جمعرات، 1 ستمبر، 2016

سعد رفیق سے معذرت کے ساتھ


کسی یورپی ملک کا قصہ نہیں بلکہ یہ مکروہ کھیل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پوری دیدہ دلیری کے ساتھ کھیلا گیا اور کھیلا جارہا ہے ۔اس کہانی کا ہر لفظ ہماری بے حسی سے تعبیر ہے اور اس کو سن کر ، دیکھ کر ، سمجھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے ۔ یہ دھرتی جو بے پناہ قربانیوں کے بعد اس لیے حاصل کی گئی تھی کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا مگر کون جانتا تھا کہ یہاں سب سے زیادہ مشکل میں ہی اسلام پسند طبقہ ہوگا ۔
12 فروری 2014 ء کو بعض قومی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری یہ خبر پڑھ کر میں ششدر رہ گیا ۔ اس ہولناک خبر کا خلاصہ یہ تھا پاکستان ریلوے کے ساتویں یونٹ پراکس میں باپردہ خواتین کے پردے پر ایم ڈی آفتاب اکبر کو اعتراض ہے مذکورہ ایم ڈٰ ی کے زبانی احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے کی پاداش میں تین خواتین کو سخت عتاب کا نشانہ بنایا گیا ۔
بہ طور اخبار نویس مجھے اس خبر پر سخت تشویس تھی اس کی ہولناکی کا اندازہ تھا اگر چہ یہ خبر پاکستان کی انتہائی معتبر نیوز ایجنسی نے جاری کی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود اس کی تحقیق اس لیے ضروری تھی کہ وزارت ریلوے کا قلمدان خواجہ سعد رفیق کے پاس تھا جن کا تعلق اس خاندان سے تھا جس کی اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں میں دنگ تھا کہ خواجہ رفیق شہید کے بیٹے کی ناک تلے یہ شرمناک کھیل کیسے ممکن ہے ۔
صحافت میں تحقیق ایک کھٹن مرحلہ ہے ہر لمحہ بدلتی صورتحال نے اخبار نویسوں کو اس قدر مصروف کردیا ہے کہ بسا اوقات تو خبر کا فالو اپ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہ اس قدر نازک مسئلہ تھا کہ میں نے انتہائی غیر جانبداری سے تمام حقائق کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور تقریباً پورے دو سال ایک ادارے کے معاملات پر نظر رکھے رہا ۔ دوران تحقیق ہولناک کرپشن سمیت کئی ایسے پہلو میرے سامنے عیاں ہوئے کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ پاکستان ریلوے کے اس منافع بخش یونٹ کو ایک سازش کے ذریعے جس طرح تباہ کیا جارہا ہے ۔ اور سینکڑوں ملازمین سے رزق چھین کر پراکس کے اثاثوں کو لپیٹ کر اسے تالے لگانے کے جس منصوبے پر باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ کام ہورہا ہے اس پر آئندہ کسی کالم میں پوری تفصیل سے لکھوں گا۔ 
میری تحقیق سے کچھ مزید ہولنا ک حقیقتیں بھی سامنے آئیں ۔ فروری 2014ء میں آفتاب اکبر نامی شخص نے پراکس کے ایم ڈی کا چارج سنبھالتے ہی پردے کا مذاق اُڑایا اور زبانی احکامات جاری کیے کہ ہیڈ آفس کی باپردہ خواتین مجھے دکھائی نہ دیں ۔ان احکامات پر آفس کی تین باپردہ خواتین نے احتجاج کیا اور اسی دفتر کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل شکیل نامی شخص نے بھی ایسے احکامات کو غیر قانونی اور غیر شرعی قراردیا جس پر مذکورہ افسر نے حکمت عملی بدل دی اور اب ان خواتین اور ان کی حمایت کرنے والے افسر کی شامت آگئی ۔ ایک خاتون کو حیلے بہانے سے ملازمت سے ہی برطرف کردیا گیا ۔ باقی دونوں باپردہ خواتین کی ٹرانسفر ایسے مقامات پر کردی گئی جہاں انہیں پبلک ڈیلنگ کرنی تھی ۔
آفتاب اکبر کی ٹرانفسر کے بعد یہ کھیل وقتی طور پر رک گیا اس دوران کئی ایم ڈی آئے اور ٹرانسفر ہوئے ان میں بعض افسران انتہائی نیک
نیت اور ایماندار بھی تھے تاہم اسی دوران شکیل نامی ڈپٹی ڈائیریکٹر کوبھی ملازمت سے برخواست کردیا ۔
اگست 2016ء میں آفتاب اکبر کو ایک بار پھر ایم ڈی پراکس تعینات کیا گیا اس نے اپنا مکروہ کھیل دوبارہ شروع کردیا ہے ۔ ایک طرف تو اس منافع بخش یونٹ کی تالہ بندی کی تمام تیاریاں آخری مراحل میں ہیں دوسری طرف راولپنڈی ریلوئے سٹیشن انکوائری اور بکنگ پرتعینات خواتین کو یونیفارم کے نام پر بے پردہ کردیا گیا ہے ۔ماضی میں صدائے احتجاج بلند کرنے والی باقی ماندہ دوخواتین کو ملازمت سے برخواست کرنے کیلئے بے جاتنگ کرنا شروع کردیا گیا ہے ۔
میں اپنی اس ساری تحقیق کے بعد انتہائی حیران اور پریشان ہوں کہ اس دیس میں مادر پدر آزاد خواتین کیلئے تو آئے روز قانون سازی ہوتی ہے ۔ہمارے حکمرانوں ان کے حقوق کیلئے مرے جارہے ہیں لیکن اسلامی شعائر کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی خواہش مند خواتین کیلئے تو ملازمت کے مواقع تک ختم کیے جارہے ہیں ۔ دیگر اداروں میں بھی یقیناًباپردہ خواتین ایسے ہی مسائل کا شکار ہونگی مگر انتہائی معذرت کے ساتھ خواجہ سعد رفیق سے گزارش ہے کہ آپ کے زیر سایہ اداروں میں بھی اگر یہی سب کچھ ہونا ہے تو پھر ہم کسی اورسے کیا گلہ کریں ۔
آزادی ٹرین پر دادیں سمیٹنے والے وزیر موصوف کا ش یہ جان لیتے کہ یہ آزادی اصل میں ہے کیا ؟ یہ آزادی مسلمانوں نے اس لیے حاصل کی تھی کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادی سے اپنی زندگی بسر کرسکیں گے ۔وزیر موصوف کو اپنے نام کے حصے خواجہ اور رفیق کا بھر م ضرور رکھنا چاہیے ۔
میں نے گزشتہ روز ایوان بالا اور زیریں میں بیٹھے علماء اور وفاق ہائے مدارس کے احباب سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں اور دیگر علمائے کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں ۔

منگل، 30 اگست، 2016

’’ نالا‘‘ (انشائی تحریر)


’’نالا‘‘کاایک مطلب گریہ و زاری ہے۔اس مطلب میں علامہ اقبال کے ہاں ’’نالا‘‘کابہت استعمال ہے۔اس نے مسلمانوں کی عظمت گزشتہ پر بہت نالا و فریاد کیاہے۔خاص طورپردورغلامی میں علامہ کاجنم اس کی خاص وجہ بنی۔اپنے کلام میں نالا کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تو دورجام مجھ تک پہنچاہے تب تک تو وہ محفل ہی برخواست ہو چکی ہے۔بانگ دراکی متعدد نظمیں انہوں نے مسلمانوں کی بدحالی پر نالا و فریاد کرتے ہوئے گریہ و زاری میں لکھی ہیں۔وہ امت مسلمہ کوایک گلستان سے تعبیر کرتے ہیں اور دورغلامی کواس گلستان میں خزاں کامصداق سمجھتے ہوئے خود کوایک بلبل قراردیتے ہیں جوہمہ وقت اس گلستان کی بربادی پر نالہ کناں ہے۔ اقبال نے اپنے نالے میں زوال کے بہت سارے تجزیے پیش کیے ہیں،دورغلامی کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہیں اوراسی نالے کی آڑمیں وہ مسلمانوں کو درس عبرت بھی دے گئے۔بلبل کو ایک نغمہ اور خوشی کے گیت گانے والا پرندہ سمجھاجاتاہے لیکن اقبال کے ہاں یہ خوشی کے راگ الاپنے والا پنکھی اب ’’نالا ‘‘پر مجبور ہے اور ہمہ وقت امت کی حالت زار پرنوحہ کناں ہے ۔علامہ نے اس نالا کنائی پر فرزندان توحیدکو نیند سے بیدارکرنا چاہا ہے اور اس کے بعد امید کی کرن بھی دکھائی ہے کہ اگر اس نالا کی روشنی میں تجدیدسفرکیاجائے اور رکے اور تھمے ہوئے کاروان کو باردیگرجادہ پیماکیاجائے توکچھ بعید نہیں کہ عظمت گزشتہ ایک بارپھر امید بہارنومیں تبدیل ہوجائے اور بلبل کایہ نالا گلشن میں بادبہاری کا باب امید واکردے۔
’’نالا‘‘ کے بعد نون غنہ کے اضافہ سے لفظ’’ نالاں‘‘ بھی بنایاجاسکتاہے۔’’نالاں‘‘کامطلب ناراض اور خفاہونا ہے۔شاعرہمیشہ اپنے محبوب سے ’’نالاں‘‘رہتاہے اور جب بھی محبوب سے ملاقات ہوتی ہے تو شکایات کے انبار لگادیتاہے۔عاشق کو کبھی کبھی محسوس ہوتاہے کہ اس کا محبوب بھی اس سے ’’نالاں‘‘ہے،تب وہ اپنے محبوب سے مزید نالاں ہوجاتاہے اور اسے کہتاہے کہ ہم نے تمہارے کتنے ناز نخرے اٹھائے اور تم پھر بھی نالاں ہو کہ ہم نے تمہاراحق ادانہیں کیا۔گویا’’نالا‘‘کے ساتھ نون غنہ کااضافہ شاعر اوراس کے محبوب کے لیے کوئی اچھاشگون ثابت نہیں ہوئے اور ’’نالاں‘‘کاہروقت’’نالا‘‘ان کے لیے روا ہوگیا۔محبت میں ’’نالاں ‘‘ہوجانا اس لیے بھی ضروری ہے محبت کے قابل صرف خدا کی ذات ہی ہے ،جب انسان کسی غیرخدا سے محبت کرے گاتو اس سے خداجیسی توقعات ہی لگابیٹھے گااورجب وہ توقعات پوری نہیں ہوں گی تو’’نالاں‘‘کاعمل شروع ہوجائے گا جس سے کل زمانے کا شعری ادب بھرا پڑاہے۔اگرچہ بعض لوگ تو خداسے بھی ’’نالاں‘‘نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ خداکومحبوب کی بجائے اپنا عاشق سمجھ بیٹھتے ہیں اور عاشق کا کل تاریخی کردار’’نالاں‘‘سے ہی عبارت ہے۔
’’نالا‘‘کاایک اور مطلب پانی کی گزرگاہ بھی ہے۔اس کے ساتھ سابقوں اور لاحقوں کے اضافے سے پانی کی گزرگاہ کی ہیئت اور کمیت میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔مثلاََ ’’نالا‘‘سے پہلے ’’پر‘‘لگادینے سے نالا اڑنے تو نہیں لگ لیکن یہ ’’پرنالا‘‘بن جاتاہے جس کا مطلب چھتوں پر لگاہواپانی کے اخراج کا راستہ ہے۔جب بھی چھت بنائی جاتی ہے تواس کابہاؤ پرنالے کی طرف رکھاجاتاہے تاکہ پانی دوڑتاہوا ڈھلوان کی طرف چلاجائے اور چھت سے خارج ہوجائے ۔اس فارمولے کے تحت پانی اسی طرح نیچے کی طرف چلاجاتاہے جس طرح بڑوں کاغصہ چھوٹوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔اگر’’نالا‘‘پہاڑوں کے درمیان ہو تو اسے ’’پہاڑی نالا‘‘کہتے ہیں یا’’رودکوہی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہاڑی نالا دراصل پہاڑوں کی گریہ و زاری ہے ،اس لیے کہ ’’نالا‘‘کااصل مطلب تویہی ہے۔پہاڑ پر برف جمے یابارش ہو،دونوں صورتوں میں اس سے آنسوجیسے قطرے ٹپکتے ہیں جو گریہ کرتے ہوئے پہاڑی نالے میں بدل جاتے ہیں۔گویایہ بے جان مخلوق بھی اپنے خلاق کے سامنے گریہ شکراداکرتی ہے۔اگر پانی کی گزرگاہ کسی خوبصورت وادی سے ہو شاعر اورادیب لوگ اسے’’ندی نالے‘‘کانام دیتے ہیں اور مصورحضرات اپنی تصویروں میں جب کسی خوبصورت مقام کا نقشہ کھینچتے ہیں تواس میں بہتے پانی کا ’’ندی نالا‘‘ضرور دکھاتے ہیں۔ندی نالے کابہناخوشحالی اور تونگری کی نشاندہی کرتاہے جب کہ اگرندی نالے خشک ہوجائیں تویہ بری دنوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔اگر یہی پانی کی گزرگاہ کسی شہر کے اندر ہو اس پانی سے بدبو کے جھونکے برآمد ہو رہے ہوں تو اسے ’’گندانالا‘‘ کہتے ہیں جس میں سارے شہر کا استعمال شدہ پانی شہر سے باہر نکال دیاجاتاہے۔جب کبھی بارش ہوتی ہے تو اس ’’گندے نالے‘‘کا ظرف کم پڑ جاتاہے اور گنداپانی اسی طرح گھروں کے گٹروں سے ابلنے لگتاہے جس طرح دنیابھر کی غلاظت سے بھری تہذیبی یلغارگھروں میں گھس کر ہماری ثقافت کو بھی بدبوداربنانے میں لگی ہے،لیکن جس طرح بارش تھمتے ہی یہ مغلظ پانی اپنی اوقات میں لوٹ جاتاہے اسی طرح بہت جلد یہ آلودہ وبدیسی تہذیبی یلغاربھی اپنے نشیب کوسدھارچکے گی۔
’’نالا‘‘کاایک اور مطلب ازاربندیاکمر بندبھی ہے۔یہ رسی کی طرح کی ایک پرتکلف ڈوری ہوتی ہے جسے پاجامہ یاسلوار کے نیفے میں پرو کر کمر سے باندھ دیاجاتا ہے اور اس طرح لباس کایہ حصہ جسم سے الگ نہیں ہوپاتا۔جب کبھی یہ کپڑااتارنامقصود ہوتو اس نالے کو ڈھیلا کر دیاجاتا ہے ۔جس صنم کی کمر بہت پتلی ہوتی ہے یاہوتی ہی نہیں توہمیں کیامعلوم کہ وہ نالا کہاں باندھتے ہوں گے۔ایک زمانے میں خواتین کے پراندے اور نالے بہت قسم کے سستے ،مہنگے،ریشمی،سوتی ،چم چم کرتے لش پشی اور ٹیپ ٹاپ والے دیدہ زیب اور نہ معلوم کیسے کیسے ہوا کرتے تھے۔اب پراندے تو دیہاتوں تک ہی محدود ہوگئے اور نالوں کے بارے میں ہماری معلومات محدودہیں۔نالا کو سلوار میں ڈالنے کے لیے ایک ’’نالہ پانی‘‘بنائی جاتی ہے جس کی دم سے نالا باندھ کر سلوار کے نیفے سے گزاراجاتاہے۔اس نالہ پانی کو ’’نالہ بندی‘‘یا’’کمربندی‘‘یا’’ازاربندی‘‘بھی کہتے ہیں بعض علاقوں کی مقامی زبان میں اس کو مختصراََ’’کلی‘‘بھی کہاجاتاہے۔بعض یارلوگ یہ کام اپنے قلم یا دانتوں کی صفائی والے برش سے بھی لے لیتے ہیں،جبکہ بازاروں میں رنگ برنگی ،مختلف دھاتوں اورخوشبودارلکڑی یا جانور یاپرندے کے کسی خوبصورت حصے سے بنی ’’نالہ پانیاں‘‘بھی دستیاب ہوتی ہیں،اس طرح کی نالہ پانیاں جہیز میں بھی دی جاتی ہیںیا پھر مہمان خانے کی دیوارپر آویزاں ہوتی ہیں۔بعض لوگ نالے کی جگہ الاسٹک بھی استعمال کرتے ہیں۔اس صورت میں نالاکھولنے یا باندھنے کے تکلف سے نجات مل جاتی ہے ۔عموماََ بچوں کے زیرجامہ میں الاسٹک ہی ڈال دیاجاتاہے ۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی اور جب وہ اپنے سسرال رہنے گئے تو انہیں شب باشی کے لیے سلوار تھما دی گئی۔وہ ان کے سسر حضورکی سلوار تھی۔واپس آکر انہوں نے ہمارے کان میں سرگوشی کی کہ اس سلوارمیں الاسٹک ڈلا ہواتھا،اس پر ہمارے صحبت کشت زعفران بن گئی۔اب یہ نہیں معلوم کہ وہ بزرگوارصرف رات کے زیرجامہ میں الاسٹک استعمال کرتے تھے یادن میں بھی ان کی یہی عادت تھی۔زیرجامہ کے نالے کو ڈیڑھ گرہ لگائی جاتی ہے تاکہ ایک پہلوکھینچ کر آسانی سے کھولا جاسکے۔لیکن اگر دو گرہیں لگ جائیں یا نالا کھولتے ہوئے اس کا ایک پہلو نیفے میں ہی داخل ہو جائے تو کوفت کاایک کوہ گراں آن گرتاہےْ پہلی صورت میں نالے کاکھلنا محال اور دوسری صورت میں نالے کی تلاش محال۔انگریزنے اس کا حل بیلٹ کی صورت میں نکال لیاہے۔ہم نے سنا ہے کہ دورجدیدمیں دلہن کی سہیلیاں اس کے نالے کو بہت ساری گرہیں لگادیتی ہیں،اس کا پس منظرتوسمجھ میں آجاتاہے لیکن اس بات میں کتنی صداقت ہے ؟؟اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریک حقوق نسواں سے خوف آتاہے۔دھوتی،چادریالنگی پہننے والے غم نالا گیری سے آزاد ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چادر کے ہی دو پلووں کو آپس میں جوڑ کر نالے کاکام نکال لیتے ہیں۔
نالے کے ان تمام معانی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک حکایت جنم لیتی ہے ،جس میں گریہ و زاری،پانی کی گزرگاہ،نالاں ہونااورزیرجامے کاازاربند سبھی شامل ہوجاتے ہیں۔قدیم زمانے کی بات ہے جب بسیں چلنا شروع ہوئی تھیں توایک خاتون خانہ نے شوہر کے کپڑے دھوئے لیکن سہواََنالا دھلنے سے رہ گیااور گندانالا ہی اس کی سلوار کے نیفے میں پرودیاگیا۔اس آدمی کو شہر کسی کام سے جانا تھا ،شام کوپلٹاتو وہ اپنی زوجہ سے نالاں تھا اور اس نے اپنانالا ان الفاظ میں بیان کیا کہ تمہاری وجہ سے مجھے دومیل پیدل چلنا پڑا ہے۔بیوی نے وجہ دریافت کی تو شوہر نے بتایا کہ ہمارے اڈے سے دومیل پہلے ہی بس کے لڑکے نے آواز لگا دی تھی کہ گندے نالے والے اتر جائیں۔

دہشت گردی کے ذمہ داران۔۔۔انتظامیہ اور حکمران


سول حکومت ہمہ قسم مسائل سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے جب پاک فوج سے مل کر ایک پلان مرتب کرلیا گیاتو پھر اس میں کوتاہی تو انتظامیہ اور سویلین اداروں کی طرف سے ہی ہو تی ہے کہ وہ اس ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل در آمد نہیں کرتے ایسی کوتاہی قومی جرم قرار دی جانی چاہیے اور ذمہ دار خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے حکومتی عہدہ پر ہی متمکن کیوں نہ ہوں سخت احتساب کے قابل ہیں تاکہ کوئٹہ جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔مگر ادھر سویلین حکمرانوں کو اپنے آپ کو پانامہ لیکس سے کلئیر کروانے کی دھن سوار ہے اس لیے انھیں کیا پرواہ ہے وہ تو سینکڑوں حفاظتی حصاروں میں مقید ہیں جہاں دہشت گردوں کی گرد بھی نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ دیکھ رہے ہیں جو بڑے منصف اور پوری کائنات کے اصلی حکمران و بادشاہ ہیں اگر کسی دنیاوی 'بادشاہت 'کے دوران بیچارے غیر مسلح وکلاء،سول سوسائٹی کے افراد ،بچوں کے سکول و پارک ٹارگٹ ہوکر ہلاکتیں ،شہادتیں ہوتی رہیں تو ایسی سبھی دہشت گردانہ وارداتوں کے ذمہ دار حکمران ہی ہوتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے فرمایہ تھا کہ اگر ایک کتا بھی دریا کے کنارے بھوکا مرگیا تو روز محشر میں ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاؤں گا۔خلفائے راشدین کے دور میں قحط پڑ گیا تو کھانے پینے کی اشیاء کی معمولی چوریوں پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کرڈالی گئی اور حضرت علیؓ کا فرمان کہ"جو لوگ بھوکوں مرتے ہیں وہ غلہ گوداموں پرپل کیوں نہیں پڑتے"دہشت گردی کا اصل توڑ تو انتظامیہ اور پولیس کے ذمہ ہوتا ہے وہ آجکل عیدیاں بنانے کے غلیظ گھن چکروں میں مصروف ہیں اور ٹریفک پولیس نے تو ات مچائی ہوئی ہے ہر سواری خواہ وہ بار برادری کی ہو یا انسانی سفر والی روک کر عیدی مانگتے ہیں۔جو پہلے "نذرانہ"پیش کیا جاتا تھا جب وہی رقوم اب بھی دی جاتی ہیں تو ٹریفک والے لینے سے انکار کردیتے اور فرماتے ہیں کہ" اسیں بکرا نہیں لینااسی وی قربانی کرنی ایں"خدا کے بندوں سے کوئی یہ پوچھے کہ یہ حرام روزی سے خریدا گیابکرا ذبح ہوا تو یہ واقعی ثواب ہوگا ؟ یا اس طرح مزید گناہ گار قرار پائیں گے؟کہ "رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں" مگر صنعتکار حکمرانوں کے اس سیاہ دور میں رشوت ستانی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ صنعتکار حکمران اور ان کے عزیز و اقارب دوست احباب ،ان کی دیکھا دیکھی دیگروزراء و مقتدر شخصیات کروڑوں کا مال پانی بنا رہے ہیں اور بیرون ممالک پلازے فلیٹس خرید رہے ،پانامہ لیکس کی جگہ کسی اور جگہ لیکس میں مال دھڑا دھڑ جمع ہورہا ہو گا۔ اور چونکہ سبھی بڑی مقتدر سیاسی جماعتوں اور نام نہاد اپوزیشنی راہنماؤں کے ہاتھ اسی سرمایہ بناو مہم میں گرد آلود ہیں اس لیے احتساب تو کیا ہو گا ایک دوسرے کو بچانے کے لیے تگ ودو جاری ہے۔پورے ملک کا وڈیرہ انگریز کے ٹوڈی پالتوجاگیردار اور نو دولتیے سود خورسرمایہ دار طے کیے ہوئے ہیں کہ سبھی بڑی پارٹیوں کو بھاری چندہ لگا کر گھس جاناہے اوراہم عہدوں پر فائز ہو کرپارٹی کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اس طرح مزید کروڑوں ڈالروں کا کاروبار چمکانا ہے۔اکا دکا کو چھوڑ کر سبھی بڑی پارٹیاں سیاست نہیں بلکہ امارت کے لیے کو شاں ہیں مال بناؤ اور بیرون ملک ڈمپ کردو یہی اصل پرو گرام ہے اچھا کھاؤ اچھا پہنو اچھا کماؤ یہی ماٹو بن چکا ہے غریب پس رہا ہے پچپن فیصد سے زائد کے گھروں میں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ۔ 72فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے گزر بسر کررہے ہیں ۔دنیا کے غلیظ ترین سودی نظام جس کے سبھی سویلین حکمران اور نام نہاد اپوزیشنی راہنمایان ہمیشہ ہی محافظ بنے رہتے ہیں اس نے امیرکو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرڈالا ہے۔ اور محمدﷺ کا فرمان کہ سود سے غربت بڑھتی ہے بجا ہے ۔معاشی تفاوت کے بڑھنے سے طبقاتی کشمکش بڑھ جاتی ہے لو گ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں غریب خودکشیاں اور خود سوزیاں کرتے اور امیر خمر و شراب و کباب میں مشغول ہو کر غریبوں کی طرف توجہ ہی نہیں کر پاتے اسی سے دہشت گردی بھی فروغ پاتی ہے کہ غریبوں کو ایک "اچھا کاروبار" مل جاتا ہے کہ یہ کام کرو اور اتنا مال خواہ پہلے ہی وصول کرلو۔
اگر ہم معاشی دہشت گردوںیعنی وڈیروں جاگیرداروں سود در سود وصول کرنیوالے صنعتکاروں کو بھی مکمل احتسابی عمل سے گزارتے رہیں گے تو دہشت گردی بھی فروغ نہ پاسکے گی معاشی ناہمواریوں کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ میٹرو بس چلانا ۔کہ اگر ایسے اربوں روپے ہڑپ کر جانے والی اور کروڑوں کک بیکس وصول ہونے والی سکیمیں نہ بھی ہوں گی تو کیا پہلے لوگ سفر نہ کرتے تھے۔کیا وہ خود کو پر لگا کر آسمان میں اڑ کر دوسری جگہ پہنچتے تھے ؟ہر گز نہیں ۔مگر"ٹڈنہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں جھوٹیاں"کی طرح غربت مکاؤ سکیم چلانے کی جگہ حکمرانوں نے 69سال سے غریب مکاؤ مہم چلا رکھی ہے۔ ذراسوچئے کہ ایک نشہ آور چیزوں کا بھراٹرک کوئٹہ پشاور سے کیسے کراچی اور بیرون ملک ٹرانسفر ہو جاتاہے ۔بس ہر پولیس چوکی پر مال دیتے جاؤ اور گذرتے جاؤ۔کوئی پوچھ گچھ نہیں۔اسی طرح جن پولیس والوں کو کسی بھی جگہ کی حفاظت پر معمور کیا جاتا ہے وہ وہاں ڈیوٹیاں نہیں دیتے ،نزدیک بیٹھے گپیں ہانک رہے ہوں گے یا پھر چائے کی چسکیاں لگا رہے ہوں گے ۔جس نے بغیر چیکنگ گزرناہے مال لگائے اور گزر جائے وگرنہ وارداتیئے گذرہی نہیں سکتے۔آخر کوئٹہ ہسپتال کا حفاظتی عملہ کہاں تھا کہیں بھی نہیں تھا وہ ڈیوٹی کے بجائے کہیں سو رہے ہوں گے یا کاغذوں میں حاضر اور عملاً غیر حاضر ہوں گے۔تمام طبقات اور انتظامیہ کے کار پرداز سخت احتسابی شکنجے میں کسے جائیں معاشی نا ہمواری کا مکمل خاتمہ ہو۔معاشی دہشت گردوں کو بھی قرار واقعی سزائیں ملیں تو ہی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور بم دھماکے ختم ہو سکیں گے۔امریکی کی یاری جس نے سب کی مت ماری سے بھی چھٹکارا حاصل کریں تاکہ اس کے کردہ گناہوں کی سزاہم بے گناہوں کو نہ ملے۔تب جا کر پھر ضرب عضب ،نیشنل ایکشن پلان اور اس کے بعد ٹاسک فورس بنانے کی انشاء اللہ ضرورت ہی نہ پڑے گی عوام سکھ کا سانس لیں گے غربت مہنگائی بیروزگاری گہرے دفن اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گا۔

اتوار، 28 اگست، 2016

جنرل راحیل شریف۔۔۔راست اقدام اٹھائیں



موجودہ دور کی پہلی ریاست پاکستان ہے جو ایک خالصاسلامی و انسانی فکر و نظر کی بناپر معرض وجود میں آئی ہے جبکہدوسری ریاست اسرائیل ہے(جوخالصتاً یہود کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے قائم ہوئی) یہی وجہ ہے کہ دنیائے افق پر ایک سخت کشمکش بپاہے ایک ارض پاکستان اسلام و مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مصروف عمل ہے جس کی بشارت نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے کہ اس کے ایک حصے میں تکلیف و اذیت پہنچے تو دوسرا حصہ شدت الم سے تڑپ اٹھے کا مصداق ملک پاک ہے کہ دنیابھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں یا اسلامی تعلیمات پر حملہ ہوتاہے تو محبان اسلام پاکستانی فوج و قوم بے چین ہوجاتی ہے اور ان کی معاونت و مدد کے لئے پیش پیش رہتی ہے ۔چاہیے یہ پریشانی و دکھ کی کیفیت سے عراق و افغانستان دوچارہوں یا بورما،فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمان ہو ان کی ہمہ جہت استعانت کی ذمہ داری کا فریضہ بہادر و نڈر پاکستانی فوج اپنا قائدانہ کردار اداکرتی ہے۔ 
پاکستانی فوج نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جب مصروف عمل ہے اور ملک میں سخت گیر شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے ایکشن لے رہی ہے تو ایسے میں پاک آرمی کو بیرونی و اندرونی خلفشار سے دوچار کرنے کی سعی بے انتہاء شروع ہوچکی ہے ۔کب چاہیں گے یورپ و مغرب جو یہود و نصاریٰ کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں کہ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے اور بہادر و شجاع اور جرأت مند جانثار رکھتی ہے جو کہ ہر آن اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں تو اسرائیل و امریکہ اور ان کے حواریوں کو یہ سب ایک آنکھ بھی نہیں بھاتیں جس کے لئے وہ انڈیا سے مل کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کرانے کے ساتھ بلوچستان و کراچی میں را و موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کے ذریعہ داخلی طور پر اس عظیم مملکت کو دولخت کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔
بدقسمتی تو یہ ہے کہ ملک پاک میں بعض تنظیمیں ،جماعتیں اور شخصیات ملک پاک کی سالمیت کو نہ صرف سالمیت کو چیلنج کررہے ہیں بلکہ وہ شدومد کے ساتھ اس کے وجود کو تہہ وبالاکرنے کا بھی عزم کررہے ہیں۔جیسا کہ حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انڈیاکی حکومت و ایجنسی کو نمک حالی کا ثبوت دیتے ہوئے رذلیل کلمات کے ساتھ ایسی ہرزہسرائی کی جن کلمات کو یہاں نقل کرنا بھی غداری و دشمنی کا منہ بولتا ثبوت سمجھتاہوں۔اسی پر بس نہیں ہے بلکہ ایم کیو ایم کے قائد نے نیویارک میں بھی ایک پروگرام میں متنازعہ و خسیس کلمات کا استعمال ارض پاک کے خلاف استعمال کی ۔جس کے بعد اب لازمی و ضروری ہے کہ پاک فوج کے روح رواں ،مجاہد ملت ،محافظ پاکستان چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہاب بلاکسی تاخیر کے ان تمام قوتوں اور قیادتوں اور جماعتوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کا جلد سے جلد آغاز کریں جو ملک عظیم کو بیرونی و اندرونی سازشوں سے دوچار کرتے ہوئے اسے معاشی و معاشرتی ،شدت پسندی و دہشت گردی اور بدامنی و بے استقراری سے ہمکنار کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں اس میں سیاسی و مذہبی ،لسانی و قومی جماعتیں اور تنظیمیں جمہوریت کے تحفظ کے نام پر ملک پاک کو مشکلات سے دوچار کررہے ہیں۔ 
دیس کی بات
عتیق الرحمن
0313-5265617
atiqurrehman001@gmail.com

روائیت شکن بیٹا




پاکستان کے مختلف علاقوں کے جہاں رَسم و رواج مختلف ہیں وہیں انکی سیاست کا انداز بھی مختلف ہے۔ لاہور جسے پاکستانی سیاست کا کعبہ کہا جاتا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ہر بڑی اور کامیاب سیاسی تحریک کا خمیر لاہور سے اُٹھا۔ تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک نے وفاقی دارلحکومت کو یرغمال بنا کراور شاہراہ دستور پر طویل ترین دھرنے دے کرشایداس سیا سی تاریخ کو بدلنا چاہا لیکن نتیجہ یہی نکلا۔دھات کے تین پات۔ طویل ترین خواری تجربات کے بعد اب دونوں سیاسی کزنز نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ سیاسی تحریک کی کامیابی کا راز لاہور کی گلیوں میں دفن ہے۔ اورشاید یہی وجہ ہے کہ کل تک قومی اسمبلی اور وزیر اعظم ہاؤس پر چڑھ دوڑنے کے بیانات دینے والوں نے اب اپنی تحریکوں کو رُخ داتا کی نگری کی طرف موڑ دیا ہے۔
لاہور کی سیاست کے اپنے رنگ ہیں اور ان رنگوں کی خوشنمائی عوامی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ یوں تو لاہور کے کئی قابل قدر سیاسی کردار ہیں جنکی عظمت مُورخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ تاہم ان ناموں میں ایک بہت قدآور نام خواجہ رفیق شہید کا ہے جنکو لاہور کے لوگ انکی اسلام پسندی،دَرد مندی اور عوامی خدمت کی بنا پربُتوں کی طرح پوجھتے ہیں۔ انکے حوالے سے جب بھی لاہور جانا ہو، کسی عوامی محفل میں بیٹھیں، صحافی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں یا حلقہ ادب میں گفت و شنید ہو، ایسے واقعات سُننے کو ملتے ہیں کہ بسا اوقات وہ مافوق الفطرت کردار دیکھائی دیتے ہیں۔یار دوست کہتے ہیں کہ خواجہ رفیق سیاسی درویش تھے۔ حَرس اُن کو چُھوکے بھی نہ گذری تھی۔ ہر وقت دوسروں کی خدمت کے لیے کوشاں رہتے بلخصوص جب کوئی بے روزگار نوجوان ان تک پُہنچتاتو وہ اُس کو روزگار دلانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا کرتے ۔ سیاست کو کاروبار سمجھنے والے عناصر ہر دور میں موجود ہوتے ہیں جو اپنی چکنی چُپڑی باتوں سے سیاسی قائدین کو اپنے جال میں اُتارتے ہیں اور کرپشن کی ایک ایسی دلدل میں گھسیٹ دیتے ہیں جہان سے شاید وہ پوری کوشش کر کے بھی عمر بھر خلاسی حاصل نہیں کر پاتے۔خواجہ رفیق کو ایسے عناصر سے سخت نفرت تھی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے انتہائی مفلوک الحالی میں وقت گُزارہ لیکن کرپشن کی سُنڈیوں اور سیاسی جی حضوروں کو کبھی اپنے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ یہ سیاسی درویش اپنی آخری سانسوں تک اس پاک دھرتی پر اسلامی نظام کے حصول کے لیے جنگ لڑتا رہا۔
وقت بدلا، اقدار بدلیں، سیاست دولت کی لونڈی بن گئی۔ پھر چشم فلک نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ عظمت کے اس عظیم مینار کا سپوت خواجہ سعد رفیق اس روش پر چل نکلا جس کو پاش پاش کرنے کے لیے خواجہ رفیق نے ساری عمر جدوجہد کی تھی ۔ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اسکے پس منظر کہانی کیا ہے ؟ اسکے درپردہ کون سے عناصر کار فرما ہیں اور اس بارے میں میں وثوق سے کچھ نہیں کہ سکتا لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید حَرس، ہوس اور تمہ کی تند وتیز آندھیوں نے اس نوجوان کو ڈگمگا دیا ہو۔پاکستانی سیاست میں 1988کی دہائی کے بعد جس طرح پیسے کی شمولیت آئی شاید وہ بھی اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ رہی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس شخص کا باپ لوگوں کے باعزت روزگار کے لیے دَردَر دھکے کھاتا تھا اس کے بیٹے نے وفاقی وزیر ریلوے کا قلمدان سنبھالتے ہی سینکڑوں ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے ملازمت سے برخاست کروایا۔ ریلوئے کے سب سے منافع بخش یونٹ پاکستان ریلوئے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس میں ایک سازش کے تحت بدنام زمانہ افسرآفتاب اکبر کوبطور ایم ڈی تعینات کیا۔ زمینی حقائق یہ عیاں کرتے ہیں کہ وزیر موصوف اس منافع بخش یونٹ کو تالے لگانے کاپورا پورا پروگرام بنا چکے تھے۔ اس ادارے کے بے پناہ وسائل کو بے دری سے لوٹنے کا آغاز ہوا تا ہم خوش قسمتی سے ادارے کے ہی ایک ملازم نے آفتاب اکبر کے خلاف ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت کے حکم پر اُسے چار ج چھوڑنا پڑا ۔ بعد میں آنے والے ایم ڈی صاحبان نے بھی اس کار خیر میں پورا پوراا حصہ ڈالا لیکن شاید اُنکی کارکردگی آفتاب اکبر کے عشرِعشیر بھی نہ تھی۔ چنانچہ ایک بار پھر پاکستان ریلوے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے دوبارہ آفتاب اکبر کو ایم ڈی تعینات کر دیا گیا۔
آفتاب اکبر نے ایک مخصوص ٹولے کی بھرپور سرپرستی اور ادارے کے مفاد میں کام کرنے والے ملازمین کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ادارے میں کام کرنے والی باپردہ خواتین کی زندگی بھی اجیرن بنا دی اوریہ سارے واقعات اسکے پہلے دور تعیناتی میں خبروں کا حصہ رہے۔ریلوئے میرج گارڈن کی تنزین وآرائش میں لوٹ مار، گارگو کے ٹھیکیدارکو سوا کروڑ کی غیر قانونی معافی، تین سو سے زائد دکانوں کی تعمیر کا مارکیٹ پرائس سے بھی بھی انتہائی مہنگے داموں دئیے جانے والا ٹھیکہ اور ایسی ہی بے شمار کرپشن کی کہانیاں زبان زد وعام ہیں۔ پاکستان ریلوئے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس کے ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے جس طرح ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے اور من پسند ریلوئے افسران کو جس طرح یہاں تعینات کرکے ادارے کا بُھرکس نکالا جا رہا ہے اسکو دیکھتے ہوئے کوئی سطحی سوچ کا حامل شخص بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ پس پردہ عزائم کیا ہیں۔
میں سوچ رہا ہوں کہ کل جب اقتدار کا سورج ڈھل جائے گا اور یہ واقعات تاریخ کا حصہ بن جائیں گے تو مورخ کو اس روائیت شکن بیٹے کی داستاں لکھتے ہوئے کس قدر تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ باپ جسے دنیاوی لالچ چھو کر بھی نہیں گُزرا اور بیٹا جس کا یہ اولین منشور بن گیا ہے کہ اس نے گھروں کے چولہے سرد کر نے کا ٹھیکہ لے لیاہو۔ باپ جسکی ساری عمر اسلام کی سربلندی کے لیے لڑتے ہوئے گزر گئی اور بیٹا جسکی وزارت میں باپردہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔ باپ جو کرپٹ عناصر کو اپنے قریب نہیں بھٹکنے دیتا تھا اور بیٹا جسکے تمام بدنام افسران ناک کا بال ہیں۔ مورخ کو اس وزیر موصوف کا نام خواجہ رفیق کے ساتھ جوڑتے ہوئے سخت دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاید تاریخ اسے خواجہ سعد رفیق نہیں صرف سعد کے نام سے ہی جانے کیونکہ خواجہ رفیق کا نام اتنا معتبر ہے کہ وہ کسی ایسے نام کے ساتھ جوڑنا مورخ کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔اپنے والدین اور خاندان کی روائیات کو زندہ کھنے والے بیٹے تو تاریخ نے بہت دیکھے ہونگے لیکن اپنے باپ کی اچھی روایات توڑنے والا یہ روائیت شکن لاڈلا بیٹا شاید ایک ہی ہو۔

جمعہ، 26 اگست، 2016

پاکستان زندہ باد



ملکی سیاسی جماعتوں میں ہر سیاسی جماعت کا اپنا وقار ہوتا ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے وہ کسی بھی پوزیشن میں کیوں نہ ہو کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھا سکتی مگر آج یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کی بولیاں بول رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ہماری ریاست کی سستی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے کوئی انتہائی اقدام نہیں کرتی بلکہ ایک اور ،ایک اور کے فارمولے پر عمل پیرا رہتی ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس جیسے کئی دوسرے واقعات ایم کیو ایم کی تصویر کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنویئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اگرچہ یہ اعلان کیا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے ملک کے اندر سے ہوں گے اور وہ پاکستان مخالف نعروں میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور الطاف حسین کے بیان اور پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ان کے مذکورہ اعلان مبہم اور رابطہ کمیٹی لندن کے ساتھ مشاورت اور ملی بھگت کا نتیجہ اور ڈرامہ ہے سیاسی و عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ معافی قبول نہیں ہے انہیں اپنے کہے ہوئے لفظوں کی قیمت چکانا پڑے گی جو کہ خوش آئیند بات ہے کیونکہ ماضی میں بھی جب بھی لطاف حسین کی طرف سے ایسی حرکت کی جاتی رہی ہے اس کے فورا بعد وہ معافی مانگ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں بات قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے قومی مفاد کے منافی کام کرنے والے عناصر کی معافی قبول نہیں کرنی چاہے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی سزا دینی ہو گی الطاف حسین کی ہرزہ سرائی کے نتیجے میں جذبہ حب الوطنی کا ناصرف خون کیا گیا بلکہ عوامی جذبات کو شدید تکلیف پہنچائی گئی ہے آج یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر حکومت نے الطاف حسین کے ماضی کے اشتعال انگیز رویوں پر ان کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی کہ انہوں نے اعلانیہ پاکستان اور اس کی اہم شخصیات کے خلاف تقریر کی الطاف حسین کو اس ہرزہ سرائی کی اسی لئے ہمت ہوئی کہ انہوں نے سمجھا ماضی کی طرح اس بار بھی معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر لوں گا پاکستان اس کی فوج اور اہم عسکری شخصیات کے خلاف زہر اگلنے والا کسی معافی کا مستحق نہیں اس کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور ایک ایسی مثال قائم ہونی چاہے جس کے بعد کسی کو ایسی جرات نہ ہو ۔دوسری طرف کرئے کوئی بھر ئے کوئی کے مصادق اس ہرزہ رسائی پر ایک بار پھر معافی تلافی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں جو پاکستانی قوم کسی صورت قبول نہیں کریں گے آج جس طرح کے حالات ہیں اور ملک جس طرح کے کرائسس سے گزر رہا ہے اگر ہم نے ان باتوں کی معافی دے دی جن کا ڈائیریکٹ ہماری قومیت سے تعلق ہے تو پھر کل کلاں کو ہر کوئی اٹھ اٹھ کر ہمیں یوں ہی برا بھلا کہہ کر بعد ازاں معافی مانگ لے گا۔اس وقعے کے بعد عوامی رد عمل کو لہر اٹھی اس کو دیکھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی ظاہر کی تاہم ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کا اعلان بدستور یہ واضح کرتا ہے کہ الطاف حسین اب بھی ایم کیو ایم کے قائد ہیں انہوں نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کئے ہیں اور کارکنوں و ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ وہ رابطہ کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں دوسرے لفظوں میں اگرچہ پارٹی کے تمام اختیارات کو کراچی کی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ متحدہ کی قیادت تبدیل نہیں کی گئی عوام کی غیض و غضب سے پارٹی کو بچانے کیلئے ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے چند دنوں یا ہفتوں کے بعد دوبارہ سب کچھ پرانی پوزیشن پر آجائے گا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے پاکستان مردہ باد کہا اس مملکت کو ناسور قرار دیا اور فوج کی اہم شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ اب بھی ایم کیو ایم کا قائد ہے پاکستان کے عوام یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غدار اس ملک کی ایک سیاسی پارٹی کی قیادت پر فائز رہے ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی اس حوالے سے جواب دینا ہے کہ جس نے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ ان کی پارٹی کا قائد کیسے ہو سکتا ہے اگر ایم کیو ایم اسے اب بھی اپنا قائد تسلیم کرتی ہے تو اس طرح اس کا اپنا کردار مشکوک اور سوالیہ نشان بنا چکی ہے ڈاکٹر فاروق ستار ابھی تک الطاف حسین کو قائد تسلیم کرتے ہیں جو فرد بھی الطاف حسین کو قائد تسلیم کرے گا پاکستان کے عوام اورمملکت کا قانون اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ نئی قیادت کے بارے میں بلا تاخیر اعلان کریں اور اس بات کی پابندی ہونی چاہیے کہ الطاف حسین پارٹی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی اگر ڈاکٹر فاروق ستار اور کراچی میں موجود ان کے ساتھی واقعی سچے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے عوام اور قانون کو دھوکہ نہیں دیا توانہیں جلد از جلد نئی قیادت کو سامنے لانا ہوگا دوسری صورت میں عوام ان کا اختساب کریں گے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ کی حکومت سے رجوع کرکے درست اقدام کیا ہے جس کی تائید پوری قوم کرتی ہے اور اس بات کی امید رکھتی ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی صورت ملک دشمن لوگوں کو ڈھیل نہیں دی جائے گی خواہ اس کیلئے کوئی سیاسی مصلحت ہی آڑے کیوں نہ آ جائے ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ہرز رسائی پر مکمل قانونی کاروائی کرئے اور جو سزا غدار وطن کے لئے آئین میں تجویز کردہ ہے اس کو الطاف حسین پر لاگو کرئے اور اگر ممکن ہو سکے تو انٹر پول کے ذریعے سے الطاف حسین کو پاکستان لایا جائے اور اس سے اس بات کی جواب طلبی کی جائے کہ جس ملک نے اسے نام ،اور مقام دیا کس طرح غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اس نے اسے مردہ باد کہا کیونکہ یہ سرزمین ہماری دھرتی ماں ہے اور جس نے اس کو مردہ باد کہا اس نے ماں کو گالی دی اور جس نے اس گالی پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا وہ بھی ملک سے مخلص نہیں آج ایک بات بڑی واضح ہو گئی کہ جس طرح پورے ملک سے الطاف حسین کے بیان پر رد عمل ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج ہم ایک ہیں آج اگر ہم نے تفرقوں کو ختم کرنا ہے تو پھر سندھی ،پنجابی ،مہاجر کو چھوڑ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا ہو گا ۔