جمعہ، 20 اپریل، 2018

ترنول پریس کلب کے صحافیوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا،اسد عمر

ترنول پریس کلب کے صحافیوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا،اسد عمر
دیہی علاقوں کے صحافیوں کی پاس وسائل نہ ہونے کے باوجودبھی مثبت صحافت کرنا لائق صد تحسین ہے،ایم این اے
صحافی عوامی مفاد کی خاطر اپنا سکھ چین قربان کردیتے ہیں،ضیاء اللہ شاہ، صحافی حق و سچ کے علمبردار ہوتے ہیں،سید امداد علی شاہ
ترنول(نمائندہ خصوصی)ترنول پریس کلب نے ہمیشہ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا،دیہی علاقوں کے صحافیوں کی پاس وسائل نہ ہونے کے باوجود مثبت صحافت لائق صد تحسین ہے۔ایوارڈ حاصل کرنے والوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ علاقہ کے مسائل کو بہتر انداز سے اجاگرکریں۔ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے اسلام آباداسد عمر نے ترنول پریس کلب رجسٹرڈ اور آئیڈیاز مارکیٹنگ کے تعاون سے دیہی علاقوں کے صحافیوں کوحسن کارکردگی ایوار ڈدینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین واسا راولپنڈی ضیاء اللہ شاہ نے کہا کہ صحافی معاشرے میں آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ سماجی طبقوں کے حالت ترقی و تنزلی پر باریک بین نظر رکھتے ہیں اور وہ عوامی مفاد کی خاطر اپنا سکھ چین قربان کردیتے ہیں۔ آئیڈیاز مارکیٹنگ کے چیف ایگزیکٹو سید امداد علی شاہ نے کہا کہ صحافی حق و صداقت کے علمبردار ہوتے ہیں اورترنول پریس کلب کی گذشتہ تین سالہ خدمات اس کی عملی تعبیر ہیں۔ترنول پریس کلب کے سینئر صحافیوں محمد اسحاق عباسی،اظہر حسین قاضی، وسیم الرحمن بھٹی، عتیق الرحمن،سرفراز گجر ،سید اشتیاق کاظمی،راجہ عبدالحمید،نور الامین،اختر شہزاد،حاجی سلیم،آصف مقصود ،عدنان بری،رفعت علی قیصر،حسن علی شاہ، میر عاصم،شوکت محمود،راجہ شبیر،واصف یار علی،ذوالفقار علی، عمران شہزاد شیخ، ابدال عباسی،یاسین بلوچ کو مثالی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دئیے گئے۔تقریب میں امیر جمعیت اہلسنت والجماعت قاری عمر فاروق شاہ، چیئرمین جھنگی سیداں حاجی گلفرازخان،سیاسی و سماجی رہنما راجہ جان عباسی،ایریاایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر احسان ،جنرل کونسلر ابرار عباسی، لیبر کونسلر محمد اعجاز عباسی،قاضی سجاول ،ظہیر اعوان ،میر زمان،مشتاق نقوی،رانااکرام،عاصم میرودیگر نے شرکت کی۔


منگل، 26 دسمبر، 2017

سید ابو الحسن علی ند وی کا تصو ر پا کستا ن

سید ابو الحسن علی ند وی کا تصو ر پا کستا ن   
خصوصی تحریر: بسلسلہ یوم وفات 31دسمبر1999ء  
 تحر یر عتیق الر حمن  (اسلام آ با د )
(مضمون نگار وفاقی اردویونیورسٹی اسلام آباد میں ایم فل اسلامیات کا طالب علم ہے،شعبہ صحافت سے گذشتہ 10سال سے وابستہ ہے ملک کے بڑے چھوٹے جرائد میں ''دیس کی بات'' کے نام سے مضامین اشاعت پذیرہوچکے ہیں۔علمی و مطالعاتی شعبہ میں سید ابوالحسن علی ندوی کی کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔اسی کی روشنی میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے فکری پیام کے انتقال کیلئے علی میاں کی یوم وفات کے سلسلہ میں یہ مضمون تحریر کیا ہے ۔جس کو شائع کرکے ممنون فرمائیں۔)
بر صغیر میں مسلما نو ں کے آ ٹھ سو سا لہ دور کے خا تمے کے بعد انگر یز نے اپناتسلط قا ئم کر لیا تو اسلا می حمیت و غیر ت رکھنے والے اہل فکر و دا نش نے جد و جہد آ زا دی کی طر ح ڈالی جس کا آ غا ز اما م شا ہ ولی اللہ محد ث دہلو ی کے زما نہ میں ہو ا کہ انہوں نے مسلمان خلفاء کی کمزوری و پستی پر قابوپانے کیلئے اور دشمنوں کو مغلوب کرنے کیلئے احمد شاہ ابدالی سے مدد طلب کی۔ پھر ان کے فر زند ار جمند شاہ عبد العزیز نے بر صغیر کو دارالحر ب قر ار دیکر مسلما نو ں کو ہجر ت کی تر غیب و دعو ت دی جس کے سبب بہت سے مسلما ن افغا نستا ن ہجر ت کر جا نے میں کا میا ب ہو گئے تو افغا نستا ن کے حکمر انو ں نے اسلا می اور انسا نی ہمد ردی و حمیت سے عا ری ہو کر مسلما نو ں کو اپنے ملک میں دا خلے سے رو ک دیا ۔اس کے بعد شا ہ عبد العزیز کے شا گر د رشید سید احمد شہید  اور عا لم جلیل شا ہ اسما عیل شہید نے بر صغیر کے مسلما نو ں کو ظا لم و جا بر غیر مسلم حکمرا نو ں سے نجا ت دلانے کیلئے تحر یک آ غا ز کیا جو بنیا دی طو ر پر کا میا ب ہو ئی کہ ان کی جدوجہد سے پشاور و نواح کے علاقوں میں اسلامی نظام کا نفاذ عمل میں آیاچو نکہ اسکی رگو ں میں سید زا دوں کا اخلا ص اور صا لح عمل اور نیک ارادہ شا مل تھا مگر پھر اغیا ر کے کا سہ لیس چند مفا د پر ست مسلما نو ں نے غدا ری و دھو کہ دہی کا مظا ہر ہ کیا جس کے سبب دو نو ں مجا ہد ین حر یت و آ زا دی سید احمد شہید اور سید اسما عیل شہید  با لا کو ٹ کے پہا ڑو ں میں جا نثا ر وں کے ہمر اہ جا م شہا دت نو ش کر گئے ۔ اس جانی و مالی قر با نی کا نتیجہ تھا کہ مسلما نان ہند انگر یز کے تسلط سے آ زا دی کے حصول میں کمر بستہ ہو گئے اور بلآ خر تحر یک آ زا دی میں ہز اروںنہیں لا کھو ں انسانو ں کی قر با نیو ں کے نتیجے میں ایک الگ خا لص اسلا م کے نظر یہ پر ریا ست کا قیا م پا کستا ن کے نا م پر عمل میں آ یا ۔
ملک پا ک کے قیا م کے بعد بہت سے مسلما ن ہند وستا ن میں رہنے پر مصر رہے کیو نکہ ان کا مد عا یہ تھا کہ الگ ریا ست کے قیا م سے مسلما نو ں کی وحر یت تقسیم ہو جا ئیگی اور متحد ہ ہند وستا ن کے نتیجے میں ممکن ہے کہ تاریخ گم گشتہ کی بہا ریں مسلمان دو با رہ حا صل کر نے میں کا میا ب ہو جا ئیں مگر عوامی مقبو لیت مستقل ریا ست کا نعر ہ لگا نے والے قا ئد ین کو ملی ۔اس کے با وجو د بر صغیر کی چو ٹی کے علما ء جن کا اپنے زما نہ میں طو طی بو لتا تھا نے بھی پا کستا ن کے قیا م کے بعد اس کو احتر ام وعزت کی نگا ہ سے دیکھا ۔ یہا ں تک کہا کہ مسجد کی تا سیں کے وقت اختلا ف ہو تا ہے کہ کو ن سی جگہ پر قا ئم ہو مگر اسی کے قیا م کے بعد اس کی حفا ظت اور احتر ام میں کو ئی دقیقہ فر و گز اشت نہیں کیا جا سکتا ۔یہی وجہ ہے کہ مجلس احر ار اسلا م کے قا ئد سید عطا ء اللہ شا ہ بخاری،علامہ سید سلیمان ندوی ،مولانا ابولااعلیٰ مودودیسمیت متعدد مقتدر شخصیا ت نے با و جو د متحد ہند و ستا ن کے نعرہ کے حا می ہو نے کے پا کستا ن میں حیا ت با قی ماندہ گزارنے کا فیصلہ کیا ۔بھا رت میں سکو نت اختیا ر کر نے والے علما ء و مشائخ کے دلو ں کی دھڑ کنیں اور آ رزو ئیں ملک پا کستا ن کی حفا ظت و بقا کیلئے ہمیشہ ساتھ رہیں ۔یہی نہیں کہ وہ ملک پا کستا ن کی تعمیر و تر قی کے خو اہا ں تھے بلکہ وہ اس مملکت خدا د کو مسلما نا ن عالم کا بعد از خدا سہا را و مدد گا ر تصو ر کر تے تھے اوروہ یہ خو اہش رکھتے تھے کہ پا کستا ن عا لم اسلا م کی عملی زند گی میں قیا دت کر تے ہو ئے دنیا بھر کے مظلومو ں کی دادرسی کر ے اور بطو ر آ ئیڈ یل ومثا ل اسلا م کے نظا م کا نفا ذکر کے ظا لم وسرکش عالم کفر کے سا منے ما دی و نظر ی دنیا میں نما 
یا ں مقا م حا صل کر ے ۔
ہند وستا ن کے عظیم مفکر و دانشو ر اور دا عی جن کا احترا م عر ب و عجم کے علما ء و مفکر ین بر ابر کر تے تھے میر ی مرا د سید ابو الحسن علی ند وی (علی میا ں ) ہیں ۔وہ دنیا بھر کے مسلم و غیر مسلم مما لک کا با ریک بینی سے جا ئز ہ لینے کا بعد یہ کہتے نظر آ ئے کہ پا کستا ن اسلا می دنیا کی رو ح ہے ۔عا لم عر ب اور اسلا می مما لک میں زند گی کی نئی رو ح پید ا کر نے کیلئے پا کستا ن کو اپنا کر دار ادا کر نا ہو گا ۔اسلا م کے عقا ئد پر ایک نیا یقین ایک نیا اعتما د ایک نیا ولو لہ عمل اور ذمہ دا ری جسے ادا کر نے سے او نگھتی ہو ئی آ ما دہ زوال اور ڈ گمگا تی قو مو ں کو نئی زند گی اور نیا جو ش و خر و ش ملے پا کستا ن پر عا ئد ہو تی ہے (مو لانا ابو الحسن علی ند وی حیا ت و افکا ر کے چند نمو نے۔ترتیب :سفیر اختر )وہ یہ بھی فر ما تے تھے کہ پا کستا ن عا لم اسلا م کی فکر ی راہنما ئی کا ذمہ دا ر ہے پا کستا ن جس نظر یے کا دا عی و علم بر دار ہے اس کا تقا ضا یہی ہے کہ یہ ملک دنیا بھر میں اس نظر یہ حیا ت کے ما ننے وا لوں کیلئے ایک فصیل اور مثا ل کا کا م دے ۔دنیا کے جس گو شے میں بھی اسلا م اور مسلما نو ں کو کو ئی صد مہ پہنچے ان کی نگا ہیں پا کستا ن کی طر ف اٹھیں تو کبھی نا مراد نہ لو ٹیں۔ ما ضی میں جو مقا م سلطنت عثما نیہ کو حا صل تھا وہ اس مملکت خداد کے حصہ میں آ ئے ۔علی میا ں  پا کستا ن کو تین اہم بیما ریو ں سے پا ک دیکھنے کے خو اہشمند تھے جس کا اظہا ر انہو ں نے دورہ پا کستا ن کہ مو قعوں پر اجتما عا ت سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا ۔انہوں نے فرمایا کہ یہ ملک اس وقت تک صحیح معنو ں میں مستحکم نہیں ہو سکتا تا و قتیکہ اس میں لسا نی و علا قا ئی عصبیت کے سر طا ن کو قر یب نہ بھٹکنے نہ دیا جا ئے کیو نکہ اس کے سبب نظر یہ پا کستا ن جو در اصل نظر یہ اسلا م ہی ہے پا رہ پا رہ ہو جا ئے گا اور ہر ایک اپنی زبا ن و علاقے کو فو قیت دینے کی بجا ئے اپنے وطن سے محبت کر تے ہو ئے اعتما د واتفا ق کا مظا ہرہ کر یں اور دو سر ی جس خر ابی سے پا کستا ن کو محفو ظ دیکھنا چا ہتے تھے وہ یہ تھی کہ فر وعی اختلا فا ت کی مباحث کو خا لص علمی اور علما ء کے حلقو ں میں محدود کر کے عا مة المسلمین کو علمی وکلامی محنتوں سے الگ کر دینا چا ہتے تھے کیو نکہ کم علم افراد فقہی و کلا می مبا حث کے اختلا ف کے نا م پر فتنو ں کو اٹھا نے کے مو جب بن سکتے ہیں جس سے ملک کی سلا متی کو نقصا ن پہنچنے کا قو ی امکا ن ہے ۔ اسی طر ح تیسر ی با ت جس سے وہ پا کستا ن کے مسلما نو ں کو پا ک دیکھنا چا ہتے تھے ۔وہ یہ کہ فر قہ بند یو ں اور گر وہ پسندی میں غلو کہ ہر ایک انسا ن اپنی جما عت کو حق بجانب سمجھ کر دو سر وں کو غلط و با طل خیا ل کر کے ان کے مقا بل صف آ راء ہو جائے ، یہ امر بھی زوال ملت کا سبب ہے ۔
(گز شتہ 70بر س کی تا ریخ کو دیکھاجائے تو واضح معلو م ہو تا ہے کہ ان مذکو ر ہ با لا خر ابیو ں نے ملک پا کستا ن کو نا قا بل تلا فی نقصا ن پہنچا یا ہے یہا ں تک کہ ملک مغربی و مشرقی حصوں میں دولخت ہو ا (پاکستان اوربنگلہ دیش) ۔ملک میں سیا سی و مذ ہبی، لسا نی و علا قا ئی بنیا دوں پر قتل و غا رت کا نا ختم ہو نے والا سلسلہ دیکھنے کو ملا جس کا نتیجہ ہے کہ ہما رے بعد آ زاد ہو نے والے مما لک کئی ہزا ر درجہ تر قی کی منا زل طے کر چکے ہیں اور ہما رے یہاں اب بھی یہ بحث الیکٹر انک و پر نٹ میڈ یا پر قصد اًرواج دی جا تی ہے کہ با نی پا کستا ن قا ئد اعظم محمد علی جنا ح  اسلا می ریا ست بنا نا چا ہتے تھے یا سیکو لر یہ امرمقا م عبر ت و شر مند گی ہے کہ ہم نے لا کھو ں مسلما نو ں کی روحو ں کا خو ن کر دیا۔راقم) یہی وجہ ہے کہ مو لا نا ابو الحسن علی ند وی  نے پا کستا ن کے دو لخت ہو نے کے سا نحے پر غم وا لم اور حز ن وملا ل کے آ نسو بہا تے ہو ئے اس کی وجہ اور نقصا ن کو بیا ن کر تے ہو ئے فر ما یا کہ'' میر ے نز دیک اسی کی سب سے بڑ ی وجہ اسی قو م میں صحیح دینی شعورکی کمی تھی قلب کے ساتھ دما غ کا مو من ہو نا بھی ضر وری ہے ۔تنہا اسلا م کی محبت کا فی نہیں اس کے ساتھ خلا ف اسلا م فلسفوں اور دعو تو ں کی نفر ت بھی لا زمی ہے بلکہ قر آ ن مجید میں متعدد مقا ما ت پر طا غو ت اور شیطا ن اور جا ہلیت کے داعیوں سے بغا وت اور بیز اری کا ایما ن با للہ سے پہلے ذکر کیا گیا ۔''اورپس جو کو ئی سر کشی کاانکا ر کر کے اللہ پر ایما ن لے آ یا اس نے ایک ایسا مضبو ط سہا را راتھا م لیا جو کبھی ٹو ٹنے والا نہیں (سورہ بقر ہ 256)''سقوط ڈھا کہ کا نقصان بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعا ت کا شر منا ک پہلو یہ ہے کہ اس سے مخا لفین کو اسلا م کی نا کا می کے ثبو ت کیلئے ایک دلیل ہا تھ آ ئی اور انہو ں نے اس سے یہ نتیجہ نکا لا کہ اسلا م میں را بطہ بننے اور مختلف قو مو ں اور نسلو ں کو (جن کی زبا نیں اور رنگ نسل مختلف ہیں )متحد کر نے کی صلا حیت نہیں ہے نیز یہ کہ اسلا می عقیدہ کی بنیادپرکسی معا شر ہ اور کسی ریا ست کے قا ئم ہو نے ،اور اگر قا ئم ہو جا ئے تو با قی رہنے کا امکا ن نہیں یہ وہ معنو ی خسا رہ ہے جس کا کو ئی خسا رہ مقا بلہ نہیں کر سکتا ۔اس سے اسلا م کی سا کھ کو بہت بڑ ا نقصا ن پہنچا ہے اور آ پ جا نتے ہیں کہ تجا رت میں اصل چیز سا کھ اور اعتبا ر ہے (کا رو ان زند گی  جلد دوم 133-136)۔''
مند رجہ بالا کلا م سے قا ری یہ اند ازہ ہر گز نہ لگا ئے کہ علی میا ں قیا م پا کستا ن کے بعد کے حا لا ت کا مشا ہد ہ کر کے ہمیشہ کیلئے نا امید و ما یو س ہو گئے بلکہ انہو ں نے ہمیشہ بحیثیت مؤرخ تا ریخ کے اسا سی اصو لوں کوپیش نظر رکھتے ہو ئے ما فا ت کے برے حالات و واقعات سے درس و عبرحا صل کر تے ہو ئے زوال کے اسبا ب کا بغو ر جا ئز ہ لے کر نو جو انو ں کو وہ راہنما اصو ل بتلائے کہ ان کو اختیا ر کر کے ارض پا کستا ن کو گل گلز ار بنا یا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بحیثیت مسلم قر آ ن و سنت سے اکتسا ب فیض کے بعد لا زمی ہے امت کے ان محسنوں کی تعلیما ت کا بھی بنظر عمیق اور علم کے بیکر اں کے وسیع سمند ر سے بھی خو شہ چینی کر کے دنیا و آ خر ت کی کا میا بی و کا مر انی اور اقبا ل مند ی کیلئے سعی و کو شش کی جائے۔چو نکہ علم و تحقیق کسی رسم و روایت کا نا م نہیں بلکہ یہ رویہ بے لو ثی اور اقبا ل مند ی کا متقاضی ہے کہ ریت کے ذرا ت پر قد م جما نے سے کچھ حا صل نہیں ہو سکتا اس کیلئے قر آ ن حکیم کی سو رہ کہف میں مذ کو ر نو جو ا نو ں کے جذ بے و لو لے اور جر أت کو بطو ر مثا ل اختیا ر کر نا ہو گا اسی لیے مو لا نا علی میا ں  نے نو جو انو ں کو اپنے اندرتین او صا ف پیدا کر نے کی دعو ت دی ۔اول:نو جو انو ں کا وجو د صر ف اپنے ہی نہیں بلکہ دو سرو ں کیلئے بھی نفع مند ہو کہ انکے ذریعے ملت کے طبقات و افراد کو رہنما ئی وہدایت ملنے کے ذرا ئع میسر آ ئیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ بد ھ ازم یاغا لی صو فیا کی طر ح گیان و معرفت کے حصو ل کیلئے گو شہ نشینی اختیا ر کر لی جا ئے اور دنیا کو اپنے افکا ر حق سے محر وم کر دیا جا ئے ۔فر ما ن نبو ی ۖبھی ہے کہ لا رہبا نیہ فی الا اسلا م ''اسلام میں گوشہ نشینی نہیں''کہ دنیا سے قطع تعلق ہوجایا جائے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی کیلئے سعی و کوشش کی جائے۔دو سر ی صفت جو نو جو انو ں کو اپنے اندر پیدا کر نے کی ضرو رت ہے وہ یہ ہے کہ نو جو ان نسل اپنے اندر استغنا کی صفت پیدا کر یں ۔یعنی کہ حا جا ت و ضر وریا ت دنیو ی کی تکمیل کیلئے اسرا ف و تبذیرکو شعا ر بنا نے کی بجا ئے کفا یت شعا ری اور قنا عت پسند ی کو اختیا رکریں کہ بقدر ضر ورت ما ل ودو لت حا صل کر نے کی سعی کی جا ئے نہ کہ ھل من مز ید کو اختیا ر کیا جا ئے کہ عیش و عشر ت کیلئے جا ئز و نا جا ئز اور دست سو ال در از کر کے ما ل و متا ع جمع کی جا ئے ۔بد یہی امر ہے کہ حر ام ما ل اور لو گو ں سے مدد و استعا نت طلب کر نے والاشخص دین حنیف کیلئے آزادانہ طورپر صا لح و نا فع کا م کر نے سے عا جز ہو تا ہے کہ اس کی زبا ن گنگ اور قلم خشک ہو جا تا ہے حا کم و معا ون کے ڈرو خو ف سے۔ اس لیے اس عجز و کمز وری سے اجتنا ب کر تے ہو ئے استغناء کو اختیا ر کر لیا جا ئے ۔تیسر ی با ت جس کی مو لا نا ابو الحسن علی ند وی  نے ملت اسلا میہ کے نو جو انو ں کو تر غیب دی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے شعبہ علم وفن میں کما ل مہا رت حا صل کی جا ئے کہ دنیا بھر کے لو گ ان سے اخذ کر نے کی خو اہش رکھنے لگیں اور با صلا حیت قو م کو دنیا کی کو ئی قو م تسخیر نہیں کر سکتی جیسا کہ تا ریخ شا ہد ہے کہ اوائل کی پا نچ صدیو ں تک ریسر چ و تحقیق اور فحص و تمحیص کے میدا ن کے شا ہسوار رہے تو ان کا طو طی چہا ر دانگ عا لم بو لتا نظر آ تا تھا۔ یو رپ و مغر ب با و جو د حقد اور تعصب کے بھی ان کی خدادصلا حیتوں کا اعتراف کر نے پر مجبو ر ہواہے۔ مسلما نو ں نے یو نا نی ورو می اور فا رسی تہذ یبو ں کے علوم و افکار کے ورثہ سے دل کھو ل کر استفا د ہ کر نے کے ساتھ اس میں یہا ں اضا فہ کر تے ہو ئے علم کیمیا ء ،علم جر احت ،علم ریا ضی ،علم فلکیا ت و نجو م ،علم طب اور فن تعمیر سمیت تا ریخ و جغر افیہ و غیر ہ جیسے علو م و فنون میں اپنا یگانہ نا م پیدا کیا کہ مغر ب کی اقو ام اسلا می مملکت کے طو ل و عر ض میں مفت تعلیم حا صل کر تی رہیں ۔
مولاناعلی میاں  نے ملت اسلا میہ کے شبا ب کو جہا ں اسلا می غیر ت و حمیت اختیا ر کر نے کی دعو ت دی ہے کہ ان کی نظر میں اسلا م محکو م نہیں بلکہ حا کم بننے اور قیا دت و سیا دت کی با گ ڈور سنبھالنے کیلئے آ یا ہے ۔ نبی اکر م ۖ کی بعثت کے ساتھ خیر امت کی بعثت کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کیلئے ظلمتو ں اور گمر اہیوں سے نجا ت حا صل کر نے کا واحد تر یاق اسلا م ہی ہے جو خا لق ارض و سما ء کی جا نب سے محبوب تر ین بندہ و پیغمبر پر اتا را گیا ۔و ہیں پر مو لا نا نے نو جوا نو ںکیلئے انداز تحر یر و تقر یر کوبہتر بنا نے کیلئے بھی ہدا یا ت بیا ن کر دیںہیں کہ قر آ ن و سنت کے بعد کتب سیر اور تا ریخ جن میں صحا بہ و تا بعین اور آئمہ کے حا لا ت و معمو لا ت مد ون ہیں سے رہنما ئی حا صل کر نے کے ساتھ ما ضی قریب کے مشہو ر مفکر ین اور ادبا ء اور علماء کبار کی کتب سے مستفید ہو نے کی تر غیب بھی دی کہ مطا لعہ اور تحر یرو ں کی مشق کیلئے اس وقت نو جو انو ں کو مو لا نا شبلی نعمانی  ،مو لا ناالطاف حسین حا لی ،علا مہ اقبا ل ، اکبر الٰہ آ با دی ،مو لا نا سید سلیما ن ند وی ، مو لا ناابولکلام آ زاد،مو لا نا ابو الاعلی مو دودی ،مو لا نا عبدالما جددریاآبادی ،ڈاکٹر سید عا بد حسین ،چو ہد ری غلا م رسول مہر،مو لا نا شا ہ معین الد ین ند وی کی کتا بو ں اور تحر یر وں کامطا لعہ کر نا چا ہیے۔ علی میاں  نے یہ بھی بیا ن کیا ہے کہ جہاں پران کی شخصیت کو نکھارنے میں بہت سی کتب و شخصیات کا کردار ہے وہیںپر مذکو رہ بالاشخصیا ت کا حصہ بھی نما یا ں ہے ۔
بیسو یں صدی کا آ خر ی سو رج غر وب ہو نے سے چند گھنٹے قبل مسلما نان عالم ایک عظیم صد مے سے دو چا ر ہو 
ئے ۔رمضا ن المبا رک اور 31دسمبر 1999 ء نما ز جمعہ سے قبل بحا لت تلا وت کلا م اللہ مفکر اسلا م ، امت مسلمہ کے عظیم داعی مو لا نا ابو الحسن علی ند وی  مشر ق و مغر ب، عر ب و عجم کے کر وڑوں مسلما نو ں کو سوگو ار چھو ڑ کر جو ار رحمت میںمنتقل ہو گئے ۔آ ج ان کو ہم سے جد ا ہو ئے 17بر س بیت چکے ہیں مگر ان کی کتب اور شا گر د وں کی بد ولت علم وعمل کا فیضا ن تا حا ل جا ری و سا ری ہے چو نکہ جس علم و عمل میں اخلا ص شا مل ہو تو خدا ئے لم یز ل اس پیغا م اور دعوت کو زند ہ و جا وید رکھنے کا سا ما ن خود پید ا کر تا ہے ۔اللہ تعا لیٰ سے دعا ہے کہ مو لا نا علی میا ں  پر کر و ڑہا کر وڑ رحمتیں اور را حتیں نازل کرے اور ان کے مر قد کو جنت کے با غ کا حصہ بنا ئیں اور ملت اسلا میہ کے بہی خو اہو ں کو قرا  ن و حدیث کے ساتھ ان کی تعلیما ت و کتب سے استفادہ کی تو فیق عنا یت کر ئے ۔آ مین 
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


جمعرات، 1 ستمبر، 2016

سعد رفیق سے معذرت کے ساتھ


کسی یورپی ملک کا قصہ نہیں بلکہ یہ مکروہ کھیل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پوری دیدہ دلیری کے ساتھ کھیلا گیا اور کھیلا جارہا ہے ۔اس کہانی کا ہر لفظ ہماری بے حسی سے تعبیر ہے اور اس کو سن کر ، دیکھ کر ، سمجھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے ۔ یہ دھرتی جو بے پناہ قربانیوں کے بعد اس لیے حاصل کی گئی تھی کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا مگر کون جانتا تھا کہ یہاں سب سے زیادہ مشکل میں ہی اسلام پسند طبقہ ہوگا ۔
12 فروری 2014 ء کو بعض قومی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری یہ خبر پڑھ کر میں ششدر رہ گیا ۔ اس ہولناک خبر کا خلاصہ یہ تھا پاکستان ریلوے کے ساتویں یونٹ پراکس میں باپردہ خواتین کے پردے پر ایم ڈی آفتاب اکبر کو اعتراض ہے مذکورہ ایم ڈٰ ی کے زبانی احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے کی پاداش میں تین خواتین کو سخت عتاب کا نشانہ بنایا گیا ۔
بہ طور اخبار نویس مجھے اس خبر پر سخت تشویس تھی اس کی ہولناکی کا اندازہ تھا اگر چہ یہ خبر پاکستان کی انتہائی معتبر نیوز ایجنسی نے جاری کی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود اس کی تحقیق اس لیے ضروری تھی کہ وزارت ریلوے کا قلمدان خواجہ سعد رفیق کے پاس تھا جن کا تعلق اس خاندان سے تھا جس کی اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں میں دنگ تھا کہ خواجہ رفیق شہید کے بیٹے کی ناک تلے یہ شرمناک کھیل کیسے ممکن ہے ۔
صحافت میں تحقیق ایک کھٹن مرحلہ ہے ہر لمحہ بدلتی صورتحال نے اخبار نویسوں کو اس قدر مصروف کردیا ہے کہ بسا اوقات تو خبر کا فالو اپ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہ اس قدر نازک مسئلہ تھا کہ میں نے انتہائی غیر جانبداری سے تمام حقائق کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور تقریباً پورے دو سال ایک ادارے کے معاملات پر نظر رکھے رہا ۔ دوران تحقیق ہولناک کرپشن سمیت کئی ایسے پہلو میرے سامنے عیاں ہوئے کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ پاکستان ریلوے کے اس منافع بخش یونٹ کو ایک سازش کے ذریعے جس طرح تباہ کیا جارہا ہے ۔ اور سینکڑوں ملازمین سے رزق چھین کر پراکس کے اثاثوں کو لپیٹ کر اسے تالے لگانے کے جس منصوبے پر باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ کام ہورہا ہے اس پر آئندہ کسی کالم میں پوری تفصیل سے لکھوں گا۔ 
میری تحقیق سے کچھ مزید ہولنا ک حقیقتیں بھی سامنے آئیں ۔ فروری 2014ء میں آفتاب اکبر نامی شخص نے پراکس کے ایم ڈی کا چارج سنبھالتے ہی پردے کا مذاق اُڑایا اور زبانی احکامات جاری کیے کہ ہیڈ آفس کی باپردہ خواتین مجھے دکھائی نہ دیں ۔ان احکامات پر آفس کی تین باپردہ خواتین نے احتجاج کیا اور اسی دفتر کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل شکیل نامی شخص نے بھی ایسے احکامات کو غیر قانونی اور غیر شرعی قراردیا جس پر مذکورہ افسر نے حکمت عملی بدل دی اور اب ان خواتین اور ان کی حمایت کرنے والے افسر کی شامت آگئی ۔ ایک خاتون کو حیلے بہانے سے ملازمت سے ہی برطرف کردیا گیا ۔ باقی دونوں باپردہ خواتین کی ٹرانسفر ایسے مقامات پر کردی گئی جہاں انہیں پبلک ڈیلنگ کرنی تھی ۔
آفتاب اکبر کی ٹرانفسر کے بعد یہ کھیل وقتی طور پر رک گیا اس دوران کئی ایم ڈی آئے اور ٹرانسفر ہوئے ان میں بعض افسران انتہائی نیک
نیت اور ایماندار بھی تھے تاہم اسی دوران شکیل نامی ڈپٹی ڈائیریکٹر کوبھی ملازمت سے برخواست کردیا ۔
اگست 2016ء میں آفتاب اکبر کو ایک بار پھر ایم ڈی پراکس تعینات کیا گیا اس نے اپنا مکروہ کھیل دوبارہ شروع کردیا ہے ۔ ایک طرف تو اس منافع بخش یونٹ کی تالہ بندی کی تمام تیاریاں آخری مراحل میں ہیں دوسری طرف راولپنڈی ریلوئے سٹیشن انکوائری اور بکنگ پرتعینات خواتین کو یونیفارم کے نام پر بے پردہ کردیا گیا ہے ۔ماضی میں صدائے احتجاج بلند کرنے والی باقی ماندہ دوخواتین کو ملازمت سے برخواست کرنے کیلئے بے جاتنگ کرنا شروع کردیا گیا ہے ۔
میں اپنی اس ساری تحقیق کے بعد انتہائی حیران اور پریشان ہوں کہ اس دیس میں مادر پدر آزاد خواتین کیلئے تو آئے روز قانون سازی ہوتی ہے ۔ہمارے حکمرانوں ان کے حقوق کیلئے مرے جارہے ہیں لیکن اسلامی شعائر کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی خواہش مند خواتین کیلئے تو ملازمت کے مواقع تک ختم کیے جارہے ہیں ۔ دیگر اداروں میں بھی یقیناًباپردہ خواتین ایسے ہی مسائل کا شکار ہونگی مگر انتہائی معذرت کے ساتھ خواجہ سعد رفیق سے گزارش ہے کہ آپ کے زیر سایہ اداروں میں بھی اگر یہی سب کچھ ہونا ہے تو پھر ہم کسی اورسے کیا گلہ کریں ۔
آزادی ٹرین پر دادیں سمیٹنے والے وزیر موصوف کا ش یہ جان لیتے کہ یہ آزادی اصل میں ہے کیا ؟ یہ آزادی مسلمانوں نے اس لیے حاصل کی تھی کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادی سے اپنی زندگی بسر کرسکیں گے ۔وزیر موصوف کو اپنے نام کے حصے خواجہ اور رفیق کا بھر م ضرور رکھنا چاہیے ۔
میں نے گزشتہ روز ایوان بالا اور زیریں میں بیٹھے علماء اور وفاق ہائے مدارس کے احباب سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں اور دیگر علمائے کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں ۔

منگل، 30 اگست، 2016

’’ نالا‘‘ (انشائی تحریر)


’’نالا‘‘کاایک مطلب گریہ و زاری ہے۔اس مطلب میں علامہ اقبال کے ہاں ’’نالا‘‘کابہت استعمال ہے۔اس نے مسلمانوں کی عظمت گزشتہ پر بہت نالا و فریاد کیاہے۔خاص طورپردورغلامی میں علامہ کاجنم اس کی خاص وجہ بنی۔اپنے کلام میں نالا کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تو دورجام مجھ تک پہنچاہے تب تک تو وہ محفل ہی برخواست ہو چکی ہے۔بانگ دراکی متعدد نظمیں انہوں نے مسلمانوں کی بدحالی پر نالا و فریاد کرتے ہوئے گریہ و زاری میں لکھی ہیں۔وہ امت مسلمہ کوایک گلستان سے تعبیر کرتے ہیں اور دورغلامی کواس گلستان میں خزاں کامصداق سمجھتے ہوئے خود کوایک بلبل قراردیتے ہیں جوہمہ وقت اس گلستان کی بربادی پر نالہ کناں ہے۔ اقبال نے اپنے نالے میں زوال کے بہت سارے تجزیے پیش کیے ہیں،دورغلامی کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہیں اوراسی نالے کی آڑمیں وہ مسلمانوں کو درس عبرت بھی دے گئے۔بلبل کو ایک نغمہ اور خوشی کے گیت گانے والا پرندہ سمجھاجاتاہے لیکن اقبال کے ہاں یہ خوشی کے راگ الاپنے والا پنکھی اب ’’نالا ‘‘پر مجبور ہے اور ہمہ وقت امت کی حالت زار پرنوحہ کناں ہے ۔علامہ نے اس نالا کنائی پر فرزندان توحیدکو نیند سے بیدارکرنا چاہا ہے اور اس کے بعد امید کی کرن بھی دکھائی ہے کہ اگر اس نالا کی روشنی میں تجدیدسفرکیاجائے اور رکے اور تھمے ہوئے کاروان کو باردیگرجادہ پیماکیاجائے توکچھ بعید نہیں کہ عظمت گزشتہ ایک بارپھر امید بہارنومیں تبدیل ہوجائے اور بلبل کایہ نالا گلشن میں بادبہاری کا باب امید واکردے۔
’’نالا‘‘ کے بعد نون غنہ کے اضافہ سے لفظ’’ نالاں‘‘ بھی بنایاجاسکتاہے۔’’نالاں‘‘کامطلب ناراض اور خفاہونا ہے۔شاعرہمیشہ اپنے محبوب سے ’’نالاں‘‘رہتاہے اور جب بھی محبوب سے ملاقات ہوتی ہے تو شکایات کے انبار لگادیتاہے۔عاشق کو کبھی کبھی محسوس ہوتاہے کہ اس کا محبوب بھی اس سے ’’نالاں‘‘ہے،تب وہ اپنے محبوب سے مزید نالاں ہوجاتاہے اور اسے کہتاہے کہ ہم نے تمہارے کتنے ناز نخرے اٹھائے اور تم پھر بھی نالاں ہو کہ ہم نے تمہاراحق ادانہیں کیا۔گویا’’نالا‘‘کے ساتھ نون غنہ کااضافہ شاعر اوراس کے محبوب کے لیے کوئی اچھاشگون ثابت نہیں ہوئے اور ’’نالاں‘‘کاہروقت’’نالا‘‘ان کے لیے روا ہوگیا۔محبت میں ’’نالاں ‘‘ہوجانا اس لیے بھی ضروری ہے محبت کے قابل صرف خدا کی ذات ہی ہے ،جب انسان کسی غیرخدا سے محبت کرے گاتو اس سے خداجیسی توقعات ہی لگابیٹھے گااورجب وہ توقعات پوری نہیں ہوں گی تو’’نالاں‘‘کاعمل شروع ہوجائے گا جس سے کل زمانے کا شعری ادب بھرا پڑاہے۔اگرچہ بعض لوگ تو خداسے بھی ’’نالاں‘‘نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ خداکومحبوب کی بجائے اپنا عاشق سمجھ بیٹھتے ہیں اور عاشق کا کل تاریخی کردار’’نالاں‘‘سے ہی عبارت ہے۔
’’نالا‘‘کاایک اور مطلب پانی کی گزرگاہ بھی ہے۔اس کے ساتھ سابقوں اور لاحقوں کے اضافے سے پانی کی گزرگاہ کی ہیئت اور کمیت میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔مثلاََ ’’نالا‘‘سے پہلے ’’پر‘‘لگادینے سے نالا اڑنے تو نہیں لگ لیکن یہ ’’پرنالا‘‘بن جاتاہے جس کا مطلب چھتوں پر لگاہواپانی کے اخراج کا راستہ ہے۔جب بھی چھت بنائی جاتی ہے تواس کابہاؤ پرنالے کی طرف رکھاجاتاہے تاکہ پانی دوڑتاہوا ڈھلوان کی طرف چلاجائے اور چھت سے خارج ہوجائے ۔اس فارمولے کے تحت پانی اسی طرح نیچے کی طرف چلاجاتاہے جس طرح بڑوں کاغصہ چھوٹوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔اگر’’نالا‘‘پہاڑوں کے درمیان ہو تو اسے ’’پہاڑی نالا‘‘کہتے ہیں یا’’رودکوہی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہاڑی نالا دراصل پہاڑوں کی گریہ و زاری ہے ،اس لیے کہ ’’نالا‘‘کااصل مطلب تویہی ہے۔پہاڑ پر برف جمے یابارش ہو،دونوں صورتوں میں اس سے آنسوجیسے قطرے ٹپکتے ہیں جو گریہ کرتے ہوئے پہاڑی نالے میں بدل جاتے ہیں۔گویایہ بے جان مخلوق بھی اپنے خلاق کے سامنے گریہ شکراداکرتی ہے۔اگر پانی کی گزرگاہ کسی خوبصورت وادی سے ہو شاعر اورادیب لوگ اسے’’ندی نالے‘‘کانام دیتے ہیں اور مصورحضرات اپنی تصویروں میں جب کسی خوبصورت مقام کا نقشہ کھینچتے ہیں تواس میں بہتے پانی کا ’’ندی نالا‘‘ضرور دکھاتے ہیں۔ندی نالے کابہناخوشحالی اور تونگری کی نشاندہی کرتاہے جب کہ اگرندی نالے خشک ہوجائیں تویہ بری دنوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔اگر یہی پانی کی گزرگاہ کسی شہر کے اندر ہو اس پانی سے بدبو کے جھونکے برآمد ہو رہے ہوں تو اسے ’’گندانالا‘‘ کہتے ہیں جس میں سارے شہر کا استعمال شدہ پانی شہر سے باہر نکال دیاجاتاہے۔جب کبھی بارش ہوتی ہے تو اس ’’گندے نالے‘‘کا ظرف کم پڑ جاتاہے اور گنداپانی اسی طرح گھروں کے گٹروں سے ابلنے لگتاہے جس طرح دنیابھر کی غلاظت سے بھری تہذیبی یلغارگھروں میں گھس کر ہماری ثقافت کو بھی بدبوداربنانے میں لگی ہے،لیکن جس طرح بارش تھمتے ہی یہ مغلظ پانی اپنی اوقات میں لوٹ جاتاہے اسی طرح بہت جلد یہ آلودہ وبدیسی تہذیبی یلغاربھی اپنے نشیب کوسدھارچکے گی۔
’’نالا‘‘کاایک اور مطلب ازاربندیاکمر بندبھی ہے۔یہ رسی کی طرح کی ایک پرتکلف ڈوری ہوتی ہے جسے پاجامہ یاسلوار کے نیفے میں پرو کر کمر سے باندھ دیاجاتا ہے اور اس طرح لباس کایہ حصہ جسم سے الگ نہیں ہوپاتا۔جب کبھی یہ کپڑااتارنامقصود ہوتو اس نالے کو ڈھیلا کر دیاجاتا ہے ۔جس صنم کی کمر بہت پتلی ہوتی ہے یاہوتی ہی نہیں توہمیں کیامعلوم کہ وہ نالا کہاں باندھتے ہوں گے۔ایک زمانے میں خواتین کے پراندے اور نالے بہت قسم کے سستے ،مہنگے،ریشمی،سوتی ،چم چم کرتے لش پشی اور ٹیپ ٹاپ والے دیدہ زیب اور نہ معلوم کیسے کیسے ہوا کرتے تھے۔اب پراندے تو دیہاتوں تک ہی محدود ہوگئے اور نالوں کے بارے میں ہماری معلومات محدودہیں۔نالا کو سلوار میں ڈالنے کے لیے ایک ’’نالہ پانی‘‘بنائی جاتی ہے جس کی دم سے نالا باندھ کر سلوار کے نیفے سے گزاراجاتاہے۔اس نالہ پانی کو ’’نالہ بندی‘‘یا’’کمربندی‘‘یا’’ازاربندی‘‘بھی کہتے ہیں بعض علاقوں کی مقامی زبان میں اس کو مختصراََ’’کلی‘‘بھی کہاجاتاہے۔بعض یارلوگ یہ کام اپنے قلم یا دانتوں کی صفائی والے برش سے بھی لے لیتے ہیں،جبکہ بازاروں میں رنگ برنگی ،مختلف دھاتوں اورخوشبودارلکڑی یا جانور یاپرندے کے کسی خوبصورت حصے سے بنی ’’نالہ پانیاں‘‘بھی دستیاب ہوتی ہیں،اس طرح کی نالہ پانیاں جہیز میں بھی دی جاتی ہیںیا پھر مہمان خانے کی دیوارپر آویزاں ہوتی ہیں۔بعض لوگ نالے کی جگہ الاسٹک بھی استعمال کرتے ہیں۔اس صورت میں نالاکھولنے یا باندھنے کے تکلف سے نجات مل جاتی ہے ۔عموماََ بچوں کے زیرجامہ میں الاسٹک ہی ڈال دیاجاتاہے ۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی اور جب وہ اپنے سسرال رہنے گئے تو انہیں شب باشی کے لیے سلوار تھما دی گئی۔وہ ان کے سسر حضورکی سلوار تھی۔واپس آکر انہوں نے ہمارے کان میں سرگوشی کی کہ اس سلوارمیں الاسٹک ڈلا ہواتھا،اس پر ہمارے صحبت کشت زعفران بن گئی۔اب یہ نہیں معلوم کہ وہ بزرگوارصرف رات کے زیرجامہ میں الاسٹک استعمال کرتے تھے یادن میں بھی ان کی یہی عادت تھی۔زیرجامہ کے نالے کو ڈیڑھ گرہ لگائی جاتی ہے تاکہ ایک پہلوکھینچ کر آسانی سے کھولا جاسکے۔لیکن اگر دو گرہیں لگ جائیں یا نالا کھولتے ہوئے اس کا ایک پہلو نیفے میں ہی داخل ہو جائے تو کوفت کاایک کوہ گراں آن گرتاہےْ پہلی صورت میں نالے کاکھلنا محال اور دوسری صورت میں نالے کی تلاش محال۔انگریزنے اس کا حل بیلٹ کی صورت میں نکال لیاہے۔ہم نے سنا ہے کہ دورجدیدمیں دلہن کی سہیلیاں اس کے نالے کو بہت ساری گرہیں لگادیتی ہیں،اس کا پس منظرتوسمجھ میں آجاتاہے لیکن اس بات میں کتنی صداقت ہے ؟؟اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریک حقوق نسواں سے خوف آتاہے۔دھوتی،چادریالنگی پہننے والے غم نالا گیری سے آزاد ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چادر کے ہی دو پلووں کو آپس میں جوڑ کر نالے کاکام نکال لیتے ہیں۔
نالے کے ان تمام معانی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک حکایت جنم لیتی ہے ،جس میں گریہ و زاری،پانی کی گزرگاہ،نالاں ہونااورزیرجامے کاازاربند سبھی شامل ہوجاتے ہیں۔قدیم زمانے کی بات ہے جب بسیں چلنا شروع ہوئی تھیں توایک خاتون خانہ نے شوہر کے کپڑے دھوئے لیکن سہواََنالا دھلنے سے رہ گیااور گندانالا ہی اس کی سلوار کے نیفے میں پرودیاگیا۔اس آدمی کو شہر کسی کام سے جانا تھا ،شام کوپلٹاتو وہ اپنی زوجہ سے نالاں تھا اور اس نے اپنانالا ان الفاظ میں بیان کیا کہ تمہاری وجہ سے مجھے دومیل پیدل چلنا پڑا ہے۔بیوی نے وجہ دریافت کی تو شوہر نے بتایا کہ ہمارے اڈے سے دومیل پہلے ہی بس کے لڑکے نے آواز لگا دی تھی کہ گندے نالے والے اتر جائیں۔

دہشت گردی کے ذمہ داران۔۔۔انتظامیہ اور حکمران


سول حکومت ہمہ قسم مسائل سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے جب پاک فوج سے مل کر ایک پلان مرتب کرلیا گیاتو پھر اس میں کوتاہی تو انتظامیہ اور سویلین اداروں کی طرف سے ہی ہو تی ہے کہ وہ اس ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل در آمد نہیں کرتے ایسی کوتاہی قومی جرم قرار دی جانی چاہیے اور ذمہ دار خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے حکومتی عہدہ پر ہی متمکن کیوں نہ ہوں سخت احتساب کے قابل ہیں تاکہ کوئٹہ جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔مگر ادھر سویلین حکمرانوں کو اپنے آپ کو پانامہ لیکس سے کلئیر کروانے کی دھن سوار ہے اس لیے انھیں کیا پرواہ ہے وہ تو سینکڑوں حفاظتی حصاروں میں مقید ہیں جہاں دہشت گردوں کی گرد بھی نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ دیکھ رہے ہیں جو بڑے منصف اور پوری کائنات کے اصلی حکمران و بادشاہ ہیں اگر کسی دنیاوی 'بادشاہت 'کے دوران بیچارے غیر مسلح وکلاء،سول سوسائٹی کے افراد ،بچوں کے سکول و پارک ٹارگٹ ہوکر ہلاکتیں ،شہادتیں ہوتی رہیں تو ایسی سبھی دہشت گردانہ وارداتوں کے ذمہ دار حکمران ہی ہوتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے فرمایہ تھا کہ اگر ایک کتا بھی دریا کے کنارے بھوکا مرگیا تو روز محشر میں ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاؤں گا۔خلفائے راشدین کے دور میں قحط پڑ گیا تو کھانے پینے کی اشیاء کی معمولی چوریوں پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کرڈالی گئی اور حضرت علیؓ کا فرمان کہ"جو لوگ بھوکوں مرتے ہیں وہ غلہ گوداموں پرپل کیوں نہیں پڑتے"دہشت گردی کا اصل توڑ تو انتظامیہ اور پولیس کے ذمہ ہوتا ہے وہ آجکل عیدیاں بنانے کے غلیظ گھن چکروں میں مصروف ہیں اور ٹریفک پولیس نے تو ات مچائی ہوئی ہے ہر سواری خواہ وہ بار برادری کی ہو یا انسانی سفر والی روک کر عیدی مانگتے ہیں۔جو پہلے "نذرانہ"پیش کیا جاتا تھا جب وہی رقوم اب بھی دی جاتی ہیں تو ٹریفک والے لینے سے انکار کردیتے اور فرماتے ہیں کہ" اسیں بکرا نہیں لینااسی وی قربانی کرنی ایں"خدا کے بندوں سے کوئی یہ پوچھے کہ یہ حرام روزی سے خریدا گیابکرا ذبح ہوا تو یہ واقعی ثواب ہوگا ؟ یا اس طرح مزید گناہ گار قرار پائیں گے؟کہ "رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں" مگر صنعتکار حکمرانوں کے اس سیاہ دور میں رشوت ستانی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ صنعتکار حکمران اور ان کے عزیز و اقارب دوست احباب ،ان کی دیکھا دیکھی دیگروزراء و مقتدر شخصیات کروڑوں کا مال پانی بنا رہے ہیں اور بیرون ممالک پلازے فلیٹس خرید رہے ،پانامہ لیکس کی جگہ کسی اور جگہ لیکس میں مال دھڑا دھڑ جمع ہورہا ہو گا۔ اور چونکہ سبھی بڑی مقتدر سیاسی جماعتوں اور نام نہاد اپوزیشنی راہنماؤں کے ہاتھ اسی سرمایہ بناو مہم میں گرد آلود ہیں اس لیے احتساب تو کیا ہو گا ایک دوسرے کو بچانے کے لیے تگ ودو جاری ہے۔پورے ملک کا وڈیرہ انگریز کے ٹوڈی پالتوجاگیردار اور نو دولتیے سود خورسرمایہ دار طے کیے ہوئے ہیں کہ سبھی بڑی پارٹیوں کو بھاری چندہ لگا کر گھس جاناہے اوراہم عہدوں پر فائز ہو کرپارٹی کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اس طرح مزید کروڑوں ڈالروں کا کاروبار چمکانا ہے۔اکا دکا کو چھوڑ کر سبھی بڑی پارٹیاں سیاست نہیں بلکہ امارت کے لیے کو شاں ہیں مال بناؤ اور بیرون ملک ڈمپ کردو یہی اصل پرو گرام ہے اچھا کھاؤ اچھا پہنو اچھا کماؤ یہی ماٹو بن چکا ہے غریب پس رہا ہے پچپن فیصد سے زائد کے گھروں میں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ۔ 72فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے گزر بسر کررہے ہیں ۔دنیا کے غلیظ ترین سودی نظام جس کے سبھی سویلین حکمران اور نام نہاد اپوزیشنی راہنمایان ہمیشہ ہی محافظ بنے رہتے ہیں اس نے امیرکو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرڈالا ہے۔ اور محمدﷺ کا فرمان کہ سود سے غربت بڑھتی ہے بجا ہے ۔معاشی تفاوت کے بڑھنے سے طبقاتی کشمکش بڑھ جاتی ہے لو گ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں غریب خودکشیاں اور خود سوزیاں کرتے اور امیر خمر و شراب و کباب میں مشغول ہو کر غریبوں کی طرف توجہ ہی نہیں کر پاتے اسی سے دہشت گردی بھی فروغ پاتی ہے کہ غریبوں کو ایک "اچھا کاروبار" مل جاتا ہے کہ یہ کام کرو اور اتنا مال خواہ پہلے ہی وصول کرلو۔
اگر ہم معاشی دہشت گردوںیعنی وڈیروں جاگیرداروں سود در سود وصول کرنیوالے صنعتکاروں کو بھی مکمل احتسابی عمل سے گزارتے رہیں گے تو دہشت گردی بھی فروغ نہ پاسکے گی معاشی ناہمواریوں کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ میٹرو بس چلانا ۔کہ اگر ایسے اربوں روپے ہڑپ کر جانے والی اور کروڑوں کک بیکس وصول ہونے والی سکیمیں نہ بھی ہوں گی تو کیا پہلے لوگ سفر نہ کرتے تھے۔کیا وہ خود کو پر لگا کر آسمان میں اڑ کر دوسری جگہ پہنچتے تھے ؟ہر گز نہیں ۔مگر"ٹڈنہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں جھوٹیاں"کی طرح غربت مکاؤ سکیم چلانے کی جگہ حکمرانوں نے 69سال سے غریب مکاؤ مہم چلا رکھی ہے۔ ذراسوچئے کہ ایک نشہ آور چیزوں کا بھراٹرک کوئٹہ پشاور سے کیسے کراچی اور بیرون ملک ٹرانسفر ہو جاتاہے ۔بس ہر پولیس چوکی پر مال دیتے جاؤ اور گذرتے جاؤ۔کوئی پوچھ گچھ نہیں۔اسی طرح جن پولیس والوں کو کسی بھی جگہ کی حفاظت پر معمور کیا جاتا ہے وہ وہاں ڈیوٹیاں نہیں دیتے ،نزدیک بیٹھے گپیں ہانک رہے ہوں گے یا پھر چائے کی چسکیاں لگا رہے ہوں گے ۔جس نے بغیر چیکنگ گزرناہے مال لگائے اور گزر جائے وگرنہ وارداتیئے گذرہی نہیں سکتے۔آخر کوئٹہ ہسپتال کا حفاظتی عملہ کہاں تھا کہیں بھی نہیں تھا وہ ڈیوٹی کے بجائے کہیں سو رہے ہوں گے یا کاغذوں میں حاضر اور عملاً غیر حاضر ہوں گے۔تمام طبقات اور انتظامیہ کے کار پرداز سخت احتسابی شکنجے میں کسے جائیں معاشی نا ہمواری کا مکمل خاتمہ ہو۔معاشی دہشت گردوں کو بھی قرار واقعی سزائیں ملیں تو ہی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور بم دھماکے ختم ہو سکیں گے۔امریکی کی یاری جس نے سب کی مت ماری سے بھی چھٹکارا حاصل کریں تاکہ اس کے کردہ گناہوں کی سزاہم بے گناہوں کو نہ ملے۔تب جا کر پھر ضرب عضب ،نیشنل ایکشن پلان اور اس کے بعد ٹاسک فورس بنانے کی انشاء اللہ ضرورت ہی نہ پڑے گی عوام سکھ کا سانس لیں گے غربت مہنگائی بیروزگاری گہرے دفن اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گا۔