنگ بھی چھیڑی۔ 
عالم عربی کے انقلابات میں بگڑے ہوئے بدمعاش حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ تونس میں سب سے پہلے انقلاب آیا،تو تونس کے ظالم وبدکردار حاکم بن علی کو اپنے ہاں پناہ دی، حسنی مبارک کے استقبال کی تیاریاں بھی تھیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ 
مصر کا انقلاب کامیاب ہوا اورتمام اسلامی پارٹیوں کے تعاون سے ڈاکٹر محمد مرسی صدر جمہوریہ منتخب ہوئے، پوری دنیائے اسلام کے مسلم عوام نے خوشیاں منائیں، مبارکبادیں دیں۔ ایک صاحب علم ، حافظ، متقی، صالح انسان، جدید و قدیم کا سنگم، منصف و عادل ،رحم دل و شفیق قائد مصر کی صدارت کی کرسی پر بیٹھا، اور اس نے اسلامی اخلاق، بے انتہا نرمی اور رواداری کے ساتھ ایک سویلین حکومت کے عنوان سے۔ کیونکہ اسلامی حکومت تو ایک ڈراؤنا خواب ہے جس سے دشمن اتنا نہیں ڈرتے جتنے آستین کے سانپ اور چھپے دشمن ڈرتے ہیں۔ اصلاحات شروع کیں، قوم کی اصلاح، پولیس کی اصلاح، عدلیہ کی اصلاح، معاشرہ کی اصلاح، ذرائع ابلاغ کی اصلاح کے کام کا آغاز کیا، اور ملک کی ترقی، اور لوگوں کی حقیقی آزادی کے لئے کامیابی کے ساتھ بڑھنا شروع کیا تو ان کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے میں آل سعود سب سے آگے رہے۔ 
وہ فوج جو چالیس پچاس سال سے صہیونی مقاصد کے لئے تیار کی گئی تھی، اور جس نے ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کو مارا، جیلوں میں ٹارچر کیا، جس نے اسلامی تحریکوں کو کچلا، اور ان سے انتقام لیا، اور پولیس کا گندہ، کمینہ محکمہ جو ایک حقیر ایجنسی کی طرح جلادوں کا کام کرتا رہا، اور ملحدانہ عدلیہ کے ذمہ دار جو شریعت اسلامی کے سب سے بڑے دشمن رہے، اور مسخ شدہ ، اباحیت زدہ ، مجرمانہ، شراب و کباب میں دھت ابلاغ جس نے اخلاق و حیا اور دین و ایمان کی تمام حدوں کو پار کرلیا اور کھلے بندوں اللہ ، رسول، قرآن، اور شریعت کا مذاق اڑایا، اور اب اور زیادہ زور و شور سے، انتقامی جذبات اور فاتحانہ نشہ کے ساتھ اس بد بختانہ کام میں مشغول ہے۔اس کی امداد اور اس کو مصر میں دوبارہ طاقت فراہم کرنے میں سب سے زیادہ ناپاک کردار آل سعود کا ہے۔ 
سابقہ حکومت کے پورے ٹولہ نے ۔جس کو صدر مرسی نے بلند اخلاقی کے ساتھ گوارا کیا تھا۔ مرسی کے ایک سالہ دور میں ایک دن بھی چین سے نہیں گذارا، اس کے نزدیک مرسی کا کھلا جرم یہ تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ برابر کی سطح پر بات کرتے ہیں، وہ فلسطین کے مظلوموں کی مدد کے لئے ہمت بلند رکھتے ہیں، انہوں نے سوڈان اور دیگر افریقی ممالک،اور تونس، لیبیا، الجزائر اور مراکش سے اچھے تعلقات قائم کئے ہیں، انہوں نے ترکی سے ملک کی ترقی کے زبردست معاہدات کئے ہیں ۔وہ شام کے مظالم کے خلاف محاذ بنارہے ہیں اور آخر ی سب سے بڑا جرم ان کا وہ تھا کہ انہوں نے تمام اسلامی تحریکات اور تنظیموں کے اجلاس قاہرہ میں، شام میں اسلامی جہاد کی دعوت دی۔ اور شامی حکومت کے مظالم کے خلاف سب سے طاقتور محاذ کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
بس یہ وہ فیصلہ تھا جس سے صہیونیت و صلیبیت کے کیمپ میں آگ لگ گئی جس کی خدمت کے لئے مصری فوج اور پولیس اور عدلیہ کو چالیس پچاس سال سے تیار کیا گیا تھا، ایک سال میں صدر مرسی اسکی اصلاح کیا کرتے، اس کی سازشوں کے شکار ہوتے رہے، اورانھوں نے اپنے حسن ظن کی بنیاد پر ’’ عبدالفتاح سیسی‘‘کو فوج کا کمانڈر اعلیٰ اور وزیر دفاع بنایا تھا۔
امریکا، سعودیہ، اور امارات کے سازشیوں، اور اللہ و رسول کی عدالت کے مجرموں نے اسی وزیر دفاع کو اسلامی حکومت کے خاتمہ، صدر جمہوریہ کے اغوا، عیسائیوں، صہیونیوں ، ملحدوں اور اباحیت پرست افراد کے میدان تحریر میں جمع کرنے، اور اباحیت پرست ملحد ذرائع ابلاغ کو پوری طرح ان کے خلاف جھونک دینے، اور پھر اسلامی تحریکات کو ہر قیمت پر کچل دینے، اور ہر بے حیائی، ڈھٹائی ، اور ظلم و بربریت کو روارکھنے کے لئے آمادہ کیا۔
پانچ ہزار ملین ڈالر سعودی عرب نے، تقریباً اتنی ہی رقم امارات نے اور امریکا جو مصری فوج کا پالن ہار ہے، اور جس نے اسی دن کے لئے اس کو تیار کررکھا تھا، سب نے مل کر صدر مرسی کی حکومت کو لادینوں، ملحدوں اور اباحیت پرستوں کے ذریعہ گرادیا، اور سرکار کا زرخرید غلام شیخ الازہر، اور قبطی چرچ کا پوپ، اورسلفیوں کا ایک دنیا دار اور بدکردار دھڑا، حزب النور، اس جرم میں شریک ہوئے۔
جمہوریت میں عوام اصل ہوتے ہیں، لاکھوں کروڑوں مصری مسلمان صدر مرسی کے حق میں سڑکوں پر آگئے، انہوں نے میدان بھر دیئے، اور صبر و استقامت کا وہ مظاہرہ کیا ، تاریخ جس کے ریکارڈ سے خالی ہے، دنیا میں کبھی ۴۵ دن تک جس میں پورا رمضان کا مہینہ بھی گذرا لاکھوں انسانوں کو ایک میدان میں دین کی نصرت کے لئے، اللہ سے لو لگاتے ہوئے، روزہ رکھتے، تراویح پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے، دعائیں مانگتے، اور نعرہ حق بلند کرتے، اور اسلامی نظام حکومت کی دہائی دیتے، اور اللہ کی شریعت کا مطالبہ کرتے، کبھی نہیں دیکھاگیا۔
سعودی عرب کا سیاسی نظام، معاشی نظام، مالیاتی نظام، سرتاسر باطل پرستانہ، مغرب زدہ، اور سود اور حرام پر مبنی ہے، حج اکبر کے موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں کے خاتمہ کے اعلان کے لئے تشریف لائے تھے وہ ساری چیزیں تقریبا دوبارہ جزیرۃ العرب میں قائم کردی گئیں ہیں، گندے چینل، صہیونی اڈے، ملحدانہ کمپنیاں، سودی نظام، جابرانہ شاہی تسلط، کیا نہیں ہے جو جاہلیت کی نمائندگی نہیں کررہا ہے، اسلامی نظام عدل کا مطالبہ کرنے والے جیلوں میں ہیں، یا نظر بند ہیں، یاپابندیوں کے شکار ہیں۔ خاندان آل سعود کے غیرتمند، اور مظلوم افراد آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں بھی ملک چھوڑنا پڑتا ہے، یا اچھوت بن کر رہنا پڑتا ہے۔
یہ سب کچھ جاننا ہے تو آپ انٹرنیٹ پر آل سعود کا کچاچٹھا معلوم کرلیجئے، شیخ محمد عریفی، شیخ عائض قرنی، شیخ سلمان عودہ، شیخ سفر الحوالی جو کچھ زیر لب کہیں گے ، اس کی تفصیل ، شیخ عواجی، شیخ سعد الفقیہ، شیخ محمد المسعری کے ویب سائٹ سے معلوم کرلیجئے۔
مصر کی اسلامی حکومت گرانے، اس کے لئے اُکسانے، اس کے لئے رقمیں دینے کا کام امارات اور سعودی عرب کے بے غیرتوں نے تو کیا ہی، لیکن اخوان المسلمین کی دشمنی میں وہ اس قدر آپے سے باہر ہوئے کہ اپنے جامہ ہی کو چاک کردیا، اپنے غلاف کو تار تار کردیا۔ نسبت حرمین کو داغ دار کردیا، وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی سازش طشت از بام ہوگی، اور مصر کا اسلامی انقلاب پورے ملک میں پھیل جائے گا، اللہ کے بندے جانوں کے نذرانے پیش کریں گے۔وہ اللہ کے دین، اللہ کی شریعت۔ مصر کی اسلامیت، اور اس کی سا لمیت کے لئے بازی لگادیں گے۔
آج مصر کے تمام علماء، علماء ازہر کا فرنٹ، شرعیہ بورڈ، اخوانی، سلفی، عام مسلمان اور پوری دنیا کے علمائے حق، اور مسلم عوام صدر مرسی کے حق میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کے۶۵ علماء کرام نے اپنی دستخطوں کے ساتھ ، فوجی انقلاب کے خلاف اور صدر مرسی کے حق میں بیان شائع کیا ہے۔
رمضان المبارک کی ۱۰ ؍تاریخ کو شیخ محمد العریفی، جو اس وقت سعودی عرب کے سب سے کامیاب مقرر وداعی ہیں، اور شیخ محسن العواجی کو مصر کی اسلامی حکومت کی تائید کے جرم میں سعودی حکومت نے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا تھا، اور ان سے حکومت کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا جبری معاہدہ لے کر انھیں چھوڑا گیا، تفصیلات براہ کرم انٹرنیٹ پر دیکھ لیں اور چاہیں تو سعودی علماء سے براہ راست رابطہ کرلیں۔
رابطہ عالم اسلامی،منظمہ موتمر اسلامی، اور ندوۃالشباب الاسلامی یہ سعودی عرب کے سرکاری امدادیافتہ ادارے ہیں، ان کے صدور صرف قرارداد پاس کرسکتے ہیں، ان میں بھی ان کو حکومت کی مرضی دیکھنی پڑتی ہے، ان اداروں نے کبھی عالم اسلام میں کوئی عملی کردار ظلم کے مقابلہ میں ادا نہیں کیا، یہ’’ ریڈ کراس‘‘ جیسے ادارہ کی دھول کے برابر نہیں ہیں۔ ان کو مظلوم مسلمانوں کی عملی مدد کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کروڑوں روپئے نمائشی کانفرنسوں میں صرف قراردادوں کے لئے خرچ کرتے ہیں ، تاکہ یہ’’ منافق حکومت‘‘ کے چہرہ پر پالش کرتے رہیں۔
نوجوان سعودی علماء، سعودی اہل فکر و دانش، یونیورسٹیوں کے طلباء اور عام انسان اس حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں، وہ کہیں بغاوت نہ کربیٹھیں، اس لئے عرب ممالک میں ظالموں ۔اور بدکردار اور دشمنوں کی ایجنٹ حکومتوں ۔کے خلاف انقلابات کو ناکام کرنے کی پالیسی سعودی حکومت اورحکومت امارات نے اپنا رکھی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ امارات، جزیرۃ العرب کا حصہ ہے، جس کو انگریزوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ رجواڑوں میں تبدیل کیا اور آج اس پورے حصہ کو قحبہ گری کا ایک اڈہ اور ایک شراب خانہ بنانے والے مجرم، وہ زر خرید بدو ہیں، جن کو ان کے آقاؤں نے اپنے مقاصد کے لئے گدی پر بٹھا رکھا ہے۔
ان سب کو معلوم ہے کہ اگر اسلامی تحریکات کے نمائندے جمہوری راستہ سے بھی سیاست کے ایوانوں میں آگئے تو باطل پرستوں کے تمام بت چکناچور ہوں گے۔ قحبہ گری کے اڈے ختم کردئے جائیں گے اور شراب و کباب اور بدمعاشیوں اور اباحیت پرستیوں کا موقعہ نہیں رہے گا ، عوامی دولت پر کچھ خاندان ڈاکے نہیں مارسکیں گے، پوری ملت تیل کے ذخائر ، سونے کے ذخائر اور دیگر ذخائر سے مستفید ہوگی، پولیس اسٹیٹ ختم ہوجائے گی۔ انسانیت آزادی کی فضا میں سانس لے گی، جیلوں میں اسلام کے جرم میں کوئی محبوس نہیں رہے گا۔ جیل مجرموں کے لئے ہوگا۔
انہیں کیوں کر یہ معلوم ہے کہ مصر کے یہ جانباز صرف مسجد کے ملا، خانقاہ کے صوفی، اور چارہ کھانے والے ریوڑ نہیں ہیں۔ انہوں نے اللہ سے اور رسول اللہ سے عہد کیا ہے کہ ان کی شریعت پر چلیں گے اور روئے زمین پر اسے نافذ کریں گے، یہی ان کا جرم ہے۔
اس لئے یادرکھئے کہ جمہوری راستے سے آپ آئیں یا دعوتی واصلاحی راستہ سے۔ آپ پر شب خوں مارنے، بلکہ دن دہاڑے قتل کرنے کے لئے یہ تیار ہیں۔
یوروپ کے گماشتے، اور شیطانی نظام کے نمائندے اپنے درآمد کئے ہوئے جمہوری، سیکولر، کمیونسٹ، لبرل، وغیرہ، نظاموں کی عزت رکھنے کے لئے بیانات بازی کرتے ہیں۔ اور اپنی مجلسوں میں عالم اسلامی کی تباہی پر قہقہے لگاتے ہیں۔ اور امت مسلمہ کی یتیمی کی حالت پر ہنستے ہیں ، اس لئے ان کو پکارنا بھی سوائے ابلہی اور حماقت کے کچھ نہیں۔
حل وہی ہے ، علاج وہی ہے، اصلاح اسی سے ہوگی، جس سے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا کی اور جس کو عروج تک عدل فاروقی نے پہونچایا۔ ہم بر صغیر کے تمام علماء کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مصر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لادینیت اور الحاد کے محاذ کی طرف سے ایک بھیانک جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔’’ رابعہ عدویہ‘‘ کے میدان میں پورا رمضان ، ذکر و عبادت میں گذارنے والوں اور اسلامی اور قانونی حق کا مطالبہ کرنے والوں پر صہیونی فوج اور فرعونی پولیس نے گولیوں کی بوچھار کرکے دو ہزار افراد کو شہید کیا اور دس ہزار افراد کو زخمی کرکے میدان خالی کرالیا۔ مسجد رابعہ کو اور وہاں موجود اسپتال کو آگ لگادی جس کے نتیجہ میں بیمار افراد جھلس کر مرگئے، مسجد الفتح میں پناہ گزین افراد پر حملہ کرکے بموں اور گولیوں کی بارش کی۔ اب تک سات ہزار افراد کو شہید کیا جاچکا ہے، پچاس ازہری علماء کو شہید کیاگیا، اور ہزارہا ہزارہا افراد زخمی اور بیسیوں ہزار جیلوں میں ہیں، ہر داڑھی والے اور دین دار کو گولی ماری جارہی ہے، اور مصر کو کفر کے جہنم میں جھونکا جارہا ہے، ان مافیاؤں اور کھلے مجرموں کی سرپرستی آل سعود کررہے ہیں۔
مظالم اس حد تک پہونچ گئے کہ امریکا جیسا دوغلا اور بے شرم بھی تنقید کرنے لگا، یوروپی یونین کے مسلمان مظاہروں کے لئے نکل کھڑے ہوئے تو اسے بھی مظالم کے خلاف زبان کھولنا پڑی، جب پوری دنیا ان مظالم پر حیران ہے، یہاں تک مجرم نائب صدر البرادعی بھی استعفا دے کر مصر سے فرار ہوگیاہے، حزب النور کے دنیاداروں کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اورا نھیں بے وقت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، سعودی عرب کے علمائے حق، حکومت کی بدکردارانہ پالیسیوں کے باوجود خاموش نہ رہ سکے، اورا نہوں نے اجتماعی طور پر اپنی حکومت کے خلاف موقف اختیار کیا۔
کیا ان حقائق کے سامنے آجانے کے بعد علمائے بر صغیر کے لئے ۔چند ٹکوں کی امید میں۔ اور دور جاہلیت کی نمائندہ حکومت سے عمروں اور حج کے ویزوں کی توقع میں۔ یہ جائز ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کھلے مظالم پر خاموش رہیں ؟ !کیا وہ اللہ اور رسول کا سامنا اپنے اس موقف کے ساتھ کرسکیں گے؟ انہیں اگر اب بھی اپنی لا علمی کی وجہ سے کچھ شک ہے تو غیر سرکاری سعودی علماء سے رابطہ کرلیں۔ مصر کے علمائے حق سے معلوم کرلیں، ازہر کے غیور وخوددار علماء کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں۔ اور حقائق سے واقف ہوجائیں اور مجرم حکومتوں کے خلاف متحدہ موقف اختیار کریں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس عالمی جنگ کے مقابلے کے لئے دامے، درمے، قدمے، سخنے، جو کچھ ہوسکے اس سے دریغ نہ کریں۔
من جانب 
اتحاد علمائے ہند
دیس کی بات
عتیق الرحمن
03135265617